پنجاب میں تبلیغی جماعت کے مزید کارکنان کورونا وائرس کا شکار

اپ ڈیٹ 15 اپريل 2020

ای میل

ڈپٹی کمشنر پاکپتن احمد کمال نے کہا کہ 97تبلیغیوں کو اب بھی مسجد میں قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے کیونکہ ان کی رپورٹس آنا باقی ہیں— فائل فوٹو: ڈان
ڈپٹی کمشنر پاکپتن احمد کمال نے کہا کہ 97تبلیغیوں کو اب بھی مسجد میں قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے کیونکہ ان کی رپورٹس آنا باقی ہیں— فائل فوٹو: ڈان

صوبہ پنجاب کے اضلاع پاکپتن اور ساہیوال میں تبلیغی جماعت کے 7 کارکنان، ایک ڈاکٹر اور ایک عام فرد کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور ان میں سے 6 افراد کا تعلق ساہیوال اور 2 کا پاکپتن سے ہے۔

ڈپٹی کمشنر پاکپتن احمد کمال مان نے بتایا کہ دو ہفتے قبل تبلیغی جماعت کے 198کارکنان کو پاکپتن میں قرنطینہ کردیا گیا تھا، ان کی رپورٹس پیر کو موصول ہوئیں اور ان میں سے ایک کا ٹیسٹ مثبت آیا جبکہ بقیہ کارکنوں کو پشاور بھیج دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس:سندھ میں مزید 6 اموات، پنجاب کے کیسز 3 ہزار سے تجاوز کرگئے

ان کا کہنا تھا کہ تبلیغی جماعت کے 97 ارکان کو اب بھی مسجد میں قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے کیونکہ ان کی رپورٹس آنا باقی ہیں۔

اس کے علاوہ عارف والا تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے ڈاکٹر کا بھی ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد ڈاکٹر کے کلینک کو سیل کردیا گیا ہے اور ان کے گھر کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ ساہیوال میں 6 تبلیغی کارکنوں کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا۔

بہاولپور میں دو ٹیسٹ مثبت آئے

ادھر بہاولپور میں تبلیغی جماعت کے دو اراکین کا ٹیسٹ مثبت آیا اور انہیں منگل کو گورنمنٹ سول ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کرا دیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ضلعی پولیس نے خیرپور ڈاہا کے قریب ڈھورے کوٹے میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو ایک مسجد میں قرنطینہ کردیا گیا تھا، ان میں سے ایک میں علامات ظاہر ہوئیں اور وہ تحصیل احمد پور شرقیہ میں کورونا کا پہلا مصدقہ مریض بن گیا، تبلیغی جماعت کے دیگر کارکنوں کو بھی بعد میں مسجد سے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

علاج کرنے والے حکام نے ڈان کو بتایا کہ پانچ مصدقہ کورونا وائرس کے کیسز کے علاج کے بعد پہلا ٹیسٹ منفی آیا اور ہسپتال سے فارغ کرنے سے قبل ان کا دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا، ان 5 میں سے 3 زائرین، ایک خاتون اور ان کی پوتی شامل ہے، ضلع میں جس شخص میں پہلی مرتبہ کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اس مریض کو بھی فارغ کردیا گیا ہے۔

چڑیا گھر کے کیوریٹر محمد حسین گشکوری نے کہا کہ اس کے علاوہ مقامی چڑیا گھر کے تمام عملے اور جانوروں کا بھی ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

سیالکوٹ

سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ نے تمام مصدقہ 28 کیسز کو دیگر صوبوں میں منتقل کردیا تاکہ ان کے اپنے صوبوں میں ان کی نگہداشت کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئی سمجھتا ہے ہمارے ملک میں وائرس دنیا سے کم ہے تو وہ غلط ہے، وزیر اعلیٰ سندھ

ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے کہا کہ کورونا وائرس کے 99 کیسز کو سیالکوٹ کے علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے جن میں سے 28 کو دیگر صوبوں میں منتقل کردیا گیا ہے کیونکہ وہ تبلیغی جماعت کے کارکن تھے۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اپنی ٹیسٹ کی استعداد بھی بڑھا لی تھی جس کی بدولت روزانہ 300 ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کورونا وائرس کا تیسرا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔

مریض کمالیہ میں ایک مزار کا محافظ تھا اور اسے پانچ اپریل کو کمالیہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل انہوں نے فیصل آباد کی نجی لیبارٹری سے اپنا ٹیسٹ کرایا تھا جس میں اس کے وائرس کا شکار ہونے کی تشخیص ہوئی تھی۔

ان کی بیوی اور چار بچوں کو گھر میں قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ میں بھی متعدد کاروبار کھولنے کی اجازت

کمالیہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشین اسرار نے ڈان کو بتایا کہ نئے مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں ان کا علاج جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر کاشف باجوہ نے کہا کہ مکی مسجد میں ایک ہفتہ قبل قرنطینہ کیے گئے تبلیغی جماعت کے 27 اراکین میں سے 18 کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں جبکہ بقیہ افراد کے ٹیسٹ کی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی۔

لودھراں

لودھراں ڈی ایچ کیو ہسپتال کے لیب ٹیکنیشن اور خانیوال میں تبلیغی جماعت کے دو اراکین کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، ڈی ایچ کیو لیب کو 48 گھنٹوں کے لیے سیل کردیا گیا ہے جبکہ ٹیکنیشن کے اہلخانہ اور دیگر عملے کو بھی قرنطینہ کردیا گیا ہے۔


یہ خبر 15اپریل 2020 بروز بدھ ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔