سانحہ ماڈل ٹاؤن: نئی جے آئی ٹی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے لارجر بینچ تشکیل

اپ ڈیٹ 29 جون 2020

ای میل

لاہور ہائی کورٹ نے نئی جے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک دیا تھا—فائل/فوٹو:ڈان
لاہور ہائی کورٹ نے نئی جے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک دیا تھا—فائل/فوٹو:ڈان

لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کیس کی نئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے چیف جسسٹس قاسم خان کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قاسم خان کی سربراہی میں لارجر بینچ میں سینئر ترین جج جسٹس امیر بھٹی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس اسجد جاوید گورال، جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس فاروق حیدر شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کا لارجر بینچ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف درخواستوں کی سماعت 3 جولائی سے کرے گا۔

مزید پڑھیں:سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس: سپریم کورٹ کا لاہور ہائیکورٹ کو 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

یاد رہے کہ 5 دسمبر 2018 کو پنجاب حکومت نے ماڈل ٹاؤن کیس میں ازسرِنو تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ میں اس حوالے سے دائر درخواست نمٹادی گئی تھی۔

پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ حکومت ماڈل ٹاؤن سانحے کی ازسرِ نو تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے جارہی ہے۔

پنجاب حکومت نے اس وقت کے آئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی کے دیگر اراکین میں آئی ایس آئی کے نمائندے لیفٹیننٹ کرنل محمد عتیق الزمان، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) محمد احمد کمال اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز پولیس گلگت بلتستان قمر رضا شامل تھے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا اور احتساب عدالت کی اجازت کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ان سے دو گھنٹے تفتیش بھی کی تھی۔

ٹیم نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بیان بھی ریکارڈ کیا تھا۔

بعدازاں 22 مارچ 2019 کو جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے نئے جے آئی ٹی کے خلاف دائر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نوٹی فکیشن کو معطل کرکے ٹیم کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ ماڈل ٹاؤن: لاہور ہائیکورٹ نے نئی 'جے آئی ٹی' کو کام سے روک دیا

نئی جے آئی ٹی کے خلاف درخواست انسپکٹر رضوان گوندل سمیت دیگر افراد نے دائر کی تھیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ میں اس کے خلاف درخواست دی گئی تھی تاہم عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر 13 فروری 2020 کو لاہور ہائی کورٹ کے عبوری فیصلے کے خلاف درخواست مسترد کردی تھی اور نئی جے آئی ٹی کو روکنے سے متعلق ہائی کورٹ کا عبوری حکم برقرار رکھا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کئی زندگیاں چلی گئیں، لوگ زخمی بھی ہوئے، جلد از جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں:ماڈل ٹاؤن کیس: پنجاب حکومت کا نئی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ہائی کورٹ اس کا فیصلہ جلد کرے تاکہ ماڈل ٹاؤن سانحہ منطقی انجام کو پہنچے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

آپریشن کے دوران پی اے ٹی کے کارکنوں نے مزاحمت کی تھی اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 90 کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔

درخواست گزار بسمہ امجد نے اپنی والدہ کے قتل کے خلاف سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں درخواست دائر کی تھی اور واقعے کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی تھی۔

مزید پڑھیں: سانحہ ماڈل ٹاؤن: نئی جے آئی ٹی کے قیام کیلئے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل

عدالت عظمیٰ کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 2014 میں ہونے والے ماڈل ٹاؤن سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے پنجاب حکومت کے حوالے کردی تھی، جسے منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

تاہم بعد ازاں عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد حکومت جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظر عام پر لے آئی تھی۔