’محرم میں زائرین کے ایران جانے سے متعلق حکمت عملی تشکیل دی جارہی ہے‘

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت خطے کے امن میں رکاوٹ ہے — فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت خطے کے امن میں رکاوٹ ہے — فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران سمیت کورونا وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے جس کے پیشِ نظر محرم الحرام میں زائرین کے ایران جانے کے سلسلے میں وزارت مذہبی امور حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے عائشہ فاروقی نے بتایا کہ زائرین کے ایران جانے کے حوالے سے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ، اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش سے آگاہ کیا۔

دونوں رہنماؤں سے بات چیت کے دوران وزیر خارجہ نے کورونا وبا، جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی، یورپی یونین کے ممالک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی معطلی اور وزیراعظم کے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں سہولت کے معاملات زیر بحث آئے۔

یہ بھیی پڑھیں: ’بھارت جعلی خبروں، پروپیگنڈا مشینری تیز کر کے حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا‘

بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ کرتار پور راہداری حکومت نے سکھ یاتریوں کی آمد و رفت کے لیے کھولی ہے تاہم کورونا وبا کے باعث بین الاقوامی سکھ یاتریوں کو روکا گیا ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ حالات بہتر ہونے اور آمدو رفت دوبارہ شروع ہونے پر ان سکھ یاتریوں کی آمدو رفت بھی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں زندگیاں بچانے، آبرو اور آزادی کے لیے عالمی نگرانی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹنگ میں اضافے کا مطالبہ دہرایا۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے تقریباً درجن بھر نمائندوں نے بھارت کی جانب سے جبری حراست، تشدد، سزائے موت، ماورائے عدالت قتل جبکہ عملی اور ڈیجیٹل لاک ڈاؤن پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے سی پیک سے متعلق دعوؤں کو مسترد کردیا

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مسلمانوں کو جمعہ و عید کے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہ دینا بھارت کے دوہرے کردار کی عکاسی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل کی فراہمی تشویشناک معاملہ ہے، بھارت کی اصل نیت جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت خطے کے امن میں رکاوٹ ہے جو خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 7 جولائی کو چین، افغانستان اور پاکستان سہ فریقی نائب وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک مذاکرات کا انعقاد ویڈیو لنک کے ذریعے ہوا جس میں چینی نائب وزیر خارجہ لوژاؤہوئی، افغان نائب وزیر خارجہ میرواعظ نبی اور سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے گلگت بلتستان میں انتخابات پر بھارتی بیان کو بے بنیاد قرار دے دیا

تینوں فریقین نے تفصیلی بات چیت کی اور کووِڈ 19 کے خلاف، افغان امن مفاہمتی عمل اور سہ فریقی تعاون پر اتفاق کیا اور روابط، تعاون مضبوط بنانے اور باہمی اعتماد اور تعاون کے فروغ کے عزم کو دہرایا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بچوں کی حوالگی کے حوالے سے معاہدہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے نظر ثانی پٹیشن فائل کرنے کی مدت 60 روز کی ہے اُمید ہے بھارت اس حوالے سے پاکستان سے تعاون کرے گا۔

بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہانگ کانگ کے معاملے پر اصولی مؤقف ہے کہ ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے اور ہانگ کانگ سے متعلق معاملات چین کا اندرونی معاملہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

لندن میں نواز شریف کو قانونی نوٹس بھجوانے کے حوالے سے عائشہ فاروقی نے بتایا کہ قانون کے مطابق وزارت خارجہ سے رابطہ کیا گیا اور لندن ہائی کمشن کے ذریعے نواز شریف کیس میں نوٹس بھجوانے کا کہا گیا تھا جس پر ہم نے عمل کیا۔

ایران اور چین کے مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایران، چین تزویراتی معاہدہ دونوں ممالک کا اندرونی معاملہ ہے اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔

افغانستان کی تجارت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 2010 سے ہمارا افغانستان کے ساتھ ایک معاہدہ ہے جس کے تحت ہم پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سلسلے میں کچھ ذمہ داریاں ہیں اس لیے افغان ٹرک پاکستانی سرحد سے گزر کر آگے جائیں گے۔

ان کاکہنا تھا کہ پاکستان نے ایک برس میں ہر فورم پر بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی اقدامات پر آواز اٹھائی ہے، گلگت بلتستان پر بھارتی میڈیا کی رپورٹس پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔