ججز پر 'تنقید' کا معاملہ: صحافی مطیع اللہ جان کو عدالت عظمیٰ کا نوٹس جاری

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

مطیع اللہ جان نے کہا کہ معلوم نہیں کہ نوٹس کیوں ہوا—فوٹو: لنکڈ ان
مطیع اللہ جان نے کہا کہ معلوم نہیں کہ نوٹس کیوں ہوا—فوٹو: لنکڈ ان

‏سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ججز پر 'تنقید' کے معاملے میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو نوٹس جاری کردیا۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اپنی سربراہی میں تین رکنی بینچ بھی تشکیل دے دی۔

مزیدپڑھیں: سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان سمیت اٹارنی جنرل اور صدر سپریم کورٹ بار کو بھی نوٹس جاری کرتےہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی مختصر سماعت کے دوران سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے علاوہ پیپلز پارٹی کےرہنما فرحت اللہ بابر اور سپیم کورٹ رپورٹرز ایسی ایشن کے نمائندے بھی موجود تھے۔

دوسری جانب مطیع اللہ جان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'انہیں نہیں معلوم ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کی کس ٹوئٹس پر ازخود نوٹس لیا'۔

یہ بھی پڑھیں: ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے جیو کے پروگرام کا ٹرانسکرپٹ طلب

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہونے والی مختصر سماعت میں صرف اتنا معلوم ہوسکا کہ 10 جون کو کی جانے والی ٹوئٹس پر عدالت کو اعتراض ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا پس منظر

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیا تھا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی، ریفرنس دائر ہونے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے۔

مزید پڑھیں: فائز عیسیٰ کیس: 'کسی نے نہیں کہا جج کا احتساب نہیں ہوسکتا، قانون کے مطابق ایسا ہوسکتا ہے'

بعد ازاں 7 اگست 2019 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا اور 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی درخواست دائر میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔

بعدازاں 19جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست کو منظور کرلیا تھا۔

یہ معاملہ گزشتہ سال مئی سے رواں سال جون تک تقریباً 13 ماہ تک چلا تھا، جہاں سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئی تھیں۔