الزام لگا کر توہین کی گئی، تفضل رضوی معافی مانگیں، شعیب اختر کا جواب

اپ ڈیٹ مئ 16 2020

ای میل

شعیب اختر کو تفضل رضوی نے قانونی نوٹس بھیج دیا تھا—فوٹو:ڈان نیوز
شعیب اختر کو تفضل رضوی نے قانونی نوٹس بھیج دیا تھا—فوٹو:ڈان نیوز

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے قانونی مشیر تفضل رضوی کے قانونی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ الزام لگا کر ان کی توہین کی گئی ہے اس لیے معافی مانگیں۔

شعیب اختر کے وکیل ابوذر سلمان نیازی نے مشیر پی سی بی تفضل رضوی کو تفصیلی جواب دیا اور معافی کا مطالبہ بھی کیا۔

قانونی نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے موکل مشہور کرکٹر رہے ہیں اور ان کا تجزیہ غیر جانب دار، بولڈ اور تنقیدی ہوتا ہے جس کا مقصد پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

مزید پڑھیں:پی سی بی کے قانونی مشیر کا شعیب اختر کو 10 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس

ابوذر سلمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ الزام لگا کر شعیب اختر کی توہین کی گئی ہے اس لیے پی سی بی کے وکیل ان سے معافی مانگیں۔

شعیب اختر کے وکیل نے 5 صفحات پرمشتمل اپنے جواب میں کہا ہے کہ تفضل رضوی کا قانونی نوٹس شعیب اختر کو آئین کے تحت حاصل آزادی اظہار کے حق کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفضل رضوی نے انٹرنیٹ کے حوالوں کو بنیاد بنا کر شعیب اختر کو قانونی نوٹس بھجوایا، نوٹس میں دیے گئے انٹرنیٹ کے حوالے ہتک عزت آرڈیننس کے زمرے میں نہیں آتے۔

شعیب اختر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ تفضل رضوی کے قانونی نوٹس میں لگائے تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

ابوذر سلمان نیازی نے قانونی جواب میں کہا کہ تفضل رضوری نے 10 کروڑ روپے ہرجانے کی رقم بار کے ہسپتال کو عطیہ کرنے کا اعلان کرکے بار ایسوسی ایشن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دو فریقین کے معاملے میں بار ایسوسی ایشن کو ملوث نہیں کیا جا سکتا۔

وکیل نے کہا کہ شعیب اختر نے پی سی بی کی کارکردگی کی بہتری کے لیے دیانت داری اور غیر جانب داری سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:اپنے الفاظ پر قائم ہوں، تفضل رضوی کو جواب دوں گا، شعیب اختر

تفضل رضوی کو براہ راست مخاطب کرکے انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ آپ پی سی بی سے معاوضہ لیتے ہیں جو قومی خزانہ سے جاتا ہے اس لیے آپ کی کارکردگی پر سوال کرنا شعیب اختر کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ برسوں سے پی سی بی کی قانونی معاونت کررہے ہیں اور میرے مؤکل کئی معاملات کے عینی شاہد ہیں اور اسی بنیاد پر آپ کی کارکردگی پر ان کی ایک رائے قائم ہوئی ہے۔

شعیب اختر کے وکیل نے کہا ہے کہ میرے مؤکل کی آپ سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں ہے تاہم آپ کی کارکردگی پر ان کا تجزیہ عوامی مفاد اور پی سی بی کے ساتھ ساتھ ان کے معاونین کی بہتر کارکردگی کے لیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ میرے مؤکل کے پاس قانونی جواب کے باوجود ریلیف کے لیے قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ ہے۔

ابوذر سلمان نیازی نے تفضل رضوی سے کہا کہ ان دلائل کی روشنی میں آپ پر زور دیا جارہا ہے کہ نوٹس واپس لیں اور میرے مؤکل کی نوٹس کے ذریعے توہین اور بدنام کرنے پر معافی مانگیں۔

یاد رہے کہ پی سی بی نے گزشتہ ماہ عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کردی تھی جس پر شعیب اختر نے ردعمل دیتے ہوئے تفضل رضوی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔

شعیب اختر کے تجزیے کے بعد پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے 29 اپریل کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیجا تھا اور کہا تھا کہ اس تضحیک آمیز بیان پر معافی معانگیں اور 10 کروڑ روپے کا ہرجانہ ادا کریں۔

مزید پڑھیں:اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی: عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد

ان کا کہنا تھا کہ 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو بھی درخواست دے دی ہے۔

تفضل رضوی نے کہا تھا کہ شعیب اختر کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کی بنیاد جھوٹ ہے اور ان کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ سابق فاسٹ باؤلر کا سوشل میڈیا پر بیان پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک بھی دیکھا گیا اس لیے بیرون ممالک کی عدالتوں میں بھی ان کے خلاف مقدمہ دائر کروں گا۔

اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ میں پی سی بی کا قانونی مشیر ہوں اور پی سی بی کے لیگل ڈپارٹمنٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس سے قبل شعیب اختر نے عمر اکمل کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی سی بی کے لیگل ڈپارٹمنٹ پر بات کرتے ہوئے سابق فاسٹ باؤلر کا کہنا تھا کہ 'پی سی بی کا لیگل ڈپارٹمنٹ بہت ہی نالائق اور گرا ہوا ڈپارٹمنٹ ہے جس میں خاص طور پر تفضل رضوی ہیں جو پتہ نہیں کہاں سے آجاتا ہے'۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ان کے تعلقات بڑے اچھے ہیں اور کہیں نہ کہیں سے گھس کے آجاتا ہے اور 10، 15 سال سے پی سی بی کے ساتھ لگہوا ہے اور ماشااللہ کوئی ایسا کیس نہیں ہے جو انہوں نے اب تک ہارا نہیں ہو جس کی مثال میرا ایک کیس بھی ہے'۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ 'میرا ماننا ہے کہ اسٹار کی عزت ہونی چاہیے، اس کا نام صدیوں چلتا ہے اور یہ دو ٹکے کے وکیل آتے جاتے رہتے ہیں جن کو ان کے گھر والے بھی صحیح طرح نہیں جانتے اور عدالتیں بھی نہیں جانتیں لیکن ہمارے کیسز لے کر اپنا نام بناتے ہیں'۔

تفضل رضوی سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا تھا کہ 'یہ مجھ سے، شاہد آفریدی اور دیگر کئی کیسز ہارا ہوا ہے لیکن یہ ہمیشہ کیس کو الجھاتا ہے اور پیسے بناتا رہتا ہے جبکہ پی سی بی کھلاڑیوں سے الجھا رہتا ہے'۔