سندھ حکومت نے کراچی میں ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے سندھ حکومت نے مانیٹرنگ اور انسپیکشن کمیٹی بھی قائم کردی۔  فائل فوٹو:رائٹرز
ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے سندھ حکومت نے مانیٹرنگ اور انسپیکشن کمیٹی بھی قائم کردی۔ فائل فوٹو:رائٹرز

سندھ حکومت نے صوبائی دارالحکومت کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز بحال کرنے کا اعلان کردیا۔

سندھ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومت نے کراشی میں چلنے والی ٹرانسپورٹ کو کھولنے کی اجازت دی۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے ایس او پیز پر عملد رآمد کے لیے مانیٹر نگ اور انسپیکشن کمیٹی بھی قائم کردی جس میں ٹرانسپورٹ اور ریونیو کے افسران شامل ہوں گے۔

وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ تمام ٹرانسپورٹرز کو متعلقہ ایس او پیز پر عمل کرنا پڑے گا اور ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو گاڑیاں بند کردی جائیں گی۔

انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو خبردار کیا کہ تمام گاڑیوں میں اضافی مسافر نہیں اٹھائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ عید کی تعطیلات کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ چلانے پر رضامند

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا ہم سب نے مقابلہ کرنا ہے، جو بھی ہوگا کراچی کے عوام کے مفاد کے لیے ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ مسافر گاڑیوں میں ماسک، سینی ٹائزر لازمی ہوگا اور جس گاڑی میں ماسک، سینیی ٹائزر نہیں ہوگا اس کہ خلاف کارروائی ہوگی۔

اویس شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت آج رات تک نوٹیفکیشن جاری کردے گی۔

اویس شاہ کا کہنا تھا کہ منظور شدہ اڈوں سے گاڑیاں نکلیں گی، خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا اور کورونا میں اضافہ ہوا تو ٹرانسپورٹ بند کردیں گے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایک شہر سے دوسرے شہر چلنے والی ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔

آن لائن ٹرانسپورٹ سروسز

سندھ حکومت نے اندرون شہر چلنے والی آن لائن ٹیکسی سروس کو بھی اجازت دی اور کہا کہ اس میں صرف 2 افراد کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں ٹیکسی میں مزید ایک شخص کو ساتھ بٹھایا جاسکے گا۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ آن لائن بس سروس کو بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی تاہم بس میں ایئرکنڈیشن چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: کراچی: ٹرانسپورٹ کے بیشتر منصوبے تاحال کھٹائی میں

انہوں نے کہا کہ جو ٹرانسپورٹر اے سی چلائے گا وہ ایک سیٹ چھوڑ کر ایک مسافر بٹھائے گا۔

سندھ میں بھی لاک ڈاؤن 7 بجے تک رہے گا، وزیر بلدیات

سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں صوبائی وزرا بیرسٹر مرتضی وہاب، اویس شاہ، شبیر بجارانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ روز وزیر اعظم کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں تمام صوبائی وزیر اعلٰی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے وہی فیصلہ کیا ہے جو وفاقی حکومت نے فیصلہ لیا ہے، سندھ میں بھی لاک ڈاؤن کا وقت شام سات بجے تک رکھا جائے گا جبکہ ہفتہ اور اتوار مکمل لاک ڈاؤن ہوگا تاہم ضروری دوکانیں جن میں میڈیکل اسٹورز شامل ہیں وہ کھلے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا پیر سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے عوام احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے مکمل لاک ڈاون کا مطالبہ کیا تھا جس کے اچھے نتائج سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت گزر چکا ہے اور وائرس پھیل چکا ہے تاہم سب چیزوں کو بند بھی نہیں رکھا جاسکتا، مختلف شعبہ جات کو کھولا جائے گا لیکن احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام ایس او پیز پر عمل کروائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن کی مدت میں 30 جون تک توسیع کردی تھی جبکہ کاروباری اوقات میں 2 گھنٹے کا اضافہ کردیا تھا۔

محکمہ داخلہ سے جاری نئے حکم نامے کے مطابق قومی رابطہ کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت لاک ڈاؤن کے حوالے سے قومی سطح کی پالیسی سے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور تجاویز پیش کی گئیں۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں کورونا کی وبا کو مزید پھیلنے سے روکتے ہوئے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کے تحت معاشی سرگرمیوں کے آغاز سے متعلق مختلف فیصلے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں لاک ڈاؤن میں 30 جون تک توسیع، کاروباری اوقات میں اضافہ

خیال رہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر سندھ حکومت نے 23 مارچ کی رات 12 بجے سے ابتدائی طور پر 15 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

ابتدائی طور پر صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک صرف اشیائے ضروریات کی دکانیں کھولنے اور کاروبار کی اجازت دی گئی تھی لیکن بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر صرف شام 5 بجے تک کاروبار کھولنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔

بعد ازاں لاک ڈاؤن میں بھی 14 اپریل تک توسیع کردی گئی تھی۔

حکومت نے 15 اپریل کو ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کیا تھا لیکن تاجروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کچھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ تاجروں کی مشکلات کا کسی حد تک ازالہ کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں اشیائے خورونوش، زراعت، صحت، توانائی، فلاحی تنظیموں، بینک، میڈیا سمیت چند دیگر شعبوں کو جزوی طور پر کھولنے کی جازت دی گئی تھی۔

بعد ازاں ملک بھر میں وائرس کے پھیلاؤ اور کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن میں 9مئی تک توسیع کردی تھی

سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز میں روز اضافہ ہورہا ہے اور آج ایک روز کے ریکارڈ 1439 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 23 اموات ہوئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 1439 نئے کیسز رپورٹ آئے جس سے مجموعی تعداد 31 ہزار 86 ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 23 افراد کا انتقال بھی ہوا جس سے مجموعی اموات کی تعداد 526 ہوگئی جبکہ اس وقت 358 مریض ایسے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے۔