سعودی فرماں روا نے غیرملکیوں کے اقاموں میں تین ماہ کی توسیع کردی

06 جولائ 2020

ای میل

سعودی عرب نے مارچ میں پروازیں معطل کردی تھیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی
سعودی عرب نے مارچ میں پروازیں معطل کردی تھیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا وائرس کے باعث مملکت میں موجود تمام غیرملکیوں کے اقاموں میں مزید 3 ماہ توسیع کا حکم دے دیا۔

سعودی ویب سائٹ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان کی زیرصدارت سعودی کابینہ کے اجلاس ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سعودی فرماں روا نے شاہی فرمان کے ذریعے مملکت میں مقیم تمام غیرملکیوں کے اقاموں میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

مزید پڑھیں:'72 گھنٹے میں واپسی کی ہدایت تمام سعودی شہریوں، اقامہ والوں کیلئے ہے'

شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ تمام غیرملکیوں کے اقاموں کی اگلے تین ماہ کے لیے بغیر فیس کے آن لائن تجدید ہوگی۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شاہ سلمان نے نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کی امداد سے متعلق متعدد فیصلے کیے۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ان تمام غیرملکیوں کے لیے جو بین الاقوامی پروازوں کی معطلی کی وجہ سے واپس نہیں آسکے ان کے باہر جانے اور دوبارہ داخلے کے ویزوں میں تین ماہ کے لیے مفت توسیع ہوگی۔

خیال رہے کہ ان تمام غیر ملکیوں کے اقاموں اور ویزوں میں بھی تین ماہ کی مفت توسیع کر دی گئی ہے جن کے اقامے اور ویزے پروازوں کی معطلی کے دوران ختم ہوئے ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ شاہی فرمان میں مذکورہ بالا استثنیٰ پر ضرورت پڑنے پرنظرثانی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس، سعودی عرب کا ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ

یاد رہے کہ مارچ میں سعودی عرب نے پاکستانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کو 72 گھنٹے میں اپنے ملک واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔

ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی جنرل اتھارٹی سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) کے مراسلے کے تیسرے آرٹیکل کے مطابق '72 گھنٹے کی مہلت تمام سعودی شہریوں اور اقامہ کے حامل افراد کے لیے ہے تاکہ وہ سعودی عرب واپس آجائیں'۔

بیان میں مزید وضاحت کی گئی تھی کہ اسی مراسلے کے آرٹیکل 2 کے مطابق 72 گھنٹے کے بعد رعایت صرف ان فلائٹس کو ملے گی جو سعودی عرب کے شہریوں کو واپس لارہی ہیں یا پھر ریاض سے فلائٹس (فلپائین، بھارت، پاکستان، سری لنکا اور انڈونیشیا) جارہی ہیں۔

سعودی عرب یہ فیصلہ کورونا وائرس کے باعث کیا تھا اور پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شہریوں کو عارضی طور پر سفر کرنے سے منع کیا تھا۔

اس کے علاوہ سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان اور یورپی یونین سمیت 12 ممالک کے ساتھ پروازوں کو بھی معطل کردیاتھا۔