حج کے دوران خانہ کعبہ میں تنہا عبادت کرنے والی خوش نصیب خاتون

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

تنہا عبادت کرنے والی خاتون کی تصویر وائرل ہونے کے بعد ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا—فوٹو: ٹوئٹر
تنہا عبادت کرنے والی خاتون کی تصویر وائرل ہونے کے بعد ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا—فوٹو: ٹوئٹر

فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر کے مسلمان ممالک سے ہر سال 25 لاکھ عازمین سعودی عرب جاتے ہیں اور ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے اسے تنہائی میں عبادت کا موقع ملے مگر لوگوں کے جم غفیر میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔

تاہم رواں سال کورونا کی وبا کے باعث محدود عازمین کو حج کی اجازت دینے سے کئی لوگوں کو تنہا یا انتہائی کم افراد کے ساتھ عبادت کرنے کا موقع ملا۔

ایسی ہی ایک خوش نصیب خاتون کو فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران خانہ کعبہ کے طواف کے دوران تنہا عبادت کرنا کا موقع ملا۔

اور اس خوش قسمت خاتون کی خانہ کعبہ میں تن تنہا خدا سے دعا مانگتے ہوئے کھینچی گئی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

خانہ کعبہ میں طواف کے دوران تنہا عبادت کرنے والی خاتون کی وائرل ہونے والی تصویر سب سے پہلے حرمین کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 29 جولائی کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مناسک کے آغاز کے دن شیئر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: محدود عازمین کے ساتھ مناسک حج کا آغاز

تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں سے خالی خانہ کعبہ کے صحن میں خاتون تنہا کھڑی اپنے رب سے دعا مانگ رہی ہیں۔

مذکورہ تصویر ٹوئٹر پر وائرل ہوئی اور دنیا بھر سے تنہا عبادت کرنے والی خاتون کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا اور انہیں مبارک باد پیش کی گئی۔

خیال رہے کہ رواں سال کورونا کی وبا باعث 25 لاکھ عازمین کے بجائے صرف 10 ہزار عازمین کو حج کی اجازت دی گئی تھی اور تمام عازمین کا انتخاب سعودی عرب میں مقیم افراد سے کیا گیا تھا۔

اس سال کئی افراد کو قدرے تنہائی سے عبادت کرنے کا موقع میسر ہوا—فوٹو: حرمین ٹوئٹر
اس سال کئی افراد کو قدرے تنہائی سے عبادت کرنے کا موقع میسر ہوا—فوٹو: حرمین ٹوئٹر

عرب نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق حج کے لیے منتخب کیے گئے 10 ہزار عازمین میں سے 70 فیصد عازمین سعودیہ میں غیر ملکی افراد تھے جب کہ 30 فیصد عازمین سعودی رہائشی تھے۔

سعودی عرب کی حکومت نے اس سال ان افراد کو حج کے لیے منتخب کیا تھا جو کافی عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ہونے سمیت مختلف مسائل کی وجہ سے کبھی حج نہیں کر پائے تھے۔

اس سال انتہائی کم افراد کو حج کی سعادت نصیب ہوئی—فوٹو: حرمین ٹوئٹر
اس سال انتہائی کم افراد کو حج کی سعادت نصیب ہوئی—فوٹو: حرمین ٹوئٹر

اس بار حکومت نے محکمہ صحت، سیکیورٹی اور صفائی سمیت دیگر خدمات پر مامور سرکاری ملازمین کو بھی حج کے لیے منتخب کیا تھا اور جن ملازمین کو منتخب کیا گیا تھا انہوں نے پہلی بار فریضہ حج ادا کیا۔

مزید پڑھیں: اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کا علاج نہ ہو، خطبہ حج

25 لاکھ عازمین کے بجائے صرف 10 ہزار عازمین ہونے کی وجہ سے اس بار کئی عازمین کو انتہائی کم افراد کے ساتھ یا پھر تنہا عبادت کرنے کا موقع بھی ملا۔

اس سال خواتین کو بھی کم تعداد کے ساتھ عبادت کرنے کا موقع میسر آیا—فوٹو: حرمین ٹوئٹر
اس سال خواتین کو بھی کم تعداد کے ساتھ عبادت کرنے کا موقع میسر آیا—فوٹو: حرمین ٹوئٹر

اس سال خواتین کی تعداد بھی کم ہونے کی وجہ سے انہیں بھی تنہا عبادت کرنے کا موقع ملا۔

فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران کورونا سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں اور دیگر انتظامات کیے گئے تھے اور عازمین کو فیس ماسک پہننے کی ہدایات سمیت سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات بھی کی گئی تھیں۔

اس سال محض 10 ہزار افراد کو حج کی سعادت حاصل ہوئی—فوٹو: حرمین ٹوئٹر
اس سال محض 10 ہزار افراد کو حج کی سعادت حاصل ہوئی—فوٹو: حرمین ٹوئٹر