سی ڈی اے نے اسلام آباد میں مندر کے مقام پر چار دیواری کی تعمیر روک دی  

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2020

ای میل

مندر کی تعمیر سے متعلق  گرانٹ مختص کرنے کی سمری مشورے کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی ہدایت کی جائے گی— فوٹو: ایم این اے لعل چند ٹوئٹر
مندر کی تعمیر سے متعلق گرانٹ مختص کرنے کی سمری مشورے کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی ہدایت کی جائے گی— فوٹو: ایم این اے لعل چند ٹوئٹر

کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے قانونی وجوہات کے باعث اسلام آباد میں مندر کے پلاٹ پر چاردیواری (باؤنڈری وال) کی تعمیر کا کام روک دیا جبکہ وزیراعظم، وزارت مذہبی امور کو مندر کے لیے گرانٹ مختص کرنے سے متعلق سمری اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کو بھیجنے کی ہدایت کریں گے۔

ساتھ ہی وزارت مذہبی امور نے واضح کیا کہ وزارت نے صرف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی عبادت گاہوں کی تزئین آرائش میں مدد کی اور نئی عمارتیں تعمیر نہیں کیں۔

مذکورہ پیغام وزارت مذہبی امور کی جانب سے سوشل میڈیا گروپس بشمول ٹوئٹر پر جاری کیا گیا تھا۔

 گزشتہ روز سی ڈی اے کے انفورسمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول ڈپارٹمنٹس نے ایچ-9/2 میں مندر کی جگہ پر پہنچ کر مزدوروں کو چار دیواری کی تعمیر روکنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیلئے گرانٹ کی منظوری دے دی

جس کے بعد ہندو پنچایت اسلام آباد نے کام روک دیا اور تعمیر کی اجازت لینے کے لیے پیر(6جولائی ) کو سی ڈی اے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے ایم این اے لعل چند ملہی نے کہا کہ ' ہم قانون پر عمل کرتے ہیں لیکن چار دیواری کی تعمیر ضروری تھی کیونکہ مدرسے کے چند طلبہ کی حمایت سے کچھ لوگوں نے 2018 میں پلاٹ پر ٹینٹ لگائے تھے اور انتظامیہ کی مدد سے جگہ کلیئر کرانے میں کئی مہینے لگے'۔

دوسری جانب ترجمان سی ڈی اے مظہر حسین نے کہا کہ سوک اتھارٹی کے بلڈنگ کنٹرول قوانین میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بلڈنگ پلان(نقشے) کی منظوری تک پلاٹ پر کوئی سرگرمی نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ق) نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت کردی

تاہم سی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کے سینئر افسر نے آگاہ کیا کہ یہ ممکنہ طور پر پہلا موقع تھا جب اس شق کو نافذ کیا گیا تھا کیونکہ تمام مالکان کو چار دیواری تعمیر کرنے اور ان کے پلاٹ پر قبضے کو یقینی بنانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ نقشہ کی منظوری کے حوالے سے باقاعدہ رسمی کارروائیاں جاری ہوتی ہیں۔

دوسری جانب لعل چند ملہی نے کہا کہ پنچائیت نے وزارت مذہبی امور کو نقشہ جمع کرایا تھا اور وزیر پیر نورالحق قادری نے اسے عمارت کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ کی گرانٹ کی سمری کے ساتھ وزیر اعظم کو ارسال کیا تھا۔

خیال رہے کہ سرکاری نظام یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم نے سمری منظور کرلی تو عمارت کا منصوبہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو ارسال کیا جائے گا اور پاک پی ڈبلیو ڈی عمارت کا منصوبہ متعلقہ شہری ادارے کو پیش کرے گا جو کہ سی ڈی اے ہے جس کے بعد وزارت خزانہ اس کی تعمیر کے لیے منظور شدہ فنڈز، پاک پی ڈبلیو ڈی کو جاری کرے گی۔

تاہم وزارت مذہبی امور کے ترجمان محمد عمران نے کہا کہ تعمیر کے لیے گرانٹ کی سمری وزیر اعظم کو ارسال کردی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواست پر سی ڈی اے کو نوٹس

ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اقلیتی آبادی کے لیے عبادت گاہ کی تعمیر سے متعلق فنڈز کا فیصلہ کریں گے، انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم تمام معاشرتی اور مذہبی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔   ترجمان نے یہ بھی کہا کہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل سے وزیر اعظم کو ارسال کردہ سمری پر رہنمائی اور مشورے طلب کرے گی۔

خیال رہے کہ مذکورہ مطالبہ یکم جولائی کو جمعیت علمائے اسلام(ف)، مرکزی جمعیت اہل حدیث اور اسلام آباد میں لال مسجد اور دیگر مدارس سے وابستہ مذہبی رہنماؤں کی جانب سے کیا گیا تھا۔

دریں اثنا وزارت مذہبی امور نے علما کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ مندر کے لیے پلاٹ وزارت مذہبی امور کی جانب سے نہیں بلکہ سی ڈی اے کے ذریعے 2017 میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ہدایت پر الاٹ کیا گیا تھا۔

2 جولائی کو پریس کانفرنس میں علما کی جانب سے وزارت مذہبی امور کی جانب سے مندر کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کرنے کے الزام کے جواب میں ترجمان نے واضح کیا کہ وزارت مذہبی امور، اقلیتی عبادت گاہوں کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری نہیں کرتی، وزارت مذہبی امور، مذہبی اقلیتوں سے وابستہ عبادت گاہوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کرتی ہے۔   اسی بیان میں وزارت نے کہا کہ ہندو برادری اپنے لیے مختص پلاٹ پر اپنے وسائل سے مندر تعمیر کررہی ہے۔  


یہ خبر 4 جولائی، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی