کراچی کے 2 اضلاع میں پولیو مہم کا آغاز

اپ ڈیٹ 26 اگست 2020

ای میل

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو  نے کراچی میں پولیو کی مہم کا آغاز کیا—تصویر: محکمہ صحت سندھ ٹوئٹر
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کراچی میں پولیو کی مہم کا آغاز کیا—تصویر: محکمہ صحت سندھ ٹوئٹر

کراچی : وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کراچی میں پولیو کی مہم کا آغاز کردیا، یہ مہم شہر قائد کے ضلع وسطی اور غربی میں ہوگی۔

مہم کے آغاز کے موقع پر سیکریٹری صحت کاظم جتوئی، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کوآرڈینیٹر فیاض عباسی اور ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر احمد علی بھی موجود تھے۔

20 جولائی سے کراچی کے 2 اضلاع میں شروع ہونے والی اس پولیو مہم کے دوران 2 لاکھ 60 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں سال میں اب تک ملک بھر سے پولیو کے 60 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 21 خیبر پختونخوا، 20 سندھ، 15 بلوچستان اور پنجاب سے 4 کیسز شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسین کی فراہمی واحد حل

رواں سال مارچ سے اب تک کووڈ 19 کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے باعث انسداد پولیو مہم بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

پاکستان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جسمانی فاصلے کو برقرار رکھنے کی غرض سے عارضی طور پر ویکسینیشن کی مہمات کو معطل کردیا تھا، جن میں انسداد پولیو مہم بھی شامل تھی اس کے ساتھ ہی تمام تر توجہ کورونا وائرس سے جنگ کی جانب مبذول ہوگئی تھی۔

تاہم پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی ون) اور ویکسین سے اخذ شدہ پولیو وائرس ٹائپ ٹو (سی وی ڈی پی وی ٹو) پھیل رہا ہے اور یہ 28 متاثرہ اضلاع میں بالترتیب 59 اور 47 کیسز تک پہنچ چکا ہے۔

اگر اس تعداد کا گزشتہ سال کے اسی عرصے سے موازنہ کیا جائے تو یہ تشویشناک ہے کیونکہ گزشتہ سال ڈبلیو پی وی کے کیسز کی تعداد 44 تھی جبکہ سی وی ڈی پی وی ٹو کے کیسز کی تعداد صفر تھی۔

مزید پڑھیں: انسداد پولیو مہم 20 جولائی سے کووڈ-19 ایس اوپیز کے تحت شروع ہوگی، معاون خصوصی

مذکورہ صورت حال کے پیشِ نظر حکومت نے20 جولائی سے دوبارہ پولیو مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا جس کے پہلے حصے میں فیصل آباد، اٹک، جنوبی وزیرستان، کراچی اور کوئٹہ کے کچھ علاقوں میں 5 سال سے کم عمر کے 8 لاکھ بچوں کو ویکسین فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

اس حوالے سے ضروری اختیاطی تدابیر کو سامنے رکھتے ہوئے ویکسین فراہم کرنے والے رضا کاروں کو خصوصی طور پر تربیت فراہم کی گئی ہے، جس میں دروازوں پر دستک دینا اور مارکیٹنگ، گھروں میں مطلوبہ جسمانی فاصلہ برقرار رکھنا، ویکسینیشن کے دوران بچوں کے تحفظ کے لیے محفوظ طریقہ کار کو اپنانا شامل ہے۔

پولیو کے قطرے پلانا کیوں ضروری ہے؟

خیال رہے کہ پولیو ایک معتدی بیماری ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ بنیادی طور پر 5 سال تک کے عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتی ہے اور اپاہج یا یہاں تک کے موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اگرچہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں ویکسینیشن سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں پولیو مہم 4 ماہ کی معطلی کے بعد بحال

ہر مرتبہ 5 سال تک کی عمر کے بچے/بچی کو ویکسین دینا اس کے وائرس سے تحفظ کو بڑھا دیتا ہے۔

بار بار حفاظتی ٹیکوں نے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ کردیا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہوچکے ہیں۔

تاہم دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ہیں جہاں پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

عوام پولیو مہم کو کامیاب بنائیں، وزیراعلیٰ سندھ

علاوہ ازیں پولیو مہم کے آغاز کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ آج سے پولیو مہم شروع ہوئی ہے، عوام اس مہم کو کامیاب بنائیں،تاکہ پولیو مہم کے دوران کوئی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیو مہم کی کامیابی عوام اور پولیو ورکرز پر منحصر ہے اور جو بچے گزشتہ مہم میں قطرے نہیں پی سکے تھے انہیں پولیو کے قطرے ضرور پلائے جائیں۔

مزید پڑھیں: علما نے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کو شریعت کے مطابق قرار دے دیا

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں پولیو وائرس سے اپنے بچوں کو بچانا ہے، مجھے یقین ہے لوگ اپنے بچوں کو اپاہج بیماری سے بچانے کیلئے پوری کوشش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خاص طور پر سندھ سے پولیو وائرس کا خاتمہ کرنا ہے۔

پولیو مہم آپکے بچوں کی حفاظت کیلئے ہے، صوبائی وزیر صحت

ادھر پولیو مہم کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے والدین سے گزارش کی کہ اپنے بچوں کے دو قطرے ضرور پلائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آپ کے بچوں کی حفاظت کے لیے ہے اور اس سلسلے میں ہمارا ساتھ دیں۔

کووِڈ 19 کے پیشِ نظر صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ پولیو ورکرز کو حفاظتی تدابیر کی آگاہی دی جائے گی اور ماسکس فراہم کیے جائیں گے تا کہ اس دوران وائرس سے حفاظت بھی یقینی رہے۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ تقریباً ایک ہزار 400 ٹیمز پولیو مہم میں حصہ لے رہی ہیں جن کے ہمراہ پولیس اور رینجرز کی نفری بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے پولیو ورکرز کو ماسک، گلوز اور ہینڈ سینیٹائزرز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو قطرے پلانے کے حوالے سے ان کی تربیت بھی کی گئی یے۔

صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر پولیو مہم شروع کرنے سے قبل اسے محدود پیمانے پر شروع کیا گیا ہے تاکہ وبا کے دوران عوام کا ردِ عمل بھی معلوم ہوسکے۔