کورونا وائرس: غیر ملکی این جی اوز کیلئے کام کرنے کا طریقہ کار جاری

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2020

ای میل

غیرملکی این جی اوز اپنی مرضی سے کسی شعبے  میں کام نہیں کریں گی —فوٹو: اے ایف پی
غیرملکی این جی اوز اپنی مرضی سے کسی شعبے میں کام نہیں کریں گی —فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے کورونا وائرس کے خلاف حکومت کو سہولت فراہم کرنے والی رجسٹرڈ شُدہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کے کام کرنے کا بنیادی طریقہ کار (ایس او پی) کا اعلان کردیا۔

ساتھ ہی حکومت نے کورونا وائرس سے متعلق کام کرنے والی آئی این جی اوز کو این او سی (تصدیق نامہ عدم اعتراض) جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

مزیدپڑھیں: آئی ایم ایف کا کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد کا عندیہ

وہ تمام آئی این جی اوز جو پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے اشتراک سے کام کررہی ہیں انہیں این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ایس او پی کے مطابق آئی این جی اوز کو مالی اعانت کے ذرائع اور ملک میں کام کے علاقوں (اضلاع / تحصیل) کا واضح ذکر کرنا ہوگا اور اپنے پلان آف ایکشن کے 4 سیٹ پیش کرنا ہوں گے۔

علاوہ ازیں حکومت کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کرنے والی آئی این جی اوز کو ہی ایس او پی کے مطابق کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

مزید برآں آئی این جی اوز پروجیکٹ کی تکمیل کے 15 روز کے اندر این ڈی ایم اے / پی ڈی ایم اے کو تصدیق شدہ رپورٹ جمع کرانے کی پابند ہوں گی۔

مزید پڑھیں: پنجاب، بلوچستان میں 3 ڈاکٹرز میں کورونا کی تشخیص، ملک میں متاثرین 1369 ہوگئے

یہ بھی طے کیا گیا کہ آئی این جی اوز صرف 8 شعبوں میں کام کرسکیں گی جو حکومت کی جانب سے باقاعدہ منظور شدہ ہوں گے جبکہ کسی بھی آئی این جی او کو کورونا وائرس کے ہنگامی معلامات کے دوران نئے شعبے میں کام کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ 2015 میں حکومت نے ملک میں آئی این جی اوز کے کام کو ہموار کرنے اور ان کی سہولت کے لیے ایک پالیسی فریم ورک بنایا تھا۔

اس فریم ورک کے تحت تمام غیر ملکی این جی اوز کو آن لائن ہی وزارت داخلہ کے ساتھ خود کا اندراج کرانا ضروری ہے اور اس کے بعد حکومت کے اعلان کردہ نئے قواعد و ضوابط کے تحت مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جاتے ہیں۔

نئے طریقہ کار کے تحت رجسٹریشن کے لیے زیادہ سے زیادہ 144 آئی این جی اوز نے درخواست دی تھی جن میں سے 75 کی منظوری دی گئی اور انہوں نے حکومت کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔


یہ خبر 28 مارچ 2020` کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی