نیا کورونا وائرس خاموشی سے کیسے پھیلتا ہے؟

07 جون 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی —  شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

کووڈ 19 کا باعث بننے والے نئے نوول کورونا وائرس کی ایک سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے بیشتر شکاروں کو اپنی موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیتا اور کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، مگر پھر بھی متاثرہ فرد جراثیم کو دیگر تک پہنچا دیتا ہے۔

طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دنیا بھر کووڈ 19 کے مریضوں کے 16 مختلف گروپس کے ڈیٹا پر نظرثانی کے بعد یہ تخمینہ لگایا کہ کورونا وائرس کے کتنے کیسز ممکنہ طور ایسے ہوسکتے ہیں جن میں متاثرہ فرد بیماری کا علم ہوئے بغیر وائرس کو آگے پھیلا دیتا ہے جن کو اسمپٹومیٹک کیرئیر بھی کہا جاتا ہے۔

تحقیق میں نتیجہ نکالا گیا کہ کم از کم بھی یہ تعداد 30 فیصد ہوسکتی ہے بلکہ زیادہ امکان یہ ہے کہ 40 سے 50 فیصد کیسز بغیر علامات والے ہوتے ہیں۔

نظام تنفس کے کسی بھی وائرس میں اس طرح کے مریض بالکل منفرد ہیں کیونکہ بیشتر وائرسز جب کسی کو متاثر کرتے ہیں تو ساتھ ہی علامات نظر آتی ہیں مگر سارس کوو 2 بالکل خاموشی سے بھی اپنے میزبان کو متاثر کرسکتا ہے اور اسے وبائی مہم کے لیے پیادے کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے جو تعداد دریافت کی وہ حیران کن حد تک زیادہ تھی اور اس سے ملتے جلتے کسی بھی وائرس میں کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے اب تک شائع اور غیر مطبوع ایسے تحقیقی کام کو تلاش کیا جو بغیر علامات والے مریضوں پر کیا گیا تھا اور دنیا بھر میں کووڈ 19 کے لیے ٹیسٹ ہونے والے 16 مختلف گروپس پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ان گروپس میں آئس لینڈ کے 13 ہزار سے زائد افراد بھی شامل تھے جبکہ اٹلی کے ایک قصبے، ڈائمنڈ کروز شب کے مسافر، بوسٹن اور لاس اینجلس کے بے گھر افراد کی پناہ گاہوں میں آنے والے افراد، قیدی، کالج کے طالبعلم اور ایک امریکی علاقے کے نرسنگ ہوم کے رہائشیوں پر ہونے والے کام کا بھی تجزیہ کیا گیا۔

سائنسدانوں نے 5 ایسی تحقیقی رپورٹس کو بھی دیکھا جس میں ٹیسٹوں کے بعد لوگوں کی مانیٹرنگ کے دوران دریافت کیا گیا تھا کہ بغیر علامات والے ایسے افراد کی بہت کم تعداد میں وائرس کی تصدیق کے بعد علامات دیکھی گئیں۔

اس سے محققین کو ایسے افراد کو الگ کرنے میں مدد ملی جن میں علامات ٹیسٹ کے بعد نظر آئیں اور باقی وہ جن میں کبھی بھی علامات نہیں دیکھی گئیں۔

سائنسدانوں کے لیے باعث فکر یہ دریافت تھی کہ بظاہر صحت مند مگر وائرس سے متاثر یہ افراد بھی اسی طرح وائرس کو پھیلا سکتے ہیں جیسے وہ افراد جن میں علامات نمودار ہوتی ہیں۔

آسان الفاظ میں بظاہر تو یہ افراد بیمار نظر نہیں آتے مگر ممکنہ طور پر متعدی وائرس کا اتنا خطرناک بوجھ لیے پھرتے ہیں کہ دیگر تک اسے منتقل کرسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ فکرمندی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ علامات نظر نہ آنے کے باوجود یہ وائرس لوگوں کے جسموں کو خاموشی سے بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ڈائمنڈ کروز شپ کے 331 مسافروں میں شامل ایسے 76 افراد جن میں وائرس کی تصدیق ہوئی مگر علامات ظار نہیں ہوئیں، ان کے پھیپھڑوں کے سی ٹی اسکینز کیے گئے اور لگ بھگ 50 فیصد میں پھیپھڑوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچنے کے آثار دریافت ہوئے۔

محققین کے مطابق جو لوگ بغیر علامات کے وائرس کو جسم کے اندر لے کر پھرتے ہیں، ان کے جسموں کے اندر بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

جنوبی کوریا میں ایک محدود تحقیق میں بھی ایسے 10 افراد کا جائزہ لینے کے بعد اسی طرح کے نتائج دریافت کیے گئے تھے۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ تمام ڈیٹا کو اکٹھا کرنے کے بعد وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم سب کو فیس ماسکس کا استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ آپ جس سے مل رہے ہیں وہ اس وائرس کا خاموش شکار نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کی خاموش بیماری کے بارے میں بہت کچھ سمجھنا باقی رہ گیا ہے، جیسے کیا ایسے بیمار افراد میں علامات اس لیے ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ ان کا مدافعتی نظام وائرس کو بہتر کنٹرول کررہا ہے یا اس لیے کہ وائرس کسی وجہ سے زیادہ اثر نہیں رکھتا، یا ایسے افراد کو کسی قسم کی امیونٹی حاصل ہے، جو عام نزلہ زکام کا باعث بننے والے کورونا وائرسز کا اثر ہے۔

اس ڈیٹا سے ایک سوال یہ بھی سامنے آیا کہ ایسے مریض کب تک متعدی رہتے ہیں۔

تحقیق میں ایک اندازہ بتایا گیا کہ ایسے افراد ممکنہ طور پر 14 دن سے زیادہ عرصے تک وائرس کو آگے منتقل کرسکتے ہیں حالانکہ ابھی یہ دورانیہ 14 دن سمجھا جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جن ممالک کو دوبارہ کھولا جارہا ہے وہاں عوامی مقامات پر فیس ماسکس کے استعمال کو لازمی بنائے جانے کی ضرورت ہے، تاکہ اس قسم کے خاموش مریضوں سے پھیلنے والی بیماری کی روک تھام کی جاسکے۔