ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کی آمد میں کمی

اپ ڈیٹ 30 جون, 2020

ای میل

خدشہ یہ بھی ہے کہ لوگ کیسز میں کمی کی وجہ سے ایس او پیز پر عمل درآمد کم کردیں گے — فائل فوٹو؛ اے ایف پی
خدشہ یہ بھی ہے کہ لوگ کیسز میں کمی کی وجہ سے ایس او پیز پر عمل درآمد کم کردیں گے — فائل فوٹو؛ اے ایف پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ تمام واقعاتی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ میں اضافے کے باوجود ہسپتالوں میں مریضوں کے آنے کی تعداد کم ہوئی ہے۔

تاہم اس مثبت پیش رفت نے فیصلہ سازوں کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے کیوں کہ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لوگ اس مہلک وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہ چھوڑ دیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ روزانہ ٹیسٹ کی تعداد گزشتہ ہفتے کم ہو کر 20 ہزار تک رہ گئی تھی جسے دوبارہ 25 ہزار کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ملک میں مزید 103 اموات، متاثرین 2 لاکھ 8 ہزار سے زائد ہوگئے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم مریضوں کی آمد میں کمی ہوئی ہے حالانکہ سندھ نے مکمل فیڈ بیک نہیں دیا لیکن پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریضوں کا دباؤ کم ہوا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’4 پیرا میٹرز سے دیکھا جاتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کم ہوا یا نہیں اس میں روزانہ کیسز کی تعداد، ہسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد، وینٹیلیٹرز پر موجود مریضوں کی تعداد اور اموات کی تعداد شامل ہے، ان سب سے کیسز میں تعداد میں کمی کی نشاندہی ہوئی ہے‘۔

اسدعمر نے بتایا کہ ’میری وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد سے بات ہوئی اور انہوں نے بھی مجھے یہی بتایا کہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے‘۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر گئی

اس کے علاوہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کووِڈ 19 ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ وہ اپنے گھر کے باہر موبائل ٹیسٹنگ وینز کے سامنے لوگوں کا ہجوم دیکھتے تھے لیکن گزشتہ چند دنوں میں لوگ مشکل سے ہی وہاں ٹیسٹ کروانے جارہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انہیں صورتحال پر خوشی بھی ہے لیکن خدشہ بھی ہے کہ لوگ کیسز میں کمی کی وجہ سے ایس او پیز پر عمل درآمد کم کردیں گے۔

دوسری جانب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے میڈیا کووآرڈنیٹر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بتایاکہ پمز میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے مختص 75 فیصد بیڈ خالی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 کے بغیر علامات والے مریض کس طرح اس وائرس کو آگے پھیلاتے ہیں؟

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں آکسیجن کی سہولت والے 212 بیڈز اور 25 وینٹیلیٹرز موجود ہیں لیکن صرف 56 مریض داخل ہیں جن میں سے 10 وینٹیلیٹر پر ہیں۔

حکومت کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں گزشتہ ہفتے ٹیسٹس کی تعداد 10 ہزار سے کم ہو کر 26 جون تک 5 ہزار رہ گئی تھی اس لیے ایک رائے یہ بھی ہے کہ مصدقہ کیسز کی تعداد میں کمی ٹیسٹ کم ہونے سے ہوئی ہے۔

اسی طرح 27 اور 28 جون کو سندھ میں 11 ہزار اور 9 ہزار 144 ٹیسٹ کیے گئے اور نئے کیسز کی تعدا میں 7 ہزار کا اضافہ ہوا۔