بھارت: کورونا وائرس سے گرو بلدیو کی موت، 15ہزار افراد کے متاثر ہونے کا اندیشہ

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2020

ای میل

گرو بلدیو سے 15ہزار افراد کے وائرس کی زد میں آنے کا اندیشہ ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
گرو بلدیو سے 15ہزار افراد کے وائرس کی زد میں آنے کا اندیشہ ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

بھارت میں سکھ مذہب کے مشہور گرو بلدیو سنگھ کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے جس کے بعد ان سے مبینہ طور پر وائرس کا شکار ہونے والے ہزاروں افراد کو قرنطینہ کردیا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 70 سالہ سکھ گرو بلدیو سنگھ یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک اٹلی اور جرمنی کا دورہ کر کے واپس لوٹے تھے اور وہاں سے واپس لوٹنے کے بعد انہوں نے پنجاب میں درجنوں دیہاتوں کے ہزاروں افراد کو تبلیغ کی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب میں کیسز 500 سے تجاوز کر گئے، تعداد 1492 ہوگئی

مقامی ڈپٹی کمشنر ونے ببلانی نے کہا کہ گرو سے رابطے میں رہنے والے 19 افراد کا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ مزید 200 لوگوں کے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

یہ بھارت میں اب تک کورونا وائرس سے منسلک سامنے آنے والا سب سے بڑا کیس ہے کیونکہ ابھی بھی متعدد لوگوں کے ٹیسٹ ہونا باقی ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بڑی تعداد میں لوگ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

گرو کے گاؤں ضلع بنگا کے سینئر مجسٹریٹ گورو نے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ گاؤں میں سے 15 کو 18مارچ کو سیل کردیا گیا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ ان دیہاتوں میں 15 سے 20 ہزار لوگ موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان میں لاک ڈاؤن میں نرمی، معمولات زندگی بحال ہونے لگے

گرو اور ان کے دو ساتھیوں کے یورپ سے واپس لوٹنے کے بعد انہوں نے حکومت کی جانب سے خود کو قرنطینہ کرنے کے احکامات کو نظر انداز کیا جس کے نتیجے میں گرو بلدیو بیمار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے۔

اس خبر سے بھارت کی بڑی آبادی خصوصاً گرو کے عقیدت مندوں کو بڑا صدمہ لگا ہے اور کینیڈا کے مشہور گلوکار کی جانب سے گرو کے لیے بنائے گئے گانے کو اب تک 25 لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت میں لاک ڈاؤن: روزگار کے خاتمے، بھوک کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی

بھارت میں اب تک 918 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور اب تک 19 افراد وائرس کی زد میں آکر ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوا ارب سے زائد آبادی کے حامل ملک بھارت میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 30 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔