'طیارہ حادثے کے 19مسافروں کی شناخت ہوچکی، بقیہ کی شناخت ڈی این اے سے ہوگی'

اپ ڈیٹ 23 مئ 2020

ای میل

ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو اور صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— اسکرین شاٹ
ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو اور صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— اسکرین شاٹ

حکومت سندھ نے کہا ہے کہ پی آئی طیارے حادثے میں مرنے والے تمام افراد مسافر تھے جن میں سے 19 کی شناخت ہو گئی ہے اور بقیہ کی شناخت ڈی این اے سے کی جائے گی جس کے نتائج آنے میں 21 دن لگیں گے۔

صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو، ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب اور صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ روز ہونے والے پی آئی اے طیارہ حادثے کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔

مزید پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ رہائشی علاقے میں گر کر تباہ

وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہا کہ کُل 97 لاشیں مل چکی ہیں جو جہاز میں سوار مسافروں کی ہیں، اس میں 68 مرد ہیں، 26 عورتیں اور 3 بچے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سب کے ڈی این اے نمونے لیے گئے ہیں اور یہ نمونے کراچی یونیورسٹی میں حکومت سندھ کی لیبارٹری میں بھیجے گئے ہیں جبکہ 47 لواحقین نے بھی نمونے جمع کرائے ہیں تاکہ وہ انہیں ملا کر دیکھ سکیں اور تصدیق کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ 6 زخمی ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں جس میں مریض زبیر کا جسم 35 فیصد جلا ہے، یہ طیارے میں سوار تھے اور سول ہسپتال کراچی کے برنز وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسافر ظفر مسعود کا فریکچر ہوا اور وہ دارالصحت میں داخل ہیں جبکہ جن گھروں پر جہاز گرا ان میں رہائش پذیر افراد بھی زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ تباہ ہونے سے قبل پائلٹ نے کیا کہا اور 'گو اراؤنڈ' کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں ناہیدہ ہیں جو 49 فیصد جلی ہیں، عزیزہ 30 فیصد جلی ہیں، ماہرہ 30 فیصد جلی ہیں جبکہ الماس طاہر کو انجری ہوئی ہے۔

عذرا پیچوہو نے مزید بتایا کہ جناح ہسپتال میں لائی جانے والی 16 لاشوں کی شناخت ہو گئی اور تین لاشوں کی سول ہسپتال میں شناخت ہو گئی ہے، اس طرح مجموعی طور پر 19 لاشوں کی شناخت کے بعد انہیں لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بقیہ لاشوں کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا ہے اور ان کے ڈی این اے سیمپل لے لیے گئے ہیں جس کے نتائج آنے میں 21 دن لگیں گے جبکہ لواحقین میں سے 47 نے اپنے ڈی این اے دے دیے ہیں جبکہ بقیہ رشتے داروں سے بھی رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: طیارہ حادثہ: مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوا اس کا احتساب ہوگا، سربراہ پی آئی اے

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی نے فوری طور پر کمشنر کراچی اور آئی جی سندھ سے رابطہ کیا اور انہیں لوگوں کو ریسکیو اور فوری علاج کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ریلیف کی سرگرمیوں میں جدوجہد کرنے والے رینجرز، پولیس، ریسکیو اہلکاروں، فائر بریگیڈ اور سول انتظامیہ سمیت سب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی کاوشوں کی بدولت اب تمام مسافروں کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جب صبح وزیر اعلیٰ سندھ نے ظفر مسعود صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جس وقت حادثہ ہوا تو وہ ہوش میں نہیں تھے اور لوگوں نے بڑی محنت سے انہیں ملبے سے نکالا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی طیارہ حادثہ: فی مسافر 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وزیرہوا بازی

انہوں نے کہا کہ ظفر مسعود صاحب ماڈل کالونی کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ ان لوگوں کی محنت کی وجہ سے ان کی زندگی بچ پائی جبکہ اسی طرح محمد زبیر کو بھی ماڈل کالونی کے بہادر عوام نے بڑی محنت سے مدد کی اور آج ان دونوں کی حالت بہتر ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس طیارہ حادثے سے کُل 19 گھر متاثر ہوئے ہیں، ان میں سے دو گھروں کو زیادہ نقصان ہوا ہے جبکہ 17 گھروں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے سے ماڈل کالونی کے جو مقامی افراد متاثر ہوئے ہیں ان کی صحت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے مقامی انتظامیہ اور کمشنر کراچی کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ان لوگوں کا خیال رکھا جائے اور متاثرہ گھروں کے افراد کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کردیا جائے۔

مزید پڑھیں: 'تباہ شدہ طیارے کا آخری معائنہ 21 مارچ کو ہوا، ایک روز قبل مسقط سے آیا تھا'

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اس پیشکش کو 16 افراد نے قبول کیا اور اب ایک نجی ہوٹل میں ان کا خیال رکھا جا رہا ہے، ان میں 10 بڑے اور 6 بچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملبے سے 10 گاڑیاں اور 13 موٹر سائیکلیں متاثر ہوئیں اور اس نقصان کا تخمینہ لگا لیا ہے جبکہ جو عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اس کے لیے بھی این ای ڈی یونیورسٹی سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرنے والے تمام افراد طیارے میں سوار مسافر تھے اور مقامی افراد میں سے کسی کا بھی انتقال نہیں ہوا، جن افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیوں اور گھروں کی مرمت پی آئی ے کی ذمے داری بنتی ہے لیکن اگر پی آئی اے نے یہ کام نہ کیا تو سندھ حکومت یہ تمام چیزیں کر کے دے گی کیونکہ ہم ان کو اپنا سمجھتے ہیں اور اگر اس مشکل گھڑی میں پی آئی اے ان کا ساتھ نہیں دے گی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ گرکر تباہ، جائے حادثہ کی تصاویر

خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے جو ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ نے حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے ایئربس اے-320 کے تکینکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی ہے جس کے مطابق یارے کو رواں ماہ 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی، دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔