چمن: سرحد پر سیکیورٹی فورسز اور مشتعل ہجوم میں جھڑپ، 3 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 31 جولائ 2020

ای میل

بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوکر سرحد عبور کرنے کے ارادے سے فرینڈشپ گیٹ پر دھرنا دے رہے تھے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوکر سرحد عبور کرنے کے ارادے سے فرینڈشپ گیٹ پر دھرنا دے رہے تھے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

کوئٹہ: چمن میں فرینڈشپ گیٹ بارڈر کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سمیت کم از کم 3 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ جمعرات کو بڑی تعداد میں لوگوں نے اکٹھے ہوکر سرحد عبور کرنے کے ارادے سے فرینڈشپ گیٹ پر دھرنا دیا۔

فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کے اہلکاروں نے انہیں گیٹ سے ہٹ جانے کو کہا تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

ایف سی حکام نے انہیں بتایا کہ مظاہرین کی منتقلی تک گیٹ نہیں کھولا جائے گا۔

دریں اثنا خواتین اور بچوں سمیت افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی افغانستان میں داخل ہونے کے لیے وہاں جمع ہوگئی تاہم جب سرحدی عہدیداروں نے گیٹ نہیں کھولا تو مظاہرین مشتعل ہوگئے اور فرینڈشپ گیٹ پر واقع ایف سی اور دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر پر حملہ کیا اور ایف سی اور نادرا کے دفاتر کو آگ لگا دی۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد: فائرنگ کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق

ایف سی اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولیاں چلائیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں اطراف سے مزید لوگ احتجاج میں شامل ہوگئے۔

دریں اثنا، عہدیداروں نے بتایا کہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں اور ایک ہجوم نے سرحد کے قریب کنٹینروں میں قائم 300 کمروں کے قرنطینہ مرکز پر حملہ کیا اور اسے آگ لگا دی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ہجوم میں موجود کچھ شرپسندوں نے صورتحال کو مزید گھمبیر کردیا اور کچھ گولیوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، ہنگامے میں، 3 افراد ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہوئے۔

بعد ازاں مظاہرین چمن شہر کی جانب گئے جہاں انہوں نے زبردستی تمام بازار اور شاپنگ مال بند کرادیے اور سڑکیں بند کردیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اعلی عہدے دار ذکاء اللہ درانی نے ڈان کو بتایا کہ 'چمن میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں'۔

ڈاکٹر ملک اچکزئی نے بتایا کہ 'ضلعی ہسپتال میں ہمیں 3 افراد کی لاشیں موصول ہوئی ہیں اور 20 زخمی لائے گئے تھے جن میں سے چھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے انہیں کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: باجوڑ میں سرحد پار سے چیک پوسٹ پر فائرنگ، پاک فوج کا جوان شہید

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'احتجاج میں کچھ شرپسندوں نے مظاہرین کو مشتعل کیا، واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، حکومت، عوام اور ملک کے مفاد میں فیصلے کرے گی، اگر سرحد پار سے تناؤ ہے تو ہم اس کا جواب دیں گے، ہم واقعے کی تفتیش مختلف زاویوں سے کریں گے اور تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی'۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر چمن بارڈر بند کردیا تھا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر افغان فورسز کی جانب سے سرحد پر کسی بھی طرح کی کشیدگی دیکھی گئی تو اس کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم دراندازی یا جارحیت کی اجازت نہیں دیں گے، دشمن سرحد پار بیٹھا ہے اور پاکستان کا امن خراب کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، ہم دہشت گردی کے خطرات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں'۔