کراچی کے مسائل کے حل کیلئے وزیر اعظم کی پاک فوج کو کردار ادا کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 30 جولائ 2020

ای میل

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، میئر کراچی وسیم اختر اور پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو: اسجرین شا
گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، میئر کراچی وسیم اختر اور پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو: اسجرین شا

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کے مسائل کے سلسلے میں سمری پر دستخط کر دیے ہیں اور پاک فوج سے ان مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا کہ وزیر اعظم نے کراچی کے معاملات کو دیکھتے ہوئے مجھے اسلام آباد طلب کیا تھا اور میں نے کراچی کے تشویشناک اور خوفناک حالات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔

گورنر سندھ کے ساتھ میئر کراچی وسیم اختر اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، کرنٹ لگنے سے مزید 3 افراد جاں بحق

عمران اسمعٰیل نے کہا کہ کراچی میں جب بھی بارش ہوتی ہے تو گٹر ابل پڑتے ہیں اور ان کے ابلنے کے بعد ہمیں یاد آتا ہے کہ ان کی صفائی نہیں کی گئی اور پھر ہم نالوں کی صفائی پر لگ جاتے ہیں، جب نالوں کی صفائی کر لیتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ کچرہ باہر آ گیا ہے، مکھیاں بہت ہیں تو اس وجہ سے بیماریاں پھیلنا شروع ہو گئی ہیں یعنی ہمارے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی کراچی میں بارش کے دو اسپیل باقی ہیں اور ہم یہی باتیں کر رہے ہیں کہ ابھی 16-17 علاقے ڈوبے ہیں، باقی کراچی تو بچ گیا ہے لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ وہ شہر جو پاکستان کا معاشی حب ہے اسے مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت پر مسائل کی ذمے داری ڈالی جاتی ہے، ایک طرف کہا جاتا ہے کہ وفاق نے 162 ارب میں سے ایک روپیہ بھی کراچی پر نہیں لگایا اور دوسری جانب کہتے ہیں کہ وفاق کے ترقیاتی کاموں سے شہر ڈوب رہا ہے لہٰذا یہ ایک دوسرے پر ذمے داری عائد کی جا رہی ہے، کوئی حل دینے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم کو یہ بات باور کرائی کہ اس طرح سے کراچی نہیں چل سکتا اور وزیر اعظم نے فوری ایکشن لیتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ ساتھ فرنٹیئر مینجمنٹ آرگنائزیشن کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ فوری اپنا منصوبہ لے کر کراچی پہنچیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش، حادثات میں دو بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق

عمران اسمٰعیل نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایک سمری پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان آرمی کو اس ذمے داری میں حصہ ڈالنے کو کہا گیا ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ یہ طویل المدتی کام ہونے جا رہا ہے، فوری طور پر ہمیں قلیل المدتی منصوبوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ کچرے کو اٹھایا جائے اور نالوں کی صفائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کراچی کو ریلیف کی صورت میں جو طویل المدتی منصوبہ دیا ہے اور اس میں فنڈز کو محوود نہیں رکھا گیا، یہ نہیں کہ 50 کروڑ ہوں گے یا 50 ارب ہوں گے، جو کچھ بھی کراچی کے لیے کرنا پڑے گا، وہ کریں گے، جو فنڈز بروئے کار لا سکتے ہیں وہ لائے جائیں گے، جو ورلڈ بینک کے فنڈز ہیں، ان کو بھی استعمال کیا جائے گا اور کسی طرح بھی کراچی میں پیسے کی وجہ سے کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو تکالیف کراچی نے اب تک دیکھی ہیں، ہم ایک دن میں ان کا مداوا تو نہیں کر سکتے لیکن اب خوشخبری دے سکتا ہوں کہ وفاق پر پوری طرح کراچی پر متوجہ ہو گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان اس وقت کراچی پر بہت توجہ دے رہے ہیں اور وفاقی وزرا سے ایک گھنٹہ گفتگو کے بعد انہوں نے مجھ سے بھی اتنی ہی دیر اس معاملے پر گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اہم سمری پر دستخط کے بعد صفائی کا کام فوری شروع ہو جائے گا اور فوج اس کام کی نگرانی کرے گی۔

عمران اسمٰعیل نے کہا کہ وہ 3 مراحل میں کام کریں گے جس کے تحت پہلے مرحلے میں نالوں سے نکالا ہوا کچرا مخصوص مقامات پر پہنچایا جائے گا جس کے بعد بند نالوں کی صفائی کی جائے گی اور جراثیم کُش اسپرے بھی کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں بارش، کرنٹ لگنے سے حادثات کا خدشہ

انہوں نے کہا کہ ہمیں وہی کراچی واپس لوٹانا ہے جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا اور کراچی کو اس کا جائز حق دیں گے۔

اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل آرٹیکل 140(اے) میں چھپا ہوا ہے اور وزیر اعظم سے درخواست کروں گا کہ اس آرٹیکل کو روح کے مطابق لاگو کیا جائے جبکہ سپریم کورٹ مین بھی ہماری پٹیشن 2017 سے زیر التوا ہے، اسے بھی سن کر آرٹیکل 140 (اے) کو اس کی روح کے مطابق نافذ کیا جائے کیونکہ اسی میں مستقل حل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آرٹیکل 140 (اے) کو اس کی روح کے مطابق نافذ نہ کیا گیا اور یہی اختیارات اور وسائل اگلے الیکشن کے بعد بھی منتخب لوگوں کو دیے جائیں گے تو الیکشن نہ ہی کرائے جائیں تو بہتر ہے کیونکہ کوئی بھی شخص اس وقت تک کام نہیں کر سکتا جب تک اسے میونسیپل کارپوریشن کے اختیارات نہیں ملیں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ پاکستان کا آئین تین سطح کی حکومتوں وفاقی، صوبائی اور لوکل گورنمنٹ پر مشتمل ہے اور سندھ لوکل باڈیز ایکٹ، جو بربادی لے کر آیا ہے، نے بلدیاتی نظام کو تباہ کردیا ہے اور آرٹیکل 140 (اے) اسے لوکل باڈیز کے بارے میں بات کرتا ہے اور اس کی بحالی انتہائی ضروری ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ کئی روز سے کے الیکٹرک کی جانب سے طویل اور غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث گرمی کے ستائے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور شہری گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہ رہے ہیں۔

بارشوں کے باعث کراچی میں ایک درجن سے زائد افراد اب تک لکرنٹ لگنے اور مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

بارشوں کے نتیجے میں شہر کے متعدد علاقے زیر آب آ گئے تھے اور کئی علاقوں میں گھروں میں پانی کھڑا ہو گیا تھا جبکہ مختلف علاقوں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا۔

کئی علاقوں میں گاڑیاں ڈوبنے اور زیر آب علاقوں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرس ہو گئی تھیں جس کے بعد لوگوں نے وزیر اعظم سے معاملے کا نوٹس لیے کا مطالبہ کیا تھا۔