کراچی میں شدید آندھی، حادثات میں 4 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 04 جون 2020

ای میل

کراچی میں آندھی اور گرردوغبار کے سبب ہرسو اندھیرا چھا گیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
کراچی میں آندھی اور گرردوغبار کے سبب ہرسو اندھیرا چھا گیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شدید آندھی اور طوفان کی وجہ سے گرد و غبار کے بادل چھا گئے اور نصف سے زیادہ شہر کی بجلی غائب ہو گئی جبکہ مختلف حادثات میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

شہر قائد میں سورج ڈھلتے ہی تیز ہواؤں اور آندھی چلنے کے بعد شہر میں ہر سو اندھیرے اور گرد و غبار کے بادل چھا گئے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں سال 2020 کی پہلی بارش، موسم خوشگوار

شہر کے چند علاقوں میں آندھی کے ساتھ ساتھ بوندا باندی بھی ہوئی جبکہ آندھی چلنے کے نتیجے میں مختلف مقامات پر بڑے بڑے بورڈ، کھمبے اور درخت زمین بوس ہو گئے جبکہ کچھ جگہ بجلی کے تار بھی گر گئے۔

کئی علاقوں میں بجلی غائب

آندھی آتے ہی نصف سے زیادہ شہر کی بجلی غائب ہو گئی اور لوگوں کی مشکلات دوگنی ہوگئیں۔

کے الیکٹرک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بجلی کی فراہمی تعطل کا شکار ہے۔

کے الیکٹرک نے کہا کہ تیز آندھی اور مٹی کے طوفان کے سبب کراچی کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جن علاقوں میں موسم اجازت دے رہا ہے وہاں کے الیکٹرک کا عملہ بجلی کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔

شہر قائد میں گرد و غبار کے طوفان کی وجہ سے جانی نقصان بھی ہوا اور مختلف حادثات میں 4 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

محکمہ موسمیات کراچی کے سربراہ سردار سرفراز نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شمال مغربی علاقے اور پورے بلوچستان میں ایک نظام کے زیر اثر تھا اور گرم اور مرطوب ہواؤں کے ساتھ مل کر اس مٹی کے طوفان نے جنم لیا۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ عموماً مٹی کے طوفان کے نتیجے ہوتا ہے بالکل اسی طرح کراچی میں ہلکی بارش اور بوندا باندی ہوئی جبکہ اس کے نتیجے میں کچھ علاقوں میں رات میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ مٹی کا طوفان بھارت میں آنے والے سائیکلون نیسارگا کی وجہ سے نہیں آیا جو کراچی کے ساحلوں سے 750کلومیٹر دور سے گزر گیا۔

سردار سرفراز کے مطابق کراچی میں آندھی 8 بجکر پانچ منٹ پر ائی جس میں 60 سے 70کلومیٹر فی گھنٹی کی رفتار سے ہوائیں چلیں

یاد رہے کہ آج ایک انتہائی شدت کا سائیکلون 'نسارگا' بھارت کے ساحلی شہر ممبئی سے ٹکرا گیا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بحیرہ عرب میں نیسارگا طوفان کا الرٹ جاری کیا تھا۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کے ساحلی علاقوں کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں لیکن ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں نہ جانے کی تنبیہ کی گئی تھی جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق جانی نقصان گلستان جوہر کے بلاک 13 اور گلشن معمار کے فقیرا گوٹھ میں دیواریں گرنے کے باعث ہوا۔

چھیپا انفارمیشن بیورو کے مطابق تیسر ٹاؤن میں گھر کی چھت گرنے سے 45 سالہ شخص ہلاک ہوا جبکہ سعدی ٹاؤن بلاک 5 میں دیوار گرنے سے 60 سالہ خاتون کی موت واقع ہوئی۔

دوسری جانب سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر 9 میں مویشیوں کے باڑے میں آگ لگ گئی جسے بجھانے کے لیے فائر ٹینڈرز کی گاڑیاں موقع پر پہنچیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو تیز ہوا کے باعث لگنے والی آگ سے انسانی جانیں بچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔