’حکومت قرنطینہ مراکز، آئی سی یو میں آنے والے صحافیوں کو حفاظتی کٹ فراہم کرے گی‘

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے اسلام آباد میں ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کیا - فوٹو:ڈان نیوز
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے اسلام آباد میں ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کیا - فوٹو:ڈان نیوز

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس یا کووڈ 19 وبائی امراض کے بارے میں رپورٹ کرنے کے لیے قرنطینہ مراکز اور انتہائی نگہداشت یونٹوں (آئی سی یو) کے دورے کرنے والے صحافیوں کو حفاظتی کٹ فراہم کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ صحافی کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلد ہی ایک ’کیئر فار میڈیا‘ (میڈیا کا خیال رکھنا) موبائل ایپ لانچ کرے گی جو صحافی برادری میں سے کسی میں کورونا وائرس کے تصدیق ہونے پر معلومات اور علاج کے لیے مدد فراہم کرے گی۔

مزید پڑھیں: وبا کے دنوں میں کس طرح پاکستانی غریبوں کی مدد کر رہے ہیں؟

میڈیا مالکان کو پریس کلبز کو ساتھ ملانے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہاکرز ہوئے ہیں کیونکہ اخباروں کی تقسیم میں خلل پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ان (ہاکروں) کو حکومت کے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں بھی شامل کیا جائے گا‘۔

انہوں نے رواں مالی سال کے اختتام سے قبل میڈیا کے واجبات کی ادائیگی کی منظوری پر بھی زور دیا۔

صحتیاب ہونے والوں کو ٹی وی پر بلائیں، فردوس عاشق اعوان

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گزارش کی کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کو ٹی وی پروگرامز میں مدعو کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے لوگوں میں وبا کے حوالے سے پھیلے خوف و ہراس کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے معاشرے میں ایسے مریضوں کو درپیش امتیازی سلوک میں بھی کمی آئے گی۔

مثبت خبروں (صحت یابی کے بارے میں) کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سارا دن منفی سننے سے اور مسلسل تعداد میں اضافہ ہوتا دیکھ کر لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے‘۔

انہوں نے قوم سے بھی درخواست کی کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں کو ’تیسرے درجے کے شہریوں‘ کی حیثیت سے پیش نہ کریں اور مزید کہا کہ وزیر اعظم نے بھی منگل کو کابینہ کے اجلاس میں اس کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’صحت یاب ہونے والے مریضوں کو ایئر ٹائم دے کر ہم عوام کی سوچ کو تبدیل کرسکتے ہیں‘۔

'کرونا ٹائیگرز فورس' کا نام تبدیل کریں، وزیر صحت سندھ

اجلاس کے دوران وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ کورونا ٹائیگر فورس کا نام تبدیل کرکے غیر جانبدار کردیں۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس: ترقی پذیر ممالک کی آمدن کو 22کروڑ ڈالر کا نقصان متوقع

ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کرے گی اور وزیر اعظم کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی مشورے پر عمل کرے گی۔

فردوس عاشق اعوان نے اس کے جواب میں کہا کہ ’وجہ سے زیادہ نام اہم تھا‘ اور وزیر اعلیٰ سندھ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم سے اس پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

ناصر حسین شاہ اور فردوس عاشق اعوان دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس کا مقصد کورونا وائرس سے متعلق صحت کے بحران پر قابو پانا تھا۔