آئی ایم ایف کو قرضوں کے سوا تمام خدمات کے اخراجات روکنے کی امید

اپ ڈیٹ جون 10 2020

ای میل

آئی ایم ایف مرکزی خسارے کو جی ڈی پی کے منفی 0.4 فیصد پر رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
آئی ایم ایف مرکزی خسارے کو جی ڈی پی کے منفی 0.4 فیصد پر رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: آئندہ سال مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 9 فیصد مالی خسارے کے ساتھ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہے جبکہ آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ اگلے وفاقی بجٹ کے دوران قرضوں کے علاوہ تمام سروسز سے متعلق تمام اخراجات روک دیے جائیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے مرکزی خسارے کو جی ڈی پی کے منفی 0.4 فیصد پر رکھنے پر زور دیا ہے جبکہ حکام اس کا ہدف جی ڈی پی کے منفی 1.2 فیصد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

دونوں کے درمیان اس خلا کو کیسے پر کیا جائے گا یہ معاشی ٹیم کی وزیر اعظم کے سامنے پریزنٹیشن کے بعد واضح ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے مختلف شعبے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کو بحال کرنے کے لیے آپس میں بھر پور رابطے میں ہیں۔

مزید پڑھیں: مخصوص قرضوں کو معاف کرنے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف

آئی ایم ایف نے ای ایف ایف کے تحت گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں 1.44 ارب ڈالر پاکستان کو دیے تھے جس کے بعد ملک کے کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے ہنگامی تعاون کے طور پر فوری مالی امداد (آر ایف آئی) کے تحت 1.4 ارب ڈالر بھی فراہم کیے تھے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکام توقع کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کو 0.4 فیصد اور 1.2 پی سی کے درمیان بنیادی خسارے کے ہدف کے لیے قائل کرلیں گے اور شاید یہ 0.6 - 0.7 فیصد ہو۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مالی خسارے کو جی ڈی پی کی 9 فیصد تک رکھنے کا ہدف بنایا گیا ہے جس میں ممکنہ کووڈ 19 سے متعلقہ ضروریات کے لیے 0.5 فیصد تک اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران متوقع 9.5 فیصد کے خسارے کے امکانات ہیں جبکہ موجودہ سال کے بجٹ خسارے کا اصل ہدف جی ڈی پی کا 7.2 فیصد تھا۔

بات چیت کے ایک حصے کے طور پر آئی ایم ایف توقع کرتا ہے کہ پاکستان تنخواہیں اور پینشنز، سول حکومت کو چلانے کے امور، سیکیورٹی، سبسڈی اور ترقی کے اخراجات کو کم نہیں کرسکتا تو منجمد کردے گا۔

ان کا مؤقف ہے کہ یہ ملک ترقی یافتہ ممالک سے قرضوں میں نرمی کا خواہاں تھا جنہوں نے خود اپنی تنخواہوں کے بلز میں ایک سے 2 فیصد کمی کی توقع کی تھی کہ فائدہ اٹھانے والی ممالک بدلے میں اقدامات کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق حکام نے حالیہ مہینوں میں اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے رہائشی مشن کو وفاقی حکومت کے سیکرٹریٹ کے باہر احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کو دکھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں کے حصول میں سنگل ہندسے کے اضافے کے مقابلے میں دہرے ہندسے کی افراط زر اور زیادہ انکم ٹیکس کے تناظر میں دیکھا جائے تو گزشتہ دو سالوں میں تنخواہوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سے غریب ممالک کا قرض منسوخ کرنے کا مطالبہ

اس کے علاوہ موجودہ سال کے بجٹ میں سول اور ملٹری بیوروکریسی کی اعلیٰ سطح کی تنخواہوں کو منجمد رکھا گیا تھا اور منتخب نمائندوں کی تنخواہوں میں درحقیقت کمی واقع ہوئی تھی۔

وزارت خزانہ نے تنخواہوں میں ایک فیصد اضافے کے اثرات کا تخمینہ لگ بھگ 10 ارب روپے لگایا ہے اور یہاں تک کہ 7-8 فیصد اضافے پر 70-80 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

اضافہ اس اخراجات کا تقریبا نصف گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی وجہ سے ہوتا ہے۔

پنشن بل بھی ایک اہم مالی چیلنج بن کر سامنے آرہا ہے۔

اگلے سال کے تنخواہوں کے بل کا تخمینہ لگ بھگ 465 ارب روپے تھا جبکہ اس کے مقابلے میں پنشنوں میں لگ بھگ 470 ارب روپے تھے۔

اس سال کھاد پر سبسڈی کا تخمینہ 37 ارب روپے رہا جو سخت تنقید کا نشانہ بنا ہے۔