اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی

16 جولائ 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی دفتر کے اعتراضات کو برقرار رکھا۔ فائل فوٹو:ڈان
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی دفتر کے اعتراضات کو برقرار رکھا۔ فائل فوٹو:ڈان

جہاں سپریم کورٹ نے صحافی کے مبینہ توہین آمیز ٹوئٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے وہیں اس معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ججز کا وقار 'اتنا کمزور نہیں کہ جسے سوشل میڈیا پر ایک ٹوئٹ سے نقصان پہنچے'۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے کارروائی کے آغاز پر اٹارنی جنرل، صحافی مطیع اللہ جان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی دفتر کے اعتراضات کو برقرار رکھا اور اسی صحافی کے خلاف مبینہ ہتک آمیز ٹوئٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست خارج کردی۔

اگرچہ عدالت نے ٹوئٹ کو 'نامناسب اور ناپسندیدہ مواد' قرار دیا تاہم اس نے ناراضی کا اظہار کیا کہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اس معاملے کو بڑھایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ججز پر 'تنقید' کا معاملہ: صحافی مطیع اللہ جان کو عدالت عظمیٰ کا نوٹس جاری

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ 'واقعی یہ مناسب نہیں تھا کہ درخواست گزار، جو اندراج شدہ وکیل ہے، فوری درخواست داخل کر کے نامناسب اور ناپسندیدہ مواد کی مزید تشہیر کرے، صرف چند افراد (افراد) نے اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پڑھا ہوگا تاہم اس پٹیشن پر عمل کرکے یہ عدالت اس کے پھیلاؤ میں آسانی پیدا کرے گی'۔

انہوں نے کہا کہ 'جج کے فیصلے اور بعد کے طرز عمل اس کی سالمیت اور آزادی کا پیمانہ ہے، اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے کسی پر اپ لوڈ کردہ پیغام کی بنیاد پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاتی تو پھر مبینہ توہین آمیز مواد کی تعداد کی وجہ سے اس کی درخواستوں کا سیلاب آجائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'معزز ججز جن کے بارے میں مبینہ ٹوئٹ میں بات کی گئی، کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی شک نہیں ہے'۔

خیال رہے کہ ایڈوکیٹ عدنان اقبال نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ مطیع اللہ جان نے عدالت عظمی کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو استعمال کیا، انہوں نے توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت صحافی کے خلاف کارروائی کے لیے استدعا کی تھی۔

درخواست گزار نے اپنی درخواست کے ساتھ ایک دستاویز منسلک کیا تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ مطیع اللہ جان کی جانب سے کی جانے والی ٹوئٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا

سوشل میڈیا اور اس کے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے بارے تبادلہ خیال کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ 'انصاف کے انتظامیہ پر اس کے اثرات خاص طور پر ملزم کے منصفانہ مقدمے کا حق گہرا ہوسکتا ہے، معاشرے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے اداروں اور افراد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جعلی، غلط، بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن پروپیگنڈا، سائبر بلیئنگ یا سائبر اسٹاکنگ (اور) سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عدلیہ اور اس کے عہدیداروں کو نشانہ بنانا ایک عام بات ہوگئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ججز کی رازداری کو محفوظ نہیں رکھا جاتا ہے اور رازداری کے حق کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کی ذاتی زندگی یا خاندانی معاملات سے متعلق پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز بھی اپلوڈ کیے جاتے ہیں'۔