تارکین وطن کی مدد کرنے والے پاکستانی نژاد امریکی کا کورونا وائرس سے انتقال

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

شفقت خان کے سوگواران میں ان کی اہلیہ، 3 بچے، 7 پوتے پوتیاں اور کئی افراد جو ان سے رابطے میں تھے، شامل ہیں۔ فوٹو:اے پی
شفقت خان کے سوگواران میں ان کی اہلیہ، 3 بچے، 7 پوتے پوتیاں اور کئی افراد جو ان سے رابطے میں تھے، شامل ہیں۔ فوٹو:اے پی

جرسی سٹی: خان فیملی کے ایک قریبی دوست کو جب نیو جرسی کے ایک سیاستدان کے لیے کام کرنے کی نوکری ملی تو شفقت خان ضرورت مند افراد کی تلاش میں اس کے دفتر روز جایا کرتے تھے۔

ان کے لیے یہ عام سی بات تھی، طویل عرصے سے جرسی شہر کے رہائشی شکر گزار ہیں کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ 1980 کی دہائی میں پاکستان سے لیبیا کے راستے امریکا ہجرت کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ان کے اہلخانہ کے افراد کا کہنا ہے کہ شفقت خان نے گزشتہ دو دہائیوں میں زیادہ تر دوسرے پاکستانی تارکین وطن کی مدد کے لیے راستے تلاش کیے جو نیویارک شہر کے ہڈسن دریا کے پار سے بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔

شفقت خان، جنہوں نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مختلف مذاہب اور ثقافت کے لوگوں کے لیے تقاریب منعقد کی تھی اور حال ہی میں ملک سے ہجرت کرنے والے افراد کو ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کا طریقہ کار سمجھایا تھا، 14 اپریل کو 76 سال کی عمر میں کورونا وائرس سے انتقال کر گئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز 50 ہزار سے تجاوز کرگئے، اموات 1067 ہوگئیں

ان کے سوگواران میں ایک بیوی، 3 بچے، 7 پوتے پوتیاں اور کئی لوگ جو ان سے رابطے میں تھے، شامل ہیں۔

ان کی بیٹی سبیلہ خان کا کہنا تھا کہ ’انہیں صحیح اور غلط کا خوب اندازہ تھا اور اگر وہ کسی کو مشکل میں دیکھتے تو وہ جس طرح ہوسکتا تھا اس کی مدد ضرور کرتے تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسی کے باعث میں کورونا وائرس کی وجہ سے اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے لیے ایک سوشل میڈیا گروپ کا آغاز کر رہی ہوں تاکہ وہ ایک دوسرے سے رابطہ کرسکیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ اپنے والد کی میراث کو برقرار رکھوں جس طرح سے بھی کرسکوں۔

آنسو پوچھتے پوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان کے جانے کے غم کو کچھ اس طرح منانا چاہتی ہوں جو معاشرے کی تعمیر کرے، مجھے لگتا ہے کہ میرے والد مجھ پر فخر کریں گے‘۔

شفقت خان اور ان کی اہلیہ بہتر زندگی کے لیے پاکستان سے امریکا جانا چاہتے تھے تاہم ان کے لیبیا میں چند رشتہ دار تھے جس کی وجہ سے وہ 1974 میں وہاں گئے جہاں انہوں نے ایک دواساز کمپنی میں انتظامی نوکری کی۔

وہاں ان کے چند سال گزرے اس دوران ان کے گھر ان کی سب سے چھوٹی بیٹی سبیلہ خان کی پیدائش بھی ہوئی جس کے بعد 5 افراد پر مشتمل یہ خاندان 1982 میں امریکا آکر جرسی شہر میں آباد ہوا۔

شفقت خان نے ایک کمپیوٹر کورس میں داخلہ لیا جس سے انہیں ایک نوکری ملنی تھی اور اہلخانہ کو قانونی امریکی ریزیڈنسی ملنی تھی تاہم وہ نوکری نہیں مل سکی جس کی وجہ سے انہیں مشکل وقت گزارنا پڑا اور کئی سال تک وہ غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم رہے تھے۔

سبیلہ خان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت مشکل تھا، ہمارے والدین پر جس مشکل میں تھے ہمیں اس سے محفوظ رکھتے تھے، ہمارے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں تھی، پیسہ بھی ہمیشہ ایک مسئلہ تھا، انہوں نے بہت جدو جہد کی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کا ماننا تھا کہ ان کے بچوں کے لیے بہترین مواقع امریکا میں ہی ہیں نہ کہ لیبیا یا پاکستان میں۔

یہ بھی پڑھیں: 'کورونا وائرس سطحوں یا اشیا کو چھونے سے آسانی سے نہیں پھیلتا'

بعد ازاں انہیں بروکلن میں ایک فارمیسی میں جنرل مینیجر کی نوکری ملی جس کے مالک وہ تھے جنہیں پاکستان میں شفقت خان نے کئی سالوں تک ٹیوشن پڑھایا تھا۔

اس نوکری سے انہیں قانونی امریکی ریزیڈنسی کے لیے اسپانسر شپ ملی اور ایک دہائی بعد وہ امریکی شہری ہوگئے تھے۔

شفقت خان کی صاحبزادی نے بتایا کہ وہ ہفتے میں 6 روز کام کرتے تھے اور صبح جاتے تھے اور رات کو واپس گھر لوٹتے تھے مگر اتنی مصروفیت کے باوجود وہ جرسی شہر کی پاکستانی برادری میں شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے حملے سے قبل انہوں نے پاکستانیز فور امریکا کے نام سے ایک گروپ بنایا تھا جس کا مقصد پاکستانی تارکین وطن کو امریکی سیاست سے آگاہ کرنا اور انہیں ووٹ کے لیے رجسٹر ہونے میں مدد کرنا تھا۔

تاہم حملے کے بعد اس گروپ نے اپنا مقصد تبدیل کرتے ہوئے ایسی تقاریب متعدد کیں جس میں مختلوط مذہب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو درپیش پریشانیوں پر بحث کرتے تھے۔