کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں پولیو مہم 4 ماہ کی معطلی کے بعد بحال

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2020

ای میل

ابتدائی طور پر توجہ کوئٹہ کی ان یونین کونسلز پر مرکوز ہوگی جہاں سیوریج کا بڑا نیٹ ورک موجود ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ابتدائی طور پر توجہ کوئٹہ کی ان یونین کونسلز پر مرکوز ہوگی جہاں سیوریج کا بڑا نیٹ ورک موجود ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی مخصوص یونین کونسلز میں کورونا وائرس کی وجہ سے 4 ماہ تک معطل رہنے والی پولیو مہم کا آج سے دوبارہ آغاز ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر توجہ ضلع کوئٹہ کی ان یونین کونسلز پر مرکوز ہوگی جہاں سیوریج کا بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔

واضح رہے کہ کووڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہونے والے طویل خلا کے بعد ان علاقوں سے جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وائرس گردش کر رہا ہے جو 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے خطرناک ہے۔

اس حوالے سے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر راشد رزاق کا کہنا تھا کہ مہم کے دوران ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس، ملک میں تعداد 60 تک پہنچ گئی

ان کا کہنا تھا کہ 'مہم کے آغاز کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے، اس مہم میں کم از کم 541 ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں 395 موبائل ٹیمیں اور 34 فکسڈ ٹیمیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم حکومت بلوچستان اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تجویز کردہ رہنما اصولوں اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی تعمیل کو یقینی بنارہے ہیں'۔

کو آرڈینیٹر کا کہنا تھا کو 'پولیو ٹیموں کو سینیٹائزر اور چہرے کے ماسک جیسی ضروری اشیا فراہم کردی گئی ہیں جبکہ پولیو ٹیموں کے 500 سے زائد رضاکاروں کو تربیت بھی دی گئی ہے کہ وہ کس طرح کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ 'ہر فرنٹ لائن ورکر کے درجہ حرارت کی جانچ اس کے فیلڈ میں جانے سے پہلے کی جائے گی'۔

خیال رہے کہ دو روز قبل بلوچستان میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں رواں سال اب تک سامنے آنے والے پولیو کیسز کی کل تعداد 60 ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: علما نے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کو شریعت کے مطابق قرار دے دیا

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017 کے 8 اور 2018 کے 12 کیسز کے مقابلے میں سال 2019 میں پولیو کے زیادہ سے زیادہ 147 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، تاہم رواں سال اب تک 60 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔

صوبائی سطح پر اگر دیکھیں تو رواں سال اب تک خیبرپختونخوا سے سب سے زیادہ 21، سندھ سے 20، بلوچستان سے 15 اور پنجاب سے 4 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ پولیو ایک معتدی بیماری ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ بنیادی طور پر 5 سال تک کے عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتی ہے اور اپاہج یا یہاں تک کے موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اگرچہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں ویکسینیشن سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور ہر مرتبہ 5 سال تک کی عمر کے بچے/بچی کو ویکسین دینا اس کے وائرس سے تحفظ کو بڑھا دیتا ہے۔

خیال رہے کہ بار بار حفاظتی ٹیکوں نے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ کردیا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہوچکے ہیں۔

تاہم دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ہیں جہاں پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

جس کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو سے متعلق سفری پابندیاں پاکستان پر برقرار ہیں اور اس وجہ سے 2014 سے ہر شخص کے لیے بیرون ملک سفر کے لیے پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔