افغانستان: میٹرنٹی ہوم اور جنازے میں حملوں سے 37 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 12 مئ 2020

ای میل

کابل کے ہسپتال میں 13 افراد مارے گئے—فوٹو:رائٹرز
کابل کے ہسپتال میں 13 افراد مارے گئے—فوٹو:رائٹرز

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سرکاری ہسپتال کے میٹرنٹی ہوم میں حملے سے 2 نومولود سمیت 13 افراد مارے گئے جبکہ مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک جنازے میں بم دھماکے سے کم ازکم 24 افراد ہلاک اور 68 زخمی ہوگئے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے تحت سرکاری ہسپتال میں چلنے والے زچہ و بچہ کلینک میں مسلح افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں 2 نومولود بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک پولیس کمانڈر کے جنازے میں خودکش بم دھماکا ہوا جس میں حکومتی عہدیداروں اور اراکین پارلیمنٹ کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں داعش جنوبی ایشیا کے سربراہ سمیت 3 خطرناک دہشت گرد گرفتار

افغانستان میں ہونے والے دونوں دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم داعش ننگرہار میں سرگرم ہے اور حالیہ مہینوں میں کابل میں بھی متعدد حملے کیے ہیں۔

ننگر ہار کی صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنازے میں حملے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کابل کے دشت برچی ہسپتال میں پولیس کی وردی میں تین مسلح افراد داخل ہوئے اور گرینیڈ پھینکا اور فائرنگ شروع کردی۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ حملے میں 15 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے دوپہر تک حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا۔

کابل میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے 100 بستروں کے ہسپتال میں بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے تحت زچہ و بچہ کلینک قائم ہے، اس تنظیم کا فرانسیسی نام میڈیسن سانس فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ، امن عمل خطرات سے دوچار

ایم ایس ایف نے ایک ٹوئٹ میں ہسپتال میں حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ اسٹاف اور مریضوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

افغان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں بچے، مائیں اور نرسز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے مذمت

پاکستان نے افغانستان میں کابل کے ہسپتال اور ننگرہار میں خود کش حملے کی مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو غیر انسانی اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔

دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'مقدس ماہ رمضان میں یہ دہشت گردی کی کارروائی کی گئی اور ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کووڈ-19 سے لڑ رہا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اور زخمیوں کی فوری صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں'۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ہماری دعائیں اور احساسات دکھ کی اس گھڑی میں افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں'۔

پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ 'پاکستان دہشت گردی کی ہر قسم کی مذمت کرتا اور پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا'۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان سیکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں داعش کے سربراہ سمیت دہشت گرد تنظیم کے 3 اہم اراکین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مزید پڑھیں:امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا،14 ماہ میں غیر ملکی افواج کا انخلا ہوگا

وزارت داخلہ اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیکیورٹی کی جانب سے جاری بیان میں گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ جنوبی ایشیا میں دہشت گرد تنظیم کے سربراہ ابو عمر خراسانی سمیت ان کی خفیہ ٹیم کے سربراہ اور پبلک ریلیشن آفیسر کو کابل میں گرفتار کر لیا گیا۔

یاد رہے کہ رواں سال 29 فروری کو طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں امن کے قیام کے سلسلے میں تاریخی معاہدہ ہوا تھا البتہ ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے باعث ملک میں پائیدار امن کا قیام خطرے میں پڑ گیا۔

معاہدے کے بعد سے طالبان کی جانب سے غیر ملکی افواج پر حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے برعکس غیر ملکی افواج پر حملوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

پیر کو ملک میں سڑک کنارے نصب چار بم دھماکے ہوئے جس میں ایک بچے سمیت کم از کم 4 شہری زخمی ہوئے لیکن کسی بھی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

افغانستان کے مشرقی صوبے مغمان میں بھی سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں 6 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔

مقامی فوج کے ترجمان ہارون نے ان حملوں کی تصدیق کی جبکہ وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں طالبان کو بھی بھاری جانی نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے غیر ملکی افواج پر حملے نہیں کیے جا رہے لیکن معاہدے کے بعد سے ان کی جانب سے مقامی فورسز پر مسلسل حملے کیے جاری ہیں اور وہ اب اوسطاً روزانہ 55 حملے کر رہے ہیں۔

غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 29 فروری کو معاہدے پر دستخط کے بعد سے اب تک طالبان ساڑھے 4 ہزار سے زائد حملے کر چکے ہیں اور اس میں سب سے زیادہ وہ صوبے متاثرہ ہوئے ہیں جہاں اب تک کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔