ایران نے قاسم سلیمانی کی مخبری کرنے والے کو پھانسی دے دی

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2020

ای میل

عدالت کے مطابق محمود موسوی کا کیس رواں برس کے اوائل میں قاسم سلیمانی کے قتل سے منسلک نہیں تھا—فائل فوٹو: اے پی
عدالت کے مطابق محمود موسوی کا کیس رواں برس کے اوائل میں قاسم سلیمانی کے قتل سے منسلک نہیں تھا—فائل فوٹو: اے پی

ایران نے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کو پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی سے متعلق معلومات دینے والے ایرانی شہری کو پھانسی دے دی۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ایران کی سرکاری خبر ایجنسی آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی شہری کو آج (پیر کی) صبح پھانسی دی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ایرانی عدلیہ نے کہا تھا کہ محمود موسوی ماجد جنہیں 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا، انہوں نے پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی جاسوسی کی تھی۔

عدالت نے مزید کہا تھا کہ محمود موسوی کا کیس رواں برس کے اوائل میں قاسم سلیمانی کے قتل سے منسلک نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: قاسم سلیمانی کے بارے میں سی آئی اے کو معلومات فراہم کرنے والے کو پھانسی دیں گے، ایران

تاہم گزشتہ ماہ ایک نیوز کانفرنس میں عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسمٰعیلی نے کہا تھا کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور موساد کے لیے کام کرنے والے جاسوسوں میں سے ایک محمود موسوی مجید کو سزائے موت دی جائے گی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس (محمود موسوی) نے ہمارے دشمن کو قاسم سلیمانی کے ٹھکانوں کے بارے میں بتایا۔

ادھر ارنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسمٰعیلی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آج علی الصبح امریکا اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے ایرانی شہری کو پھانسی دے دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ محمود موسوی ماجد، پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے اندر امریکا کے لیے جاسوسی کر رہا تھا اور مختلف ادوار میں کچھ فوجی کمانڈروں خاص طور پر جنرل قاسم سلیمانی کی سرگرمیوں اور اس کے ٹھکانوں سے دشمنوں کو مطلع کیا تھا۔

علاوہ ازیں فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ کے مطابق جاسوسی کے الزام میں محمود موسوی ماجد کی سزا پر پیر کی صبح عملدرآمد کیا گیا تاکہ اس کی اپنے ملک سے غداری کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے۔

قاسم سلیمانی کا قتل

یاد رہے کہ رواں برس 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔

بعدازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب اسمٰعیل قاآنی کو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔

واضح رہے کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر امریکا کی جانب سے یہ الزام لگایا تھا کہ وہ خطےمیں امریکی فورسز پر حملوں میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاز کا ماسٹرمائنڈ ہے۔

تاہم قاسم سلیمانی کے امریکی فضائی حملے میں قتل کے بعد دونوں ممالک امریکا اور ایران میں کشیدگی شدت اختیار کرگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عراق: امریکی فضائی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ ہلاک

قاسم سلیمانی کے ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا اور ملک میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

اسی روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیے تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قاسم سلیمانی سے 'بہت سال پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کو مارنے کی سازش کر رہے تھے لیکن وہ پکڑے گئے'۔

دوسری جانب ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں ایران کی جانب سے اس حملے کا جواب دیا گیا تھا اور اس نے اس عراقی ایئربیس پر حملہ کیا تھا جہاں امریکی فوجی مقیم تھے۔

مظاہروں میں ملوث 3 افراد کی پھانسی معطل

خیال رہے کہ ایرانی شہری کو پھانسی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب لاکھوں ایرانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر گزشتہ برس نومبر میں حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث 3 ملزمان کو پھانسی کی سزا سنانے کے خلاف احتجاج کیا جس کے بعد اب ان تینوں کی سزائے موت پر عمل روک دیا گیا۔

ڈان اخبار میں شائع خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان ملزمان میں سے ایک کے وکیل نے بتایا کہ ایران نے نومبر میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیے گئے مظاہروں سے وابستہ 3 افراد کی پھانسی معطل کردی۔

وکیل بابک پاکنیا نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں دوبارہ ٹرائل کی درخواست کی تھی اور اسے منظور کرلیا گیا ہے، ہمیں امید ہے کہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایران: 5 روز سے جاری مظاہروں میں 106 افراد ہلاک ہوئے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران کی ایک عدالت نے ان تینوں ملزمان کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ ان تینوں کے موبائل فونز سے نومبر میں بینکس اور سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کرنے سے متعلق شواہد ملے تھے۔

خیال رہے کہ جن 3 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ان میں موبائل فون کی دکان پر کام کرنے والا 26 سالہ امیر حسین مرادی، 28 سالہ طالب علم سید تامجیدی اور 26 سالہ محمد رجبی شامل تھے۔

دوسری جانب ارنا نیوز کے مطابق ملزمان کی نمائندگی کرنے والے 4 وکلا نے کہا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے گا کیونکہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے پہلے ہی ان فیصلوں کی مخالفت کی تھی۔

واضح رہے کہ ایران میں پھانسی کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد سے اس پر عملدرآمد رکوانے کے لیے آن لائن 'پھانسی مت دو' کا ہیش ٹیگ استعمال کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں عدلیہ کے ترجمان نے ایک قانونی شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'غیر معمولی کارروائی 'پر فیصلہ تبدیل ہوسکتا ہے جس کے تحت چیف جسٹس ضروری سمجھیں تو وہ مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ نومبر 2019 می ایران کی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے غیر متوقع فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے تھے جس میں درجنوں افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج، ایک شہری جاں بحق

ایران کی حکومت نے کہا تھا کہ ابتدائی 60 لیٹر پر 50 فیصد اضافہ ہوگا اور ہر ماہ اس سے تجاوز پر 300 فیصد اضافہ ہوگا۔

قیمتوں میں اضافے کے بعد سیرجان کے علاوہ دیگر شہروں ابادان، اہواز، بندر عباس، برجند، گجساران، خرمشہر، مشہر، مشہد اور شیراز میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔

ایک سینئر ایرانی قانون ساز نے کہا تھا کہ مظاہروں کے دوران 230 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

تاہم حکام نے کئی ماہ تک اس حوالے سے اعداد و شمار جاری کرنے سے انکار کیا تھا اور غیر ملکی میڈیا سمیت انسانی حقوق کے گروہوں کے اعداد و شمار کو 'جھوٹ' قرار دیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ مظاہروں میں 304 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے آزاد گروہ نے غیر مصدقہ رپورٹس کی بنیاد پر دسمبر میں کہا تھا کہ مظاہروں میں 400 افراد ہلاک ہوئے جن میں 12 بچے بھی شامل تھے۔