مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے بعد زمین کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

فلسطین کے مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے بعد زمین کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے — فوٹو: اے ایف پی
فلسطین کے مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے بعد زمین کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے — فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل میں فلسطین کے مغربی علاقوں کا انضمام جہاں فلسطینیوں کی بقا کا مسئلہ بنا ہوا ہے وہیں کچھ لوگوں کے لیے یہ انضمام ان کے مستقبل کو روشن اور کاروبار کو چمکانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ اسرائیلی یہودی بستی ایریل کی رہائشی پیری بین سینور کا بھی ہے جو فلسطین کے مغربی کناروں کے اسرائیل میں انضمام کی بے صبری سے منتظر ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کے پراپرٹی کے کاروبار کے لیے سودمند ثابت ہو گا۔

مزید پڑھیں: مغربی کنارے کا انضمام ’اعلان جنگ‘ ہوگا، حماس

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 20 ہزار سے زائد آبادی کے حامل علاقے ایریل میں یونیورسٹی اور شاپنگ سینٹرز بھی قائم کیے جائیں گے اور اس کا شمار ان چند یہودی بستیوں میں ہوتا ہے جو فلسطینی علاقوں کے انضمام کے پہلے مرحلے میں اسرائیل میں شامل کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع امن منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے لیے امریکا نے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی اور اس کے علاوہ ان یہودی بستیوں کے بھی اسرائیل میں انضمام کا وعدہ کیا تھا جو عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دی جا چکی ہیں۔

پیری بن سینور نے اپنی ریئل اسٹیٹ میں بیٹھ کر گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، صدر ٹرمپ کے اس منصوبے پر عمل جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے مذکورہ علاقے میں مکانات اور زمین کی قیمت بڑھ جائے گی کیونکہ اس کی طلب زیادہ ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی نے مغربی کنارے کے انضمام کے منصوبے پر اسرائیل کو خبردار کردیا

مغربی کنارے کے دوسرے علاقوں میں بھی ریئل اسٹیٹ ایجنٹس نے انضمام کے منصوبے کے اعلان کے بعد سے زمینوں کی قمیتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

ایلی کے علاقے میں زمینوں کا کاروبار کرنے والے ایک اور اسٹیٹ ایجنٹ ڈینیئل واچ نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو مہینے میں گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں کئی گنا منافع ریکارڈ کیا گیا۔

ایک اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹ نے انکشاف کیا کہ ایلفی میناشے میں ہم نے گزشتہ 10 دن میں پراپرٹی کے 6 سودے کیے ہیں، یہ مکانات کئی ماہ سے فروخت کے لیے موجود تھے اور اب ان کی قیمت میں بڑے اضافے کا امکان موجود ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر اسرائیل ان علاقوں کو ضم کر لیتا ہے تو یہاں اس وقت نافذ اسرائیلی فوجی قوانین کی بجائے شہری قوانین کا نفاذ ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں کو ضم کیا تو آزاد ریاست کا اعلان کردیں گے،فلسطینی وزیراعظم

ڈینیئل واچ نے مغربی کنارے کے لیے اسرائیلی نام استعمال کرتے ہوئے کہا کہ سماریا اور جودیا آنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اب یہاں رہنے والوں کو اسرائیل کا شہری سمجھا جائے گا۔

اس منصوبے کی مزید تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آ سکیں لیکن یہ مانا جا رہا ہے کہ ضم شدہ علاقے مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ نہیں ہوں گے اور یہ بات بھی صدر ٹرمپ کے منصوبے میں موجود ہے۔

بین سینور نے مزید کہا کہ ابھی لوگ یہ زمینیں خریدنے کے حوالے سے خوفزدہ ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم یہ زمین خرید لیں تو شاید بعد میں واپس کرنی پڑے، اگر ایسا ہوا تو ان کے پیسے کون دے گا، ان کے خریدے گئے گھروں کا کیا ہو گا؟

خیال رہے کہ 1990 کی دہائی میں ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جانا تھا لیکن اس کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادی 3 گنا اضافے کے بعد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل، فلسطینی سرزمین کے انضمام کی باتیں بند کرے، متحدہ عرب امارات

مذہبی اور نظریاتی وجوہات کے سبب مغربی کنارے پر گھر بنانے والوں کے علاوہ کئی اسرائیلی ان علاقوں میں معاشی وجوہات کی وجہ سے بھی منتقل ہو رہے ہیں کیونکہ ان علاقوں کی قیمتیں اسرائیل کے باقی علاقوں سے کم ہیں۔

ڈینیئل واچ نے بتایا کہ ایلفی مناشے کے مغرب میں 12کلومیٹر دور اسرائیل اور مغربی کنارے کے عین وسط میں کفر صبا واقع ہے اور یہاں 7 کمروں کا 200 مربع میٹر کا اپارٹمنٹ 45 لاکھ شہکلز یعنی 13 لاکھ ڈالر کا ہے۔

گزشتہ ماہ ریکارڈ تعداد میں مکان و زمین فروخت کرنے والے اسٹیٹ ایجنٹ زیو ایپسٹن نے کہا کہ ان علاقوں کے اسرائیل میں انضمام سے بہت فرق پڑے گا، توقع ہے کہ انضمام کے فوری بعد ان مکانوں کی قیمتوں میں دس سے 15 فیصد اضافہ ہو جائے گا اور اگلے پانچ چھ سال میں یہ قیمتیں مزید 30 فیصد بڑھ جائیں گی جبکہ ایلفے مناشے میں اس سے آدھی قیمت پر ایسی ہی چیز مل سکتی ہے۔

امریکی منصوبے کے تحت نیتن یاہو کی حکومت نے یہ عمل یکم جولائی سے شروع کرنا تھا لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

فلسطینی علاقوں کے انضمام کا تنازع

خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔

فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یروشلم، اسرائیل کا 'غیر منقسم دارالحکومت' رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر 4 سال کی پابندی لگادی گئی ہے۔

اس منصوبے میں امریکا نے اسرائیل کو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وادی اردن کو ضم کرنے کی بھی منظوری دی جو مغربی کنارے کا 30 فیصد علاقہ ہے جبکہ دیگر یہودی بستیوں کے الحاق کی اجازت بھی شامل ہے۔

منصوبے کے جواب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اوسلو معاہدے کے تحت سلامتی تعاون سے دستبردار ہونے کا پیغام بھیجا تھا۔

محمود عباس نے اسرائیلی وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ اب فلسطین، اوسلو کے معاہدے پر عمل درآمد سے آزاد ہے۔