کورونا وائرس کی خطرناک ترین علامات میں ایک چیز مشترک

06 جون 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس صرف نظام تنفس تک محدود رہنے والا وائرس نہیں بلکہ اس کی چند سب سے خطرناک علامات میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے خون کی بے تحاشا رکاوٹیں یا بلڈ کلاٹس۔

بلڈ کلاٹس کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور شریانوں میں اس کا بہاؤ سست ہوجاتا ہے، ایسا عام طور پر ہاتھوں اور پیروں میں ہوتا ہے مگر پھیپھڑوں، دل یا دماغ کی شریانوں میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

سنگین کیسز میں یہ مسئلہ جان لیوا ہوتا ہے کیونکہ اس سے فالج، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کی رگوں میں خون رک جانا اور دیگر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ڈاکٹر تاحال یہ سمجھ نہیں سکے کہ کیسے اور کیوں کورونا وائرس سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے جبکہ پنسلوانیا یونیورستی کے ایک ڈاکٹر لیوئس کپلان نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طبی ماہرین نے اس قسم کی کلاٹس کو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا 'مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ تو سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں ایک کلاٹ ہے مگر اب تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ یہاں کلاٹ کیوں ہے، ہم اب تک اس کو جان نہیں سکے اور یہی وجہ ہے کہ ہم خوفزدہ ہیں'۔

ایسی علامات کے بارے میں جانیں جو کورونا وائرس میں بلڈ کلاٹس کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

پورے جسم میں ہر حجم کی بلڈ کلاٹس

کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے دیکھا ہے کہ خون کے اس مسئلے کے نتیجے میں گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، دل میں ورم اور مدافعتی نظام کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔

نیویارک میں ایک ایسے کیس میں ڈاکٹروں کو براڈوے کے اداکار نک کورڈیور کی ٹانگ کو کاٹنا پڑا، مریض کو خون پتلا کرنے والی ادویات بھی دی گئیں مگر اس سے بلڈپریشر متاثر ہوا اور جسم کے اندر جریان خون ہونے لگا، جس کے باعث ٹانگ کاٹنا پڑی۔

جرمنی میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے 12 مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 60 فیصد میں جسم کے اندر ٹانگوں یا ہاتھوں میں بلڈ کلاٹس کی تشخیص نہیں ہوسکی تھی۔

پھیپھڑوں کو نقصان

امریکا میں حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس خون کی شریانوں میں ایک ٹشو اینڈوتھیلیم پر حملہ آور ہوتا ہے، جس کو ہونے والے نقصان کے باعث بلڈکلاٹس کا مسئلہ درپش ہوتا ہے اور شریانیں کام نہیں کرپاتیں۔

محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 کے مریضوں کا خون آسانی سے گاڑھا ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے ادویات اور سیال پہنچانے کے لیے ٹیوب کا استعمال مشکل ہوجاتا ہے۔

سائنسدانوں نے جب کووڈ 19 کے مریضوں کے پھیپھڑوں کا جائزہ مائیکرواسکوپ سے لیا تو انہوں نے ننھے ڈارک مائیکرو کلاٹس کو دریافت کیا۔

فلو سے ہلاک ہونے والے مریضوں میں بھی خون کی رگیں بند ہونے کو دیکھا گیا ہے مگر کووڈ 19 کے شکار افراد میں ان کی تعداد 9 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں فلو اور کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے 7، سات مریضوں کے پھیپھڑوں کا موازنہ کیا گیا تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ وائرس سے پھیپھڑوں میں ہوا کی نالیوں اور دیواروں کی بجائے خون کی شریانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

دل کے مسائل

شریانوں میں بلڈ کلاٹس سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

چین میں کووڈ 19 کے 187 مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لگ بھگ 30 فیصد افراد کے دلوں کو نقصان پہنچا تھا اور ممکنہ طور یہی وجہ ہے کہ پہلے سے کسی بیماری سے لڑنے والے افراد کورونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں تو ان میں موت کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

درحقیقت تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ امراض قلب کے شکار افراد میں کورونا وائرس سے موت کی شرح 10 فیصد کے قریب ہے۔

فالج کا خطرہ

نیدرلینڈ میں آئی سی یو میں زیرعلاج 184 مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں ایک تہائی افراد میں بلڈ کلاٹس کو دریافت کیا گیا جبکہ 4 فیصد میں شریانوں کی بندش دیکھی گئی۔

رواں ہفتے ہی امریکا کی تھامس جیفرسن یونیورسٹی کی تحقیق میں کووڈ 19 کے ایسے مریضوں کا جائزہ 20 مارچ سے 10 اپریل تک لیا گیا جن میں فالج کا حملہ ہوا تھا اور یہ معمول سے بالکل ہٹ کر تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 30، 40 اور 50 کی دہائی کی عمر کے مریضوں میں فالج کی شرح بہت زیادہ تھی جو کہ عام طور پر 70 یا 80 سال سے زائد عمر کے افراد میں دیکھنے میں آتی ہے۔

اس تحقیق میں شامل 50 فیصد مریضوں کو علم ہی نہیں تھا کہ وہ کورونا وائرس کے شکار ہیں جبکہ باقی میں اس بیماری کی دیگر علامات کا علاج ہورہا تھا جب فالج کا سامنا ہوا۔

چند روز قبل بھی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ 19 کے مریضوں کی دماغی صحت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

جریدے جرنل ریڈیولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا کہ اس وائرس کے نتیجے میں دماغی صحت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور فالج کووڈ 19 کے مریضوں میں سب سے عام دماغی علامت ہے۔

محققین نے بتایا کہ تحقیقی رپورٹس میں کووڈ 19 کے سینے پر مرتب اثرات کی وضاحت زیادہ کی جارہی ہے مگر بہت کم رپورٹس میں اس وائرس کے دماغی اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اب تک کی سب سے بڑی اور پہلی تحقیق ہے جس میں دماغی علامات کی شناخت کے ساتھ کووڈ 19 کے نیورو امیجنگ فیچرز کے بارے میں بتایا گیا ہے، ان نئے رجحانات سے ڈاکٹروں کو کووڈ 19 کی جلد اور بہتر تشخیص مدد ملے گی اور جلد علاج کرنا ممکن ہوجائے گا۔

جلد کے مسائل

نئے نوول کورونا وائرس پر ہونے والی ابتدائی تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس بھی جلد پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے۔

امریکا میں ہاتھوں اور پیروں میں فراسٹ بائیٹ جیسے نشانات کو کووڈ ٹوئیز کا نام دیا اور طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں جامنی رنگ کے نشان اور سوجن نظر آسکتے ہیں اور امرکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی نے ان کو کووڈ 19 کی علامات کی رجسٹری میں شامل کیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں کی جلد میں ریشز کی وجہ دوران خون کے مسائل کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے جو زیادہ فکرمندی کا باعث ہے۔

جلد میں خون کے چھوٹے لوتھڑے یا کلاٹس بننے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دیگر حصوں میں بھی بلڈکلاٹس بن رہے ہیں ، گردوں، جگر یا دیگر اعضا میں ایسا ہونا زیادہ سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

بلڈ کلاٹس کی وجہ جاننے کی جدوجہد

سائنسدان اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کورونا وائرس بلڈ کلاٹس کا باعث کیوں بنتا ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ وائرس کے حملے پر خون کی شریانوں کے ردعمل کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

یالے نیو ہیون ہاسپٹل سینٹر کے امراض قلب کے ماہر ہارلن کریومولز نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا 'متعد خیالات میں سے ایک یہ ہے کہ جب جسم کسی حملہ آور سے مقابلہ کرتا ہے تو جسم میں کلاٹنگ کے عناصر ابھرتے ہیں، جس کے نتیجے میں خون گاڑھا ہونے یا جریان خون کا سامنا ہوتا ہے'۔