ڈونلڈ ٹرمپ کورونا سے بچنے کیلئے کلوروکوئن کے استعمال کی تجویز پر ڈٹ گئے

اپ ڈیٹ 20 مئ 2020

ای میل

امریکی صدر —فائل فوٹو:رائٹرز
امریکی صدر —فائل فوٹو:رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا کے علاج کے لیے ملیریا کی دوا کے استعمال کی تجویز کا طبی ماہرین کی تنقید اور جان لیوا اثرات کے خدشات کے باوجود دفاع کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کا استعمال کررہے ہیں اور اس کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں جبکہ طبی ماہرین نے اس پر خدشات کا اظہار کیا تھا جس کو صدر نے مسترد کردیا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر تجویز دے دی ہے جبکہ ایک سروے سے اس کے جو نتائج سامنے آئے ہیں اس کے مطابق دوا ٹھیک نہیں اور یہ بدترین بیان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ماہرین صحت بھی خبردار کرچکے ہیں کہ اس دوا کو کووڈ-19 میں صرف ہسپتال اور تحقیق کے لیے استمال کرلینا چاہیے۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر کا کورونا سے بچنے کے لیے کلوروکوئن دوا کا استعمال

ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیپارٹمنٹ آف ویٹرن افیئرز کے سروے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر ایک آپ سروے کو دیکھیں تو وہ برا سروے ہے کیونکہ انہوں نے ایسے لوگوں کو چنا جن کی حالت تشویش ناک ہے'۔

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ 'ان لوگوں کی حالت خطرناک تھی اور تقریباً مرچکے تھے اور یہ نتیجہ ٹرمپ دشمن ہے'۔

تاہم کووڈ-19 کے لیے اس دوا کے استعمال پر تحقیقی پرچے شائع ہوچکے ہیں، جن میں دو اہم مضامین ہیں جس میں نیویارک سے 1400 مریضوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس دوا نے کووڈ-19 کے علاج میں کوئی اثر نہیں ڈالا۔

اسی طرح میڈیکل جرنل بی ایم جے میں دو مضامین شائع ہوئے ہیں جس کے کے نتائج بھی مختلف نہیں ہیں اور بڑے پیمانے پر اس دوا کو کووڈ-19 کے علاج کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔

تاہم ٹرمپ نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہائیڈروکسی کلوروکوئن کے استعمال کا فیصلہ وائٹ ہاؤس کے دوملازمین کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا لیکن وہ طبی ماہرین کی مخالفت کے باجود کئی مہینوں سے اس تجویز کو پھیلا رہے ہیں۔

ری پبلکن کے سینیٹرز سے ملاقات کے لیے کیپٹول ہل کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ 'یہ صرف ایک فیصلہ ہے جس کو کرنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس تجویز کی برائی اس لیے کی جارہی ہے کیونکہ اس پر میں بات کررہا ہوں'۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے کورونا وائرس شٹ ڈاؤن کے خاتمے کیلئے ریاستوں کو گائیڈ لائنز جاری کردیں

اٹلانٹنا کی ایموری یونیورسٹی کے ماہر وبائی امراض ڈاکٹر کارلوس ڈیل ریو کا کہنا تھا کہ کئی محققین نے ہائیڈروکسی کلوروکوئن کو کورونا وائرس کو روکنے یا علاج کے لیے مفید قرار دیا ہے لیکن اس وقت ایسے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ حکمت عملی کارآمد ہے۔

ایف ڈی اے کمشنر اسٹیفن ہان کا کہنا تھا کہ 'کسی بھ دوا کو علاج کے لیے استعمال کرنا ڈاکٹر اور مریض کا باہمی فیصلہ ہے'۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے اپنے کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے اور علامات ظاہر نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس دوا کو احتیاطی تدابیر کے طور پر تقریباً ڈیڑھ ہفتے سے استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں روز ایک گولی کھاتا ہوں اور اس کے ساتھ زنک بھی لیتا ہوں‘۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اچھا ہے اور میں نے اس کے بارے میں بہت سی اچھی باتیں سنی ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ریسٹورانٹس کی صنعت کے لیے منعقدہ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ’آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ کتنے لوگ بالخصوص فرنٹ لائن ورکرز اسے لے رہے ہیں اور میں بھی اس کا استعمال کر رہا ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کے ’کورونا ٹیسٹ‘ کے نتائج آگئے

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ہائیڈروکسی کلوروکوئن کا استعمال کر رہا ہوں، چند ہفتوں قبل میں نے اس کا استعمال شروع کیا تھا‘۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو خطرات ہیں۔

انہوں نے وائرس کے خطرے کے پیش نظر ماسک پہننے کی تجویز کو بھی مسترد کردیا تھا جبکہ ان کے اسٹاف کے زیادہ تر افراد عوام میں ماسک پہن کر سامنے آتے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی معاون سمیت امریکی نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری کیٹی ملر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔