ملازمین کو موبائل سے ٹک ٹاک ایپ ہٹانے کی ای میل غلطی سے کی گئی، ایمازون

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2020

ای میل

ٹک ٹاک نے الزامات کو مسترد کردیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز
ٹک ٹاک نے الزامات کو مسترد کردیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز

ایمازون نے اپنے ملازمین کو موبائل سے ٹک ٹاک ایپ ہٹانے کی ہدایت کے ایک روز بعد وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ای میل غلطی سے کی گئی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی مشہور آن لائن کمپنی نے رات گئے ہی اپنے بیان میں ملازمین کو کی گئی ہدایت سے متعلق وضاحت کردی تھی۔

خیال رہے کہ ایمازون نے گزشتہ روز اپنے ملازمین سے کہا تھا کہ 'سیکیورٹی خدشات' کی بنا پر وہ اپنے ان موبائل ڈیوائسز سے ویڈیو شیئرنگ ایپ 'ٹک ٹاک' کو ہٹا دیں جن سے وہ کمپنی کا ای میل اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایمازون کی ملازمین کو موبائل ڈیوائسز سے ٹک ٹاک ایپ ہٹانے کی ہدایت

ملازمین کو کہا گیا تھا کہ وہ ایمازون کے لیپ ٹاپ براؤزرز پر یہ ایپ استعمال کر سکتے ہیں۔

ایمازون نے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے چند ملازمین کو کی گئی ای میل غلطی تھی، ٹک ٹاک سے متعلق ہماری پالیسی میں اس وقت کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے'۔

کمپنی کی جانب سے ملازمین کو بھیجی گئی ای میل میڈیا تک پہنچی تھی اور سوشل میڈیا میں کہا گیا تھا کہ ملازمین کو ہدایت کی گئی کہ 'سیکیورٹی خدشات کی بنا پر ٹک ٹاک ایپ ان موبائل ڈیوائسز پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جن سے ایمازون کا ای میل اکاؤنٹ استعمال کیا جاتا ہو'۔

ملازمین سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ ایمازون ای میل موبائل پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں 10 جولائی تک ڈیوائسز سے لازمی طور پر ٹک ٹاک ایپ ہٹانی ہوگی۔

ایمازوں کی اپنے ملازمین کو دی گئی ہدایات کے بعد ٹک ٹاک نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایمازون کے خدشات سمجھ سے بالاتر ہیں اور ملازمین کو ای میل بھیجنے سے قبل ہمیں کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔

ٹک ٹاک کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اب بھی ان کے خدشات سمجھ نہیں آرہے، ہم مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں تاکہ اگر انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اس کا حل نکالا جائے اور ایمازون کی ٹیم ہماری کمیونٹی میں شرکت جاری رکھے'۔

یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاک نے 6 ماہ میں 5 کروڑ ویڈیوز ڈیلیٹ کیں

واضح رہے کہ ٹک ٹاک چینی کمپنی بائٹ ڈینس لمیٹڈ کی ملکیت ہے اور پوری دنیا میں نوجوانوں میں مقبول ہے تاہم امریکا اور چین کے درمیان ہانگ کانگ اور کورونا وائرس کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث ٹک ٹاک پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

ٹک ٹاک کی جانب سے مسلسل وضاحت کی جاتی رہی ہے کہ اس سے قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور چین سے فاصلہ پیدا کرنے کی زیادہ زیادہ کوششیں کی گئی ہیں۔

کمپنی نے حال ہی میں کیون میئر کو نیا سی ای او مقرر کیا تھا اور چین کا نیا سیکیورٹی قانون نافذ ہونے کے بعد ہانگ کانگ میں کام بند کردیا تھا۔

ٹک ٹاک کے بعد فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر نے بھی ہانگ کانگ کے حکام کو صارفین کا ڈیٹا دینے کا سلسلہ ختم کردیا تھا۔

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے رواں ہفتے کے اوائل میں فوکس نیوز اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا ٹک ٹاک اور دیگر چینی ایپس پر پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر صارفین نے ٹک ٹاک ڈاؤن لوڈ کیا تو ان کی نجی معلومات 'چین کی کمونسٹ پارٹی کے ہاتھوں میں جاسکتی ہیں'۔

امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی چینی کمپنی کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ امریکی فوجیوں کو سرکاری موبائلز میں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔