انسداد پولیو مہم 20 جولائی سے کووڈ-19 ایس اوپیز کے تحت شروع ہوگی، معاون خصوصی

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2020

ای میل

پاکستان میں 4 ماہ قبل مہم روک دی گئی تھی—فائل/فوٹو:اے پی
پاکستان میں 4 ماہ قبل مہم روک دی گئی تھی—فائل/فوٹو:اے پی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان کے مخصوص علاقوں میں انسداد پولیس مہم کا آغاز 20 جولائی سے ہوگا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 'جیسے ہی کووڈ-19 سے متعلق حالات بہتر ہورہے ہیں، ہم 20 جولائی سے مخصوص علاقوں میں پولیس مہم بحال کر رہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران 'سماجی فاصلے اور ویکسین کے تحفظ کے تمام ایس اوپیز پر عمل کیا جائے گا'۔

خیال رہے کہ ملک میں پولیو مہم کو 4 ماہ قبل کووڈ-19 کے باعث معطل کردی گئی تھی۔

پولیو کے خلاف تازہ مہم میں مخصوص علاقوں میں گھر گھر جاکر مہم چلائی جائے گی اور اس مہم کو کووڈ-19 سے بچاؤ کے لیے اقدامات کی آگاہی کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا اور حاملہ خواتین کا خیال رکھنے سے متعلق آگاہی بھی دی جائے گی۔

ملک میں 20 جولائی سے شروع ہونے والی مہم کے دوران فیصل آباد، اٹک، جنوبی وزیرستان، کوئٹہ اور کراچی کے علاقوں میں ویکسین دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ملک میں پولیو کے مزید 2 کیسز رپورٹ، رواں سال مجموعی تعداد 44 ہوگئی

اس مہم میں 5 سال سے کم عمر کے 8 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

'خیبر پختونخوا میں صرف جنوبی وزیرستان میں مہم چلائی جائے گی'

قبل ازیں پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور خان جھگڑا نے کہا کہ 'ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے بعد یہ پولیو کی پہلی مہم ہے جس کا آغاز کیا جارہا ہے، تاہم یہ مہم فی الحال صرف جنوبی وزیرستان میں چلائی جائے گی اور یہ معمول کی زندگی کی طرف پیش قدمی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہم صرف صحت کے ایک مسئلے پر توجہ نہیں دے سکتے، پولیو بھی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو ملک میں پولیو کے خاتمے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پولیو کی یہ مہم تین روز پر محیط ہوگی جس میں 78 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، 609 ٹیمیں 48 ہزار گھروں میں جائیں گی اور جہاں بچے اس وقت موجود نہیں ہوں گے یا انکار کیا جائے گا وہاں چوتھے اور پانچویں روز ٹیمیں دوبارہ جائیں گی۔'

تیمور جھگڑا نے کہا کہ 'پولیو مہم کے دوران کورونا کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیے عملے کو تربیت دی گئی ہے اور انہیں ذاتی حفاظت کا سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔'

ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں وائلڈ پولیو کے 57 میں سے 21 کیسز خیبر پختونخوا میں موجود ہیں جبکہ پولیو ٹائپ ٹو کے کُل 50 میں سے 42 کیسز صوبے میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان دنیا میں پولیو سے متاثر دو ممالک میں شامل ہے جبکہ پولیو کے کیسز میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

رواں برس اب تک پولیو کے مجموعی طور پر 59 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے 21 خیبر پختونخوا، 20 سندھ، 14 بلوچستان اور 4 پنجاب سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس مئی میں 2 کیسز سامنے آئے تھے جس کے حوالے سے قومی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں ڈیڑھ سالہ بچی پولیو کے سبب معذوری کا شکار ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وائلڈ پولیو بیماری نہیں بلکہ یہ پولیو کی سیبن لائیک ٹائپ 2 ڈرائیوڈ (ایس ایل ٹی 2 ڈی) قسم ہے اور اس طرح کا وائرس دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹ ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے، رواں سال مجموعی تعداد 41 ہوگئی

ان ممالک میں فلپائن، چین، انڈونیشیا، نائیجیریا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور افریقہ کے متعدد ایسے ممالک شامل ہیں جہاں پولیو بیماری کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

وائلڈ پولیو وائرس کی 3 سیرو ٹائپس پائی جاتی ہیں جو کیپسڈ پروٹین کے معمولی فرق کے ساتھ ٹائپ 1، ٹائپ 2 اور ٹائپ 3 ہیں۔

پاکستان میں اورل پولیو ویکسین (او پی ویز) یعنی قطروں اور انجیکشن کی صورت میں ٹائپ 1 اور ٹائپ 3 وائرسز دیے جاتے ہیں'۔

تاہم 2014 میں ملک میں ٹائپ 2 وائرس دینا بند کردیا گیا تھا اور سال 2016 سے وہ ملک میں ماحولیاتی سطح پر بھی نہیں پایا گیا۔

ماحولیاتی سطح پر پولیو وائرس کا مثبت آنے کا مطلب یہ ہے کہ سیوریج کے پانی میں وائرس پایا جائے۔

قومی ادارہ صحت کے عہدیدار نے مزید بتایا تھا کہ سال 2019 میں مختلف علاقوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز سے یہ ظاہر ہوتا ہے وائرس کی کچھ باقیات کسی لیبارٹری یا کسی اور جگہ رہ گئی تھی جو انسانی غلطی کے سبب پھیلنا شروع ہوگئی۔