امریکا نے ہانگ کانگ پر اپنے فیصلے پر اصرار کیا تو مؤثر جواب ملے گا، چین

15 جولائ 2020

ای میل

چین نے کہا کہ امریکا نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو موثر جواب دیا جائے گا—فوٹو:چینی دفترخارجہ
چین نے کہا کہ امریکا نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو موثر جواب دیا جائے گا—فوٹو:چینی دفترخارجہ

چین نے ہانگ کانگ کے حوالے سے امریکی کانگریس سے ایکٹ کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ اگر امریکا نے اپنے غلط فیصلے پر اصرار کیا تو چین مؤثر جواب دے گا۔

چینی وزارت خارجہ کی جانب جاری بیان کے مطابق ترجمان ہووا چنیونگ نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ‘امریکا نے چین کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے نام نہاد ہانگ کانگ خومختاری ایکٹ کانگریس سے منظور کیا’۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ‘یہ قانون ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کی قانونی حیثیت کو کم کرتا ہے اور چین پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے دھمکی ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا معاہدے کے ‘اگلے مرحلے’ میں داخل ہونے کے ساتھ طالبان پر تشدد میں کمی پر زور

انہوں نے کہا کہ ‘یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے’۔

امریکی قانون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس قانون کے ذریعے ہانگ کانگ اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو جواز فراہم کرنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘چین کی حکومت اس اقدام کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور امریکا کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتی ہے’۔

چین کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘خصوصی انتظامہ خطے کے طور پر ہانگ کانگ کا انضمام اور عوامی جمہوریہ چین کا قومی تحفظ کا قانون نافذ ہے، جس میں چین کے آئین کی متعلقہ شقیں اور ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت کا حامل بنیادی قانون شامل ہے’۔

چینی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ‘چین کا قانون ایک ملک میں دو نظام کے لیے پائیدار اور مضبوط قانونی اور آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ خؤد مختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے مواقع فراہم کرتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آئینی شقیں ہانگ کانگ کا طویل استحکام اور خوش حالی کا باعث ہیں’۔

چینی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ آئین متقفہ طور پرہانگ کانگ کے شہریوں سمیت تمام چینیوں کے لیے ہے جنہوں نے اس کی توثیق کردی ہے اورہانگ کانگ چین کا خصوصی انتظامی خطہ ہے۔

امریکی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہانگ کانگ کے معاملات چینی کا اندرونی معاملہ ہے، کسی بھی دوسرے ملک کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘چین، ہانگ کانگ کی خود مختاری، سلامتی، تحفظ اورخوشحالی کو بہترین طریقے سے برقرار رکھتا ہے اورہانگ کانگ کے معاملات میں بیرونی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے’۔

مزید پڑھیں:امن معاہدہ: افغانستان سے سیکٹروں امریکی فوجیوں کا انخلا

چین کی وزارت خارجہ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کی جانب سے ہانگ کانگ کے قومی سلامتی قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کرنے کا اقدام کبھی کامیاب نہیں ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘چین اپنے قانونی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری جواب دے گا اور امریکا کے متعلقہ افراد اور اداروں پر پابندی عائد کردی جائے گی’۔

چین کے دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ‘ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں کو درست کرے، نام نہاد ہانگ کانگ خودمختاری ایکٹ کو نافذ نہ کرے اور کسی بھی طریقے سے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے’۔

چین نے واضح کیا کہ ‘اگر امریکا اپنی غلط سمت پر جانے کے لیے اصرار کرتا رہا تو چین مؤثر جواب دے گا’۔