لاک ڈاؤن کے باعث ملک میں بجلی، گیس اور تیل کی طلب میں واضح کمی

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

پیر کے روز بجلی کی طلب 8 ہزار 500 میگا واٹ تک کم ہوگئی—فائل فوٹو: اے ایف پی
پیر کے روز بجلی کی طلب 8 ہزار 500 میگا واٹ تک کم ہوگئی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: کورونا وائرس کے باعث ملک میں بجلی، قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے جس سے رسد کی فراہمی میں سنگین آپریشنل اور مالی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ بجلی کی کھپت 30 فیصد کم ہوگئی ہے جس کے بعد حکام روانی برقرار رکھنے کے لیے ان علاقوں میں بھی بلا تعطل بجلی کی فراہم کرنے پر مجبور ہیں جہاں نقصان کی شرح کافی زیادہ ہے۔

مثال کے طور پر گزشتہ برس ہونے والی کھپت کی بنیاد پر لگایا گیا تخمینہ 12 ہزار 500 سے 13 ہزار میگا واٹ تھا لیکن پیر کے روز بجلی کی طلب 8 ہزار 500 میگا واٹ تک کم ہوگئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جنوری اور فروری میں بجلی کی کھپت تخمینے کے تقریباً برابر رہی جو 11 ہزار 500 میگا واٹ سے 12 ہزارمیگا واٹ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا سے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی، رپورٹ

اس کے برعکس مارچ میں بجلی کا نظام چلانے والوں کی جانب سے 15 ہزار میگا واٹ کے تخمینے کے باوجود کھپت 10 ہزار سے 10 ہزار 500 میگا واٹ رہی۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اپریل کے لیے بجلی کی کھپت کا تخمینہ 18 ہزار گیگا واٹ ہے لیکن موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس ہدف تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آرہا۔

انہوں نے واضح کیا کہ نہ صرف کووِڈ 19 بلکہ ملک میں بارشوں کے حالیہ سلسلے کی وجہ سے بھی بجلی کی طلب متاثر ہوئی لیکن سب سے زیادہ کمی لاک ڈاؤن کی وجہ سے صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش کے باعث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا نتیجہ چارجز میں اضافے کی صورت میں نکلے گا جس سے بالآخر صارفین کے لیے قیمتیں متاثر ہوں گی اور کمپنی کو نقدی کے بہاؤ میں مسائل کا سامنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: تجارتی افسران برآمدات کے آرڈرز کی منسوخی پر کام کریں گے

اسی طرح گیس کی کھپت میں 40 سے 50 فیصد کمی ہوئی ہے اور صارفین کی جانب سے کم استعمال کی وجہ سے گیس نیٹ ورک کی لائنوں میں بھری ہوئی گیس تشویشناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔

اس کے علاوہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد میں بڑی کمی کردی گئی ہے کیوں کہ درآمد کرنے والی کمپنیوں کو لیکویڈیٹی کے نقصانات اور خسارے کا سامنا تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں گیس کی فروخت نصف ہوگئی ہے مثلاً سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) میں ایل این جی کی فروخت لگائے گئے تخمینے 800 ملین کیوبک فیٹ یومیہ کے بجائے کم ہو کر 430 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگئی۔

اسی طرح سی این جی کا شعبہ بھی 40 ایم ایم سی ایف ڈی کے تخمینے کے برعکس صرف 15 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اشیا کی بلاتعطل سپلائی کیلئے وزیر اعظم کی تمام ہائی ویز کھولنے کی ہدایت

یوں موجودہ صورتحال میں صرف کھاد کے پلانٹس کا فعال ہونا ہی گیس کمپنیوں کے لیے واحد امید ہے جبکہ توانائی کے شعبے سے بھی اپریل میں 450 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی کے آرڈرز دیے گئے تھے جو اب موجودہ صوتحال میں غیر یقینی دکھائی دے رہے ہیں۔