حکومت مالی، ریگولیٹری انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے قرض کے حصول کی خواہاں

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

یہ پروگرام پیداواری صلاحیت میں طویل المدتی نقصان کو روکنے کے لیے معاشرتی تحفظ اور معاشی لچک کو فروغ دے گا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
یہ پروگرام پیداواری صلاحیت میں طویل المدتی نقصان کو روکنے کے لیے معاشرتی تحفظ اور معاشی لچک کو فروغ دے گا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: حکومت نے ترقی اور مسابقت کے فروغ کے لیے مالی انتظام اور ریگولیٹری فریم ورک بہتر بنانے کے لیے ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) سے 25 کروڑ ڈالر کے قرض کی درخواست کردی۔

'مستحکم معیشت کے لیے لچکدار ادارے‘ (رائز) پروگرام، قومی معیشت کے انسانی سرمائے سمیت، پیداواری صلاحیت میں طویل المدتی نقصان کو روکنے کے لیے معاشرتی تحفظ اور معاشی لچک کو فروغ دے گا۔

رائز پروگرام اے آئی آئی بی کے کورونا بحران سے بحالی کی سہولت کے تحت ہوگا اور ورلڈ بینک کے ساتھ ترقیاتی پالیسی کی مالی اعانت کے طور پر مالی تعاون کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ایشین انویسٹمنٹ بینک پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا

اس پروگرام میں ملک کے رد عمل کا ایک عنصر تشکیل دیا گیا ہے اور اس سے وبائی امراض کے اثرات سے بحالی کی جا رہی ہے جس میں معیشت کو نئی زندگی دینے سمیت، صحت اور معاشرتی شعبے میں اہم اخراجات پر توجہ دی جارہی ہے۔

اس سے صحت اور معیشت پر منفی اثرات کو دور کرنے میں پالیسی اور ادارہ جاتی اقدامات میں بھی مدد ملے گی۔

ان اقدامات سے معاشی لچک کے لیے ترقی اور مسابقت کو فروغ دینے کے علاوہ معاشی انتظام میں درمیانی مدت کی اصلاحات کو فروغ ملے گا۔

اس پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی مالی امداد غریبوں اور کمزوروں کو معاشرتی تحفظ فراہم کرے گی اور ترقی اور ملازمت میں بحالی کو یقینی بنانے کے لیے ایک غریب نواز مالی محرک پیکج فراہم کرنے کے علاوہ صحت کے شعبے کے ردعمل کو بھی بڑھا دے گی۔

رائز پروگرام حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے صحت، معاشرتی اور معاشی اہم منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری کوششوں کے ایک مربوط پیکج کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، جی 20 کے قرض ریلیف منصوبے میں شامل

اس میں حکومت کی سماجی و اقتصادی بحالی کے لیے کوششوں اور صحت اور معاشرتی شعبوں میں اخراجات میں اضافے پر توجہ دی جائے گی جبکہ دو پالیسی ستونوں کے نزدیک مستقل معاشی نمو کی بنیاد رکھی جائے گی۔

اس میں سب سے مالی پالیسی کو بہتر بناتے ہوئے مالی انتظامات اور میکرو اکانومکس استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے گی جس کے لیے مؤثر ادارے، بین الحکومت انتظامات کو مستحکم بنانا، قرضوں کی شفافیت اور انتظامات کو بہتر کرنا، ٹیکس بیس کو بڑھانا اور ٹیکس پالیسی میں رکاوٹوں کو ختم کرنا، توانائی کے شعبے سے سامنے آنے والے مالی خدشات کو دور کرنا، کا سہارا لیا جائے گا۔

اس کے علاوہ دیگر اقدامات میں تعاون اور مسابقت کی حمایت کرنا شامل ہے اور اس جنرل سیلز ٹیکس کو پورے ملک میں ہم آہنگ کرنا، مالیاتی شعبے میں شفافیت بڑھانا، ڈیجیٹل مالی شمولیت کی حمایت، ریگولیٹڈ ریئل اسٹیٹ کی ترقی اور مسابقت کو فروغ دینا، کا سہارا لیا جائے گا۔