کورونا کے غلط سرٹیفکیٹ لے جانے والے چند لوگ ملک کی بدنامی کا باعث بنے، معید یوسف

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

معید یوسف کے مطابق کورونا ابھی ختم نہیں ہوا سیر و تفریح کے لیے ملک سے باہر آنے جانے کا سفر نہیں کریں —تصویر: ڈان نیوز
معید یوسف کے مطابق کورونا ابھی ختم نہیں ہوا سیر و تفریح کے لیے ملک سے باہر آنے جانے کا سفر نہیں کریں —تصویر: ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے چند پاکستانیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے پاکستان کا نام خراب ہوا لیکن یہ تعداد انتہائی کم ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ ہم پہلے ہی یہ پالیسی اپنا چکے تھے کہ جس طرح پاکستان آنے والوں سے سوال جواب اور بیماری کی علامات والے افراد کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے یہی عمل اب بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کے ساتھ بھی کیا جائے گا اور جس مسافر میں علامات پائی گئیں وہ مسافر سفر نہیں کرسکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک اور ایئرلائنز ایسی ہیں جنہوں نے پاکستان سمیت کئی ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے ٹیسٹ لازم قرار دیا ہے اس لیے میں پاکستان سے باہر جانے والے تمام خواہشمندوں کے لیے واضح کردوں کہ جس ملک آپ جارہے ہیں یا جس ایئرلائن سے آپ سفر کرنے والے ان کی پالیسی پر عمل کرنا لازم ہے اور اگر ایسا نہ کیا تو آپ کو جہاز پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے تمام مسافر پروازوں کی آمد پر پابندی عائد کردی

معید یوسف نے کہا کہ جو مسافر کسی بھی قسم کی بیماری کی علامات رکھتے ہوں وہ ٹیسٹ کروا کر ایئرپورٹ آئیں اور اگر علامات اب بھی موجود ہیں یا طبیعت بحال نہیں تو آپ کو سفر کرنے نہیں جائے گا اس لیے ایئرپورٹ کا رخ نہ کریں۔

اسی طرح اگر آپ کے اردگرد یا گھر میں کوئی ایسا شخص رہا ہو جو کورونا سے متاثر تھا تو ٹیسٹ اور قرنطینہ کے ذریعے پوری تسلی کرلیں اور اگر ذرا سا بھی خدشہ ہو تو ایئرپورٹ کا رخ نہ کریں آپ کو سفر نہیں کرنے دیا جائے گا۔

تاہم اگر آپ سفر کریں گے تو وبا کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنیں گے اور اگر آپ کسی ایسے ملک، جنہوں نے آنے والے مسافروں کے لازمی ٹیسٹ یا اس قسم کی کوئی اور شرط رکھی ہو، تو آپ بغیر ٹیسٹ کے سفر نہیں کر پائیں گے اور اگر آپ کسی طرح چلے بھی گئے تو وہ آپ کو ایئرپورٹ سے آگے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

معاون خصوصی قومی سلامتی کا کہنا تھا بدقسمتی سے اکا دکا واقعات میں یہاں ایسے مسافر چلے گئے جن کے پاس ٹیسٹ کے درست سرٹیفکیٹ نہیں تھے اور وہاں جا کر ان میں کورنا وائرس کی تشخیص ہوئی جس سے ملک کی بدنامی ہوئی۔

مزید پڑھیں: بیرون ملک جانے والے مسافروں کی بھی اسکریننگ کی جائے گی، معید یوسف

لہٰذا بیرونِ ملک جانے والے تمام مسافر حکومت اور ایئرلائنز کی ان پالیسیز پر لازمی عمل کریں اور مکمل تسلی کے بعد ہی سفر کریں کیوں کہ باہر جا کر ڈی پورٹ کیے جانے کے بھی خدشہ ہوسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا گزشتہ چند روز کے دوران خوب شور شرابہ مچا کے پاکستان سے بہت سے کورونا کے مریض دنیا کے دیگر ممالک میں چلے گئے اور یہ کہ ہم دنیا میں کورونا برآمد (ایکسپورٹ) کررہے ہیں، میں بالکل دو ٹوک الفاظ میں ان باتوں کی تردید کرتا ہوں ایسا بالکل نہیں ہوا۔

معاون خصوصی برائے قومی سلامتی نے کہا کہ پوری دنیا میں وبا پھیلی ہے اور یہاں سے جانے والے کچھ پاکستانی جب قرنطینہ میں گئے تو ان کا ٹیسٹ مثبت آگیا لیکن یہ تعداد کہیں 10 کہیں 12 اور 15 ہیں اس لیے ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں چلنے والی یہ بات بالکل غلط ہے کہ پاکستان سے بہت زیادہ کورونا کے مریض باہر گئے بلکہ ہماری معلومات کے مطابق یہ شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 20 جون تک تمام مسافروں کو ملک میں ٹیسٹ کیا ان کے اخراجات اٹھائے، قرنطینہ میں رکھا تا کہ کوئی مسافر بھی وبا کے پھیلاؤ کا ذریعہ نہ بنے اس وقت کسی نے ہمیں نہیں سراہا اور اب ہم سے یہ سوال ہورہا ہے کہ یہاں سے اکا دکا لوگ مثبت آگئے ہیں تو پوری دنیا میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہے پاکستان کو سنگل آؤٹ نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی مسافروں میں کورونا کی تشخیص پر امارات نے خدمات معطل کرنے کا اعلان کیا، ترجمان

انہوں نے میڈیا سے گزارش کی کہ حقائق کو مدِ نظر رکھیں، مثال کے طور پر برطانیہ سے یہ خبر آئی کہ وہاں پہنچنے والے جتنے مسافروں میں کورونا مثبت آیا ان میں نصف کا تعلق پاکستان سے تھا۔

معید یوسف نے بتایا کہ وہاں جانے والے پاکستانیوں کی تعداد محض 30 ہے جو کورونا سے متاثر ہیں اس میں بھی یہ بات مدِ نظر رہے کہ برطانیہ ایئرپورٹ پر ٹیسٹ نہیں کرتا اس لیے جب قرنطینہ میں رہنے کے بعد مسافروں میں کورونا کی علامات سامنے آئی تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ یہ پاکستان کا قصور ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں برطانیہ کے ہائی کمشنر سے بات ہوئی جنہوں نے خود کہا کہ یہ حکومت برطانیہ کا مؤقف نہیں ہے بلکہ اخباروں میں چھپا ہے اور ٹوئٹ کر کے واضح کیا کہ پاکستان اور برطانیہ ملک بہت اچھی طرح ملک کر کام کررہے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پوری دنیا میں پاکستان نے مسافروں کو واپس لانے میں سب سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے کوئی ایسا ملک نہیں جس نے آنے والوں کے ٹیسٹ اور باہر جانے والوں کی اسکریننگ کی ہو۔

مزید پڑھیں: ایئرپورٹس پر صرف بیماری کی علامات والے مسافروں کا ٹیسٹ کیا جائے گا، معید یوسف

انہوں نے واضح کیا کہ ہم کوشش کررہے ہیں پاکستان سے کوئی کورونا کا مریض باہر نہ جائے اور اس سلسلے میں پالیسز پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت خارجہ نے اس معاملے کو سفارتی سطح پر بھی اٹھایا ہے اور پاکستان کو تنہا نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہورہا ہے۔

انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اگر کوئی علامت ہے سفر نہ کرے نہ ہم کرنے کی اجازت دیں گے اور اگر وہاں پہنچ بھی گئے تو وہاں سے واپس بھیج دیا جائے گا جس سے ملک کی بدنامی ہوگی۔

ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا سیر و تفریح کے لیے ملک سے باہر آنے جانے کا سفر نہیں کریں یہ آپریش صرف باہر اور اندرونِ ملک پھنسے افراد کی واپسی کے لیے ہے دنیا کی پالیسی روز بدل رہی ہے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ آئندہ ہفتے بھی یہ سفر اس طرح جاری رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اکثر بااثر افراد بغیر ٹیسٹ کے گھر جانا چاہتے ہیں، معید یوسف

خیال رہے کہ حکومت نے ملک کی فضائی حدود غیر ملکی پروازوں کی آمدو رفت کے لیے 20 جون سے 25 فیصد فضائی حدود کھول دی تھیں جس کے بعد 22 جون کو امارات ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے ہانگ کانگ پہنچنے والے 30 پاکستانیوں کے کووِڈ 19 ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد امارات ایئر لائن نے 3 جولائی تک پاکستان سے اپنے خدمات عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔

بعدازاں 25 جون کو حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے اسکریننگ کے جس عمل کا استعمال کیا جاتا ہے، وہی طریقہ کار ملک سے باہر جانے والوں کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

تاہم بڑا دھچکا اس وقت لگا جب متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی سی سی اے) نے پاکستان سے آنے والی پروازوں پر اس وقت تک کے لیے پابندی عائد کردی جب تک پاکستان سے یو اے ای جانے والے مسافروں کے لیے کووِڈ 19 کی لیبارٹری ٹیسٹنگ کا آغاز نہ ہوجائے۔