حسن علی کرکٹ سے نہیں، جم ٹریننگ سے انجری کا شکار ہوئے، اظہر محمود

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

حسن علی کمر کی انجری کی وجہ سے ایک عرصے سے کرکٹ کے میدانوں سے دور ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
حسن علی کمر کی انجری کی وجہ سے ایک عرصے سے کرکٹ کے میدانوں سے دور ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے سابق باؤلنگ کوچ اظہر محمود نے دعویٰ کیا ہے کہ نامناسب جم ٹریننگ کے سبب انجریز کا شکار حسن علی کی فٹنس اور ان کی ٹیم میں جگہ خطرے میں پڑ گئی ہے۔

قومی ٹیم کے سابق باؤلنگ کوچ نے اپنے دور کو قابل اطمینان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں نتائج کافی بہتر تھے۔

مزید پڑھیں: 'ٹیم کے حوالے سے رائے لی جاتی ہے لیکن حتمی فیصلہ مصباح کرتے ہیں'

اظہر محمود نے دعویٰ کیا کہ جم میں ٹریننگ کے دوران زیادہ وزن اٹھانے سے فاسٹ باؤلر حسن علی کمر تڑوا بیٹھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حسن علی گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے انجری کا شکار نہیں ہوئے بلکہ انہیں یہ انجری جم میں ٹریننگ سیشن کے دوران ہوئی، حسن علی 130کلو گرام کا وزن اٹھا کر ویٹ لفٹ کر رہے تھے جبکہ یہی ایکسرسائز وہ اس سے قبل 100کلوگرام کا وزن اٹھا کر بھی کر چکے تھے۔

ان کاکہنا تھا کہ 'میں کسی کا نام نہیں لے رہا لیکن حسن کے فٹنس مسائل کی اصل وجوہات بتا رہا ہوں'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی حکام پر مختصر آئی پی ایل کے انعقاد کیلئے دباؤ بڑھنے لگا

ماضی کے مشہور آل راؤنڈر نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو انجریز فرسٹ کلاس کے کم تجربے کے سبب ہو رہی ہیں کیونکہ آپ جتنی باؤلنگ کرتے ہیں اتنا ہی بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فرسٹ کلاس اسٹرکچر اور کوکا بورا گیند کے ساتھ فاسٹ اور اسپن باؤلرز کو طویل اسپیل کرنے پڑتے ہیں لیکن یہ فاسٹ باؤلرز کے لیے اچھا بھی ہے۔

اظہر علی نے فرسٹ کلاس نظام میں ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 10کرنے کی تجویز دی کیونکہ پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے 6 ٹیمیں بہت کم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 فرسٹ کلاس ٹیموں کی موجودگی سے اچھا نظام بن جائے گا جس کے بعد نیچے موجود انڈر 19 اور انڈر 16 سطح سے میں باقاعدہ نظام کے ذریعے ٹیلنٹ مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کھلاڑیوں نے کورونا ریلیف فنڈ میں عطیات جمع کروانے کا اعلان کر دیا

اظہر محمود نے تسلیم کیا کہ تابش خان جیسے ذہین فاسٹ باؤلر انتہائی باصلاحیت ہونے کے باوجود بدقسمتی سے پاکستان کی نمائندگی نہ کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت باؤلنگ کوچ پاکستان ٹیم مینجمنٹ کا حصہ بنا تو ہم نے فرسٹ کلاس کے بہترین فاسٹ باؤلرز کو طلب کیا تھا اور تابش خان اور صدف حسین بھی ان میں شامل تھے لیکن بالآخر ہم نے مستقل مزاجی کے ساتھ طویل اسپیل کرنے کی صلاحیت پر محمد عباس کو منتخب کیا۔

انہوں نے کہا کہ تاش ایک بہت ذہین باؤلر ہے لیکن بعض اوقات قسمت آپ کا ساتھ نہیں دیتی۔