کووڈ-19: حکومت کا اے ڈی بی سے ناروے حکومت کی گرانٹ پر معاہدہ

جون 05 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:اے ایف پی
—فائل/فوٹو:اے ایف پی

حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کے لیے ناروے کی حکومت کی 52 لاکھ ڈالر سے زائد کی گرانٹ کے معاہدے پر دستخط کردیے۔

ڈیزاسٹر رسک منیجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) کے ذریعے خیبر پختونخوا میں کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔

سیکریٹری فنانس ڈویژن نور احمد اور ایشیائی ڈیولپمنٹ بینک کے پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر شیاؤہونگ یانگ نے معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس: یورپی یونین کا پاکستان کیلئے 26 ارب روپے سے زائد امداد کا اعلان

معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر شیاؤہونگ یانگ نے اسلام آباد میں ناروے کے سفارت خانے میں ناظم الامور سے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔

معاہدے کے تحت ناروے کی حکومت خیبرپختونخوا میں کووڈ-19 کے بحران سے نمٹنے کے لیے 52 لاکھ 80 ہزار ڈالر فراہم کرے گی، یہ گرانٹ، پاکستان زلزلہ فنڈ کے غیر استعمال شدہ وسائل سے حاصل کی گئی ہے اور اس کی نگرانی اے ڈی بی کرے گا۔

اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ 'گرانٹ سے خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں ایمرجنسی سروسز، ضروری آلات کی فراہمی اور غریب افراد کی امداد کی جائے گی'۔

گرانٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ناروے کی حکومت اور اے ڈی بی کی پاکستان میں آفات کے خطرات میں کمی لانے کے لیے شراکت داری کے عزم کا اظہار ہے'۔

خیال رہے کہ اے ڈی بی نے مئی میں وبائی صورت حال میں پاکستان کی مدد کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ پروجیکٹ سے 3 کروڑ ڈالر مختص کردیا تھا اور این ڈی آر ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سود سے حاصل 2 کروڑ ڈالر مختص کیا تھا۔

مزید پڑھیں:کوروناوائرس: حکومت پاکستان کو جاپان سے 10 لاکھ ڈالر کی مزید امداد

ناروے کی حکومت، پاکستان میں تعلیم، صحت اور ہنگامی امداد سمیت مختلف شعبوں میں امداد کے منصوبے مکمل کرچکی ہے۔

اے ڈی بی کے ساتھ مل کر ناروے نے 2005 میں زلزلہ متاثرین کی جلد بحالی کے لیے کام کیا تھا۔

بعدازاں 2010 اور 2011 میں پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ناروے کی حکومت نے 5 کروڑ 64 لاکھ ڈالر سے زائد فراہم کیے تھے۔