جاپان کا پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے 21 لاکھ ڈالر سے زائد تعاون کا اعلان

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

جاپان کی حکومت نے کووڈ-19 (کورونا وائرس) سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ذریعے 21 لاکھ 60 ہزار ڈالر تعاون کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پاکستان میں قائم جاپان کے سفارت خانے سے جاری اعلامیے کے مطابق 'جاپان کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے ذریعے 16 لاکھ 20 ہزار ڈالر اور 5 لاکھ 40 ہزار ڈالر انٹرنیشنل آرگنائزین فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے ذریعے حکومت پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا ہے'۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: چین سے طبی سامان اور ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

اعلامیے کے مطابق اس تعاون کا مقصد 'پاکستان کے عوام کو نوول کورونا وائرس کے اثرات کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تعاون پاکستان کی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا فوری کھوج لگانے اور اسی کے مطابق علاج میں مددگار ہوگا'۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ 'یہ تعاون کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے، کووڈ-19کے باعث مہلک بیماریوں کو کم کرنے اور ہلاکتوں کو کم کرے گا اور اس وبا کے عروج کے وقت پیدا ہونے والے صحت کے موجودہ اور سماجی ناہمواری کے اثرات کو کم کرنے کو یقینی بنائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں:چین کی طبی اشیا فراہم کرنے کے لیے سرحد کھولنے کی درخواست

تعاون کی فراہمی سے متعلق کہا گیا ہے کہ 'عملی صورت حال کے مطابق حکومت پاکستان کی درخواست کو دیکھتے ہوئے یونیسیف اور آئی او ایم کے تعاون سے کووڈ-19 کو روکنے کے لیے ضروری مشینیں اور ٹیکنیکل مدد فراہم کی جائے گی'۔

پاکستان میں جاپان کے سفیر ماتسودا کونینوری کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے کووڈ-19 کے خلاف اپنے شہریوں کے لیے بہترین اقدامات کیے ہیں جبکہ یہ مسئلہ پوری دنیا میں خطرناک بنتا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری میں شامل ہر ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مرض کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

جاپان کی جانب سے 1996 میں پولیو کے خاتمے کے لیے 229 ملین ڈالر کے تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'حکومت جاپان اس طرح کے وائرسز کے خلاف ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے'۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'حکومت جاپان اسی طرح کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گی'۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا جس کے بعد سندھ اور بلوچستان حکومت نے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے اسکولوں کو بند کردیا تھا جس کے بعد گزشتہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس: اے ڈی بی سے پاکستان کیلئے مزید 20 لاکھ ڈالر کی گرانٹ منظور

پاکستان میں اب تک 2 ہزار 71 افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 27 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ 82 افراد صحت یاب بھی ہوگئے ہیں۔

کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون میں پہل دوست ملک چین نے کی تھی جس کی جانب سے سندھ حکومت، گلگت بلتستان حکومت، پنجاب اور وفاقی حکومت کی مدد کے لیے مختلف مشینری اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں کو بھیجا گیا۔

چین کی جانب سے 28 مارچ کو ماہر ڈاکٹروں کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچی تھی جس نے پاکستان کے ڈاکٹر اور طبی عملے کو تربیت دی۔

رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستان آنے والی چینی امداد میں 12 ہزار ٹیسٹنگ کٹس، 3 لاکھ ماسک، 10 ہزار حفاظتی سوٹ اور آئیسولیشن ہسپتال کی تعمیر کے لیے 40 لاکھ ڈالر کی امداد شامل ہے۔