اسکائپ اور زوم کے مقابلے میں فیس بک کا فیچر اب سب کیلئے دستیاب

15 مئ 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ فیس بک
— فوٹو بشکریہ فیس بک

فیس بک میسنجر پر اب 50 افراد کی ویڈیو چیٹ کا فیچر اب دنیا بھر کے صارفین کو دستیاب ہے اور اب یہ براہ راست اسکائپ، گوگل میٹ اور زوم کا مقابلہ کرسکے گا۔

گزشتہ ماہ کمپنی کی جانب سے میسنجر روم نامی فیچر کو پیش کیا گیا تھا جو اس وقت چند ممالک تک محدود تھا مگر اب فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ یہ فیچر اب دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

میسنجر روم میں 50 افراد ایک وقت میں ویڈیو چیٹ کرسکتے ہیں اور یہ زوم جیسا ویڈیو چیٹ ٹول ہے جو دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ویڈیو کالز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے متعارف کرایا گیا۔

میسنجر روم میں ویڈیو چیٹس کے لیے وقت کی کوئی حد مققر نہیں اور لوگ کسی فون یا کمپیوٹر پر کسی بھی چیٹ کا حصہ بن سکتے ہیں اور اس کے لیے فیس بک اکاؤنٹ کی بھی ضرورت نہیں۔

فیس بک کے مطابق میسنجر روم میں پرائیویسی کا خیال اور اسے محفوظ بنانے کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں۔

میسنجر روم کو بنانے والے اس روم یا چیگت کو لاک کرسکتے ہیں تاکہ غیرضروری افراد اس کا حصہ نہ بن سکیں، اسی طرح چیٹ میں شامل لوگوں کو نکال یا بلاک کرسکتے ہیں اور فیس بک کے اصولوں کی خلاف ورزی پر صارفین کی رپورٹ کرسکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ آپ میسنجر روم کو فیس بک اکاؤنٹ سے استعمال کریں یا مہمان کے طور پر اس کا حصہ بنیں، ہم آڈیو یا ویڈیو کالز کو سن یا دیکھ نہیں سکتے۔

فیس بک نے کہا کہ میسنجر رومز میں مزید فیچرز کا اضافہ آنے والے مہینوں میں کیا جائے گا اور توقع ہے کہ اس سے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے پیاروں سے آن لائن جڑنے کا موقع مل سکے گا۔

کمپنی تو اس فیچر کو اپنی دیگر میسجنگ ایپس کا حصہ بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے جیسے انسٹاگرام ڈائریکٹ اور واٹس ایپ۔

نئے کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ویڈیو کالنگ کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ اربوں افراد گھروں تک محدود ہیں۔

فیس بک کی میسجنگ سروسز میں بھی ویڈیو کالنگ کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہی وجہ ہے کہ اس نئے فیچر کو متعارف کرایا گیا ہے۔

واٹس ایپ میں بھی گروپ آڈیو یا ویڈیو کالز میں لوگوں کی تعداد بڑھا کر 8 کر دی گئی ہے۔

فیس بک کے مطابق 70 کروڑ سے زائد صارفین روزانہ فیس بک میسنجر اور واٹس ایپ پر آڈیو اور ویڈیو کالز کرتے ہیں اور کچھ ممالک میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران کالز کی شرح میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح گروپ ویڈیو کالز کی شرح میں کچھ ممالک میں 10 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔