آئی ایم ایف کی پاکستان میں آئندہ سال معاشی بحالی کی پیش گوئی

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

مالیاتی ادارے کی رپورٹ میں کورونا وائرس کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی تفصیل دی گئی—فائل فوٹو: اے ایف پی
مالیاتی ادارے کی رپورٹ میں کورونا وائرس کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی تفصیل دی گئی—فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2021 میں پاکستان میں بتدریج معاشی بحالی متوقع ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 'ممالک کے پالیسی اقدامات' کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے مارچ کے بعد سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ ملک کا معاشی آؤٹ لک (منظرنامہ) خاص طور پر خراب ہوا ہے اور مالی سال 2020 میں نمو کا تخمینہ 0.4 فیصد ہے۔

مزید پڑھیں: مخصوص قرضوں کو معاف کرنے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف

اس رپورٹ کے مطابق اپریل کے وسط کے بعد سے وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی سے 'کم خطرے والی صنعتوں' کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے کر اور 'چھوٹی خوردہ دکانوں' کو نئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کے ساتھ دوبارہ کھولنے کی اجازت دے کر لاک ڈاؤن انتظامات کو آہستہ آہستہ آسان بنارہی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی نقل و حرکت پر پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں 15 جولائی سے دوبارہ کام شروع کیا جائے گا۔

تاہم ہفتہ کے اختتام پر دکانوں کی بندش اور زیادہ خطرے والے مخصوص علاقوں کو سیل کرنے کے لیے’منتخب‘ لاک ڈاؤن انتظامات بدستور برقرار ہیں۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ 24 مارچ کو 12 کھرب روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا جس پر اب عمل درآمد کیا جارہا ہے اور مالی سال 21-2020 میں اس کی پیروی کی جائے گی۔

اس رپورٹ میں وبائی امراض کے معاشی اثر کو کم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی تفصیل بھی بتائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں رواں سال نمو منفی 1.5 فیصد ہوگی، آئی ایم ایف کی پیش گوئی

وفاقی حکومت کے اہم اقدامات میں ہنگامی صحت کے سامان پر درآمدی ڈیوٹی کا خاتمہ، 62 لاکھ یومیہ اجرت کمانے والے مزدوروں کو نقد رقم کی منتقلی، ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد کم آمدنی والے خاندانوں میں نقد رقم کی منتقلی، برآمدی صنعت کے لیے ٹیکس ریفنڈز میں تیزی جس میں سے 65 فیصد پہلے ہی تقسیم کیے جاچکے ہیں، اس کے علاوہ ایس ایم ایز اور زراعت کے شعبے کو مالی اعانت فراہم کیا جانا شامل ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اقتصادی پیکیج میں گندم کی تیزی سے خریداری، صحت اور خوراک کی فراہمی کے لیے معاونت، ہنگامی صورتحال کا فنڈ اور کورونا وائرس سے متعلق سازو سامان کی خریداری کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو وسائل کی منتقلی بھی شامل ہے۔

اس رپورٹ میں تعمیراتی شعبے میں ٹیکس مراعات کی فراہمی کا بھی تذکرہ کیا گیا تاکہ لاک ڈاؤنز سے پیدا ہونے والی شدید روزگار کی ضروریات کو دور کیا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتیں کم آمدنی والے گھرانوں کو نقد گرانٹ، ٹیکس میں ریلیف اور اضافی صحت کے اخراجات پر مشتمل، معاون مالی اقدامات پر عمل پیرا ہیں۔