امریکا میں احتجاج پر پینٹاگون اور ٹرمپ کے درمیان تنازع سامنے آگیا

اپ ڈیٹ جون 04 2020

ای میل

امریکی صدر وائٹ ہاؤس سے سینٹ جان چرچ جار ہے ہیں۔ فوٹو:اے پی
امریکی صدر وائٹ ہاؤس سے سینٹ جان چرچ جار ہے ہیں۔ فوٹو:اے پی

امریکی دفاع کے ذمہ دار پینٹاگون کے سربراہ نے ملک میں جاری مظاہرے روکنے کے لیے فوجیوں کے استعمال کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال کو مسترد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری دفاع مارک ایسپر دونوں ہی ٹرمپ کے پہلے وزیر دفاع جم میٹیس کی تنقید کی زد میں آئے۔

ان پر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر نے ملک میں سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں پر ’غلبہ پانے‘ کے لیے فوج کو استعمال کرنے کی دھمکیاں دی تھی۔

واضح رہے کہ امریکا میں سفید فام پولیس افسر کے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کو اپنے گھٹنوں میں کئی منٹوں تک دبائے رکھنے کے بعد اس کی موت پر احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

امریکی صدر نے گورنرز پر زور دیا تھا کہ وہ نیشنل گارڈ کو احتجاج، جو پرتشدد شکل اختیار کرگئے ہیں، پر قابو پانے کے لیے طلب کریں اور متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو وہ فعال ڈیوٹی فوجی دستے بھیج سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا میں ہونے والے فسادات اور کراچی کی یاد

جس پر مارک ایسپر نے امریکی صدر کو یہ کہہ کر ناراض کردیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فوجی دستوں کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں 1807 کے قانون کو صرف انتہائی ضروری اور انتہائی سنگین حالات میں ہی نافذ کیا جانا چاہیے جبکہ ’اب ہم ان حالات میں نہیں ہیں‘۔

تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد پینٹاگون نے اچانک واشنگٹن خطے سے سیکڑوں ایکٹو ڈیوٹی فوجیوں کو گھر بھیجنے کے ابتدائی فیصلے کو واپس لے لیا جو وائٹ ہاؤس کے ساتھ تنازع میں اضافے کی علامت ہے۔

سابق سیکریٹری جم میٹیس، جو ایک ریٹائرڈ میرین جنرل بھی ہیں، نے اخبار ’دی اٹلانٹک‘ میں ایک مضمون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایسپر دونوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حاضر سروس فوجی اہلکاروں کے استعمال پر غور کرنے اور ان پر بڑے پیمانے پر وائٹ ہاؤس کے باہر جاری پرامن احتجاج کو ہٹانے میں استعمال کرنے پر تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے متعدد شہروں میں کرفیو، بائیں بازو کی تنظیم انٹیفا دہشتگرد قرار

جم میٹیس نے ایسپر اور امریکی صدر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہمیں اپنے شہروں کو میدان جنگ بنانے کا خیال مسترد کرنا ہوگا جس کے لیے وردی میں فوج کو غلبہ حاصل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جوابی کارروائی، جیسا ہم نے واشنگٹن میں دیکھا، سے فوج اور شہریوں کے درمیان تنازع شروع ہوگا‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر جم میٹیس کو 'دنیا کے سب سے مغلوب جنرل' قرار دیتے ہوئے رد عمل دیا کہ ’مجھے ان کی قیادت کا انداز یا اس کے بارے میں کچھ بھی پسند نہیں تھا، کئی لوگ مجھ سے متفق ہیں، خوشی ہے کہ وہ چلے گئے!‘

واضح رہے کہ چند روز قبل مارک ایسپر نے فوج کے تقریبا ایک ہزار 300 جوانوں کو ملک کے دارالحکومت کے بالکل باہر فوجی اڈوں پر بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

ان کے یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے تھے جب ٹرمپ نے پرتشدد احتجاج کے جواب میں بغاوت ایکٹ کو نافذ کرنے اور شہر میں فوج بھیجنے پر زور دیا تھا۔

ہفتے کے روز نیشنل گارڈ کے دستے اور بھاری تعداد میں مسلح وفاقی قانون نافذ کرنے والے ایجنٹس کی بھاری نفری کے ذریعے لوگوں کو منتشر کرنے کے بعد دفاعی عہدیداروں نے کہا کہ فوجی اپنے اڈوں پر واپس چلے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا: جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے مقدمے میں چاروں پولیس افسران پر فردِ جرم عائد

تاہم آرمی سیکریٹری ریان مک کارتھی نے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ ایسپر کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس پر تبصرہ کرنے کے لیے متعدد درخواستوں کا جواب نہیں دیا کہ جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واپس لیا ہے۔

اس تبدیلی سے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کے لیے امریکی صدر کی دھمکیوں میں بغاوت ایکٹ کے نفاذ کے فیصلے میں وزن بڑھ گیا۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے ایسپر کے تبصرے سے پہلے اشارہ دیا تھا کہ ٹرمپ اس فیصلے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ناراض ہیں کہ ایسپر کے بیان میں ہمیں ’کمزور‘ بتایا گیا۔

پریس سیکریٹری کیلی مک انینی نے کہا کہ ایسپر کے تبصروں کے باوجود صدر ابھی بھی وفاقی فوج تعینات کرنے پر راضی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کا چینی مسافر طیاروں کے داخلے پر پابندی کا اعلان

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر ضرورت ہوئی تو وہ اسے استعمال کریں گے لیکن اس وقت وہ نیشنل گارڈ کے ساتھ سڑکوں پر اضافے پر بھروسہ کررہے ہیں، یہ کافی مؤثر ثابت ہوا ہے‘۔

دریں اثنا امریکی صدر، وفاقی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے افسران کو ملک کے دارالحکومت میں تعینات کرنے کا سہرا اپنے سر لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ریاستوں کے لیے مثالی ہے کہ وہ ملک بھر میں مظاہروں کے ساتھ ہونے والے تشدد کو کیسے روک سکتے ہیں‘۔

بدھ کی شام کو واشنگٹن میں فوج سڑکوں پر موجود تھی۔

دفاعی حکام نے بتایا کہ نیشنل گارڈ کے کم از کم 2 ہزار 200 اہلکار سڑکوں پر ہوں گے۔

ہیلمٹ پہنے فورسز نے وائٹ ہاؤس سے لے کر لیفائٹ پارک کے آس پاس تک کا دائرہ بنایا جبکہ فوجی گاڑیاں چوراہوں پر کھڑی تھیں اور راستے بند ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا: سیاہ فام نواجون کی ہلاکت پر احتجاج میں شدت، 10 ہزار مظاہرین گرفتار

ٹرمپ نے مؤقف دیا کہ بڑے پیمانے پر طاقت کا مظاہرہ حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور دیگر شہروں میں جاری پرتشدد مظاہروں کے پرسکون کرنے کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے ان گورنرز پر تنقید کی جنہوں نے نیشنل گارڈ کو پوری طرح سے تعینات نہیں کیا۔

فاکس نیوز ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آپ کے پاس ایک طاقتور فوج ہے اور ملک میں امن و امان کی ضرورت ہے‘۔

پینٹاگون کے سربراہ پر ٹرمپ کو اب بھی اعتماد ہے؟ سے متعلق سوال کے جواب میں میک انینی نے کہا کہ ’ابھی تک سیکریٹری ایسپر اپنے عہدے پر موجود ہیں اگر صدر کا اعتماد ختم ہوتا ہے تو ہمیں مستقبل میں اس کے بارے میں معلوم ہوجائے گا‘۔

مارک ایسپر نے پینٹاگون کے ریمارکس میں پچھلے ہفتے ہونے والے واقعے پر پولیس کی کارروائی پر بھی کڑی تنقید کی تھی جس نے احتجاج کو ہوا دی۔

انہوں نے جارج فلائیڈ کی موت کو ’قتل‘ اور ’ایک خوفناک جرم‘ قرار دیا تھا۔

تاہم سیکریٹری دفاع خود بھی سینٹ جان چرچ کے سامنے صدارتی تصویر کے لیے ٹرمپ اور دیگر افراد کے ساتھ پیر کی شام وائٹ ہاؤس سے نکلنے پر ریٹائرڈ سینئر فوجی افسروں سمیت ناقدین کی گرفت میں آگئے تھے۔

مارک ایسپر نے بتایا کہ وہ جانتے تھے کہ وہ سینٹ جان کی طرف جارہے ہیں تاہم یہ نہیں جانتے تھے کہ وہاں کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا ’میں نہیں جانتا تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ پولیس نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قافلے کا راستہ صاف کرنے کے لیے لفائتی اسکوائر میں پر امن مظاہرین کو جبری طور پر منتشر کیا تھا‘۔

جم میٹیس نے اپنے مضمون میں اس منظر کو ’ایگزیکٹو اتھارٹی کا غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون کے سابق سربراہ جِم میٹس کے بیان سے ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس میں انہوں نے امریکی صدر کو شورش کے دوران امریکا کو ’تقسیم' کرنے کا الزام عائد کیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر نے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں بہت سے’برے لوگ‘ شامل ہیں اور گورنرز سے سڑکوں پر غلبہ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک اور بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں امن و عامہ کی ضرورت ہے‘۔

جم میٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میری زندگی میں یہ پہلے صدر ہیں جو امریکی عوام کو متحد کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور حتیٰ کہ ایسی کوشش کرنے کا اظہار بھی نہیں کرتے‘۔

ادھر سابق امریکی صدر باراک اوباما نے نسلی انصاف کا مطالبہ کرنے والے امریکیوں میں ‘سوچ کی تبدیلی‘ کی تعریف کی۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے یکطرفہ طور پر شام سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے بعد ریٹائرڈ جنرل نے دسمبر 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے لفائتی پارک میں پیر کو ہونے والے اس واقعے کی ذمہ داری اٹارنی جنرل ولیم بار پر عائد کردی اور کہا کہ انہوں نے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ حکم دیا تھا کہ ٹرمپ کے چرچ جانے سے قبل احتجاج کو ختم کردیں۔

دوسری جانب مک انینی نے کہا کہ فیصلہ پہلے ہی کرلیا گیا تھا لیکن ولیم بار کے موقع پر پہنچنے اور صورتحال کا جائزہ لینے تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا تھا اور انہوں نے ہی اس وقت یہ حکم دیا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی اپنی بھرپور قوت کے ساتھ کی جس میں کالی مرچ کے اسپرے اور دیگر کیمیائی اشیا کا استعمال کیا گیا اور گھوڑوں کے پیٹھ پر لاٹھیوں سے لیس افسران موجود تھے جنہوں نے مکمل طور پر پرامن مظاہرین پر مشتمل ہجوم کو ہٹایا۔

ٹرمپ نے اپنی ریاستوں پر تنقید کو ایک سیاسی رخ دیتے ہوئے کہا کہ ’جہاں جہاں مسائل ہیں وہاں ریپبلکنز کی حکومت نہیں اسے لبرل ڈیموکریٹس چلاتے ہیں‘۔

جہاں ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے واشنگٹن کے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کی تعریف کی وہیں چند ریپبلکنز نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے افسران مظاہرین کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا خطرہ مول رہے ہیں۔