فواد چوہدری کے بیان پر وزیراعظم ناخوش، کابینہ اجلاس میں وزرا الجھ پڑے

اپ ڈیٹ 24 جون 2020

ای میل

عمران خان  نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پارٹی کے اندرونی معاملات کھلے عام بیان کرنے سے گریز کی ہدایت کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
عمران خان نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پارٹی کے اندرونی معاملات کھلے عام بیان کرنے سے گریز کی ہدایت کی— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی ) کے اندرونی اختلافات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رہنماؤں کو پارٹی کے اندرونی معاملات کھلے عام بیان کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف حکومت کے اندرونی اختلافات ایک مرتبہ پھر سامنے آئے تھے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کو مداخلت کرکے وفاقی وزرا کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی سے روکنا پڑا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کابینہ اجلاس میں اس وقت غیر معمولی صورتحال دیکھی گئی جب ایک وزیر نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے وائس آف امریکا (وی او اے) کو دیے گئے انٹرویو کا معاملہ اٹھایا۔

مذکورہ انٹرویو میں فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے غیر منتخب اراکین کو کابینہ کا حصہ بننے کی اجازت ملی جو وزیراعظم کے وژن سے لاعلم تھے۔

مزید پڑھیں: رہنماؤں کے اختلافات نے پی ٹی آئی کے سیاسی لوگوں کو باہر کردیا، فواد چوہدری

تاہم کابینہ اجلاس کے دوران جب فواد چوہدری غیر منتخب اراکین کے خلاف اپنے بیان پر قائم رہے تو وفاقی وزیر برائے آبی وسائل نے ان کے غم و غصے میں کچھ سینئر رہنماؤں کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔

اندرونی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان، انٹرویو پر برہم تھے اور انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پارٹی کے اندرونی معاملات کھلے عام بیان کرنے سے گریز کی ہدایت کی۔

اس حوالے سے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ فواد چوہدری کا معاملہ اجلاس میں زیر غور آیا تھا اور وزیراعظم نے اس پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی رائے ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات پر ایسے بات چیت نہیں ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ انٹرویو میں فواد چوہدری نے کہا تھا کہ میرے تجزیے کے مطابق حکومت بننے کے بعد جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی آپس کی رسہ کشی کی وجہ سے سیاسی لوگ کھیل سے باہر ہوگئے اور اس سے پیدا ہونے والے خلا کو نئے لوگوں نے پُر کیا جن کا سیاست سے تعلق نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اتحاد چھوڑنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بہت کوشش کی اور سمجھایا بھی لیکن بات نہیں بنی، ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ جب اسد عمر وزیر خزانہ تھے تو جہانگیر ترین نے زور لگا کر انہیں وزارت سے فارغ کروایا پھر اسد عمر نے دوبارہ آنے کے بعد کوششیں کر کے جہانگیر ترین کو فارغ کروادیا۔

فواد چوہدری کے مطابق اسی طرح شاہ محمود قریشی کی بھی جہانگیر ترین سے ملاقاتیں ہوئی لیکن بات نہیں بنی، پارٹیوں میں اختلافات، گروہ بندی عام بات لیکن آپ جس شاخ پر بیٹھے ہوں اس کو تو نہیں کاٹا جاتا۔

دوران انٹرویو انہوں نے کہا تھا کہ مجھے محسوس ہوتا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں اندرونی اختلافات نے نہ صرف پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا بلکہ ’پوری سیاسی کلاس آؤٹ ہوگئی‘ اور ان کی جگہ بیوروکریٹس نے لے لی۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی منتخب اور غیر منتخب کابینہ اراکین کا معاملہ میڈیا میں سامنے آیا تھا جب پارٹی رہنماؤں نے مختلف فورمز پر وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور مشیروں کے کردار پر تنقید کی تھی۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے وزیراعظم سے شکایت کی تھی کہ فواد چوہدری نے ان (اسد عمر) پر جہانگیر ترین کو پارٹی سے ہٹانے کا الزام لگایا تھا۔

جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ اگر یہ سچ نہیں تو وہ (اسد عمر) خود وفاقی کابینہ کو بتادیں کہ ان کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا نے بھی وزیراعظم سے اپنی وزارت میں کچھ سینئر پارٹی رہنماؤں کی مداخلت کی شکایت کی۔

اس حوالے سے جب ڈان نے فواد چوہدری سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، وائس آف امریکا کو ان کے دیے گئے انٹرویو سے خوش نہیں تھے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کا خیال تھا کہ اختلافات ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن ان پر ایسے بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو بتایا تھا کہ انٹرویو کے دوران میں نے صرف اپنا تجزیہ دیا تھا اور جو کہا تھا اس پر قائم ہوں۔

مزید پڑھیں: چوہدری سرور کی تحریک انصاف میں اختلافات کی تردید

وفاقی وزیر نے کہا کہ فیصل واڈا نے بھی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے معاونین عبدالززاق داؤد اور ندیم بابر کے خلاف بات کی تھی۔

فیصل واڈا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ 'ہم کسی وزیر اور مشیر کو جوابدہ نہیں ہیں'۔

بعدازاں ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں فیصل واڈا نے بھی کہا تھا کہ ہم عمران خان کے علاوہ پارٹی میں کسی کو جوابدہ نہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ فواد چوہدری نے بھی کابینہ اجلاس میں یہ کہا تھا۔

فیصل واڈا نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم کو بدنام کرنے کے لیے کسی وزارت کی جانب سے اہم دستاویزات میڈیا میں لیک کی گئی تھیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ایسی دستاویزات کس نے جاری کی تھیں۔

وفاقی وزیر آبی وسائل نے کہا کہ ایسی چیزیں لیک ہوتی ہیں اور سیاست میں ایسا ہوتا ہے، تاہم اپنے ساتھیوں کے خلاف بیان سے متعلق وزیراعظم کی جانب سے روکنے کے سوال پر فیصل واڈا نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے نہیں روکا تھا۔

علاوہ ازیں ڈان کی جانب سے رابطے کی کئی کوششوں کے باوجود اس حوالے سے بیان دینے کے لیے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی دستیاب نہ تھے۔