حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

صوبے میں لاک ڈاؤن میں 15 اگست تک کی توسیع کی گئی ہے — فائل فوٹو: اےایف پی
صوبے میں لاک ڈاؤن میں 15 اگست تک کی توسیع کی گئی ہے — فائل فوٹو: اےایف پی

حکومت سندھ نے صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی۔

اس ضمن میں محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ یکم جولائی کو جاری کردہ نوٹی فکیشن کو برقرار رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن میں 15 اگست تک کی توسیع کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ صوبہ سندھ میں 15 جولائی تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 8 ہزار 913 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار ایک سو 88 ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں: سندھ میں لاک ڈاؤن میں 15 جولائی تک کی توسیع

علاوہ ازیں صوبے میں کورونا کا پھیلاؤ کراچی میں سب سے زیادہ ہے جہاں 15 جولائی کو کراچی میں کورونا وائرس کے 522 مریضوں کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد شہر میں عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 80 ہزار 803 ہوگئی تھی۔

لاک ڈاؤن میں توسیع کے حوالے سے صوبائی وزیر بلدیات، اطلاعات و جنگلات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں مزید اضافہ عوام کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے تمام فیصلوں میں عوام کا مفاد پوشیدہ ہے، اب کورونا کی وبا کے ساتھ جینے کی عادت ڈالنی ہوگی۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ اپنے عوام کی مشکلات کا ادراک رکھتی ہے لیکن ملک کی موجودہ صورت حال کسی بھی ایڈوینچر کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل در آمد کرنا وقت کی ضرورت ہے اور مویشی منڈیوں کی اجازت بھی ایس او پیز پر عمل در آمد کے ساتھ دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران عوامی اجتماعات اور شادی ہالز پر پابندی برقرار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ مساجد، بازاروں اور دفاتر میں ایس او پیز پر عمل در آمد ضروری ہے لہٰذا لوگوں کو احساس ذمہ داری کے تحت تمام امور سرانجام دینے چاہئیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل یکم جولائی کو حکومت سندھ نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن میں 15 جولائی تک کی توسیع کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں لاک ڈاؤن میں 30 جون تک توسیع، کاروباری اوقات میں اضافہ

محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ ہفتے میں 2 دن کاروبار مکمل طور پر بند ہوگا جبکہ ہفتہ اور اتوار کو سبزی فروش کے علاوہ کوئی کاروبار نہیں کھلے گا۔

علاوہ ازیں نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا تھا کہ تعلیمی ادارے، شادی ہالز، بزنس سینٹرز، ایکسپو ہالز، عوامی مقامات بدستور بند رہیں گے۔

صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے نئے اوقات کار بھی جاری کیے گئے تھے جس کے تحت کاروباری سرگرمیاں پیر سے جمعہ تک صبح 6 سے شام 7 بجے تک جاری رہیں گی تاہم میڈیکل اسٹورز اور دیگر ضروری سروسز کو ان اوقات سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیاں اور بیوٹی پارلرز بھی بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ہوم ڈیلیوری رات11بجے تک کی جاسکے گی جبکہ شام 7 بجے تمام دکانیں بند ہو جائیں گی۔

مختلف مواقع پر نافذ کیے گئے لاک ڈاؤنز

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔

کیسز سامنے آنے کے بعد کراچی میں ابتدائی طور پر اسکولز بند کیے گئے تھے اور بعدازاں 23 مارچ کو باضابطہ طور پر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور ہر صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک کاروبار کی اجازت دی گئی تھی لیکن بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر صرف شام 5 بجے تک کاروبار کھولنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سندھ میں چار دن کاروبار کھولنے کی اجازت، تین دن مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان

بعدازاں وزیر اعظم عمران خان نے 14 اپریل کو کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا تھا اور سندھ میں بھی اسی فیصلے کے تحت توسیع کی گئی تھی۔

اس کے بعد 24 اپریل کو وفاقی حکومت اور صوبوں نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع کردی تھی۔

جس کے بعد 7 مئی کو وزیراعظم نے 9 مئی سے لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان کیا تھا جس کے اگلے روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن سے متعلق وفاق کے ساتھ چلیں گے، پیر (11 مئی) سے فجر سے شام 5 تک دکانیں کھلیں گی لیکن 9 مئی سے پہلے جو کاروبار اور دفاتر بند تھے وہ بند رہیں گے۔

بعدازاں یکم جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شعبوں کے علاوہ سب کچھ ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن کی مدت میں 30 جون تک توسیع کردی تھی جبکہ کاروباری اوقات میں 2 گھنٹے کا اضافہ کردیا تھا۔