'ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا، ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے'

اپ ڈیٹ 05 اگست 2020

ای میل

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران نیب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں نیب افسران کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، ہمیں اللہ سے زیادہ ایک آمر کا خوف ہوتا ہے، ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے نیب افسران کے نام پر پیسے لینے والے ملزم محمد ندیم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب عرفان نعیم منگی کے تقرر اور اہلیت پر سوال اٹھایا اور سپریم کورٹ نے نیب کے تمام ڈی جیز کے تقرر سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔

عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل برائے پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چیئرمین نیب کے افسران کی بھرتیوں کے اختیار کا نوٹس بھی لے لیا۔

مزید پڑھیں: نیب کے افسران میں صلاحیت نہیں، سپریم کورٹ کا احتساب ادارے پر اظہار برہمی

سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب کا سیکشن 28 آئین کے آرٹیکل 240 سے متصادم ہے، چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کرکے کیسے بھرتیاں کرسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ محمد ندیم مڈل پاس ہے اور تفتیش کے مطابق ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم کیسے بہاولپور سے نیب افسر بن کر کال کرتا تھا، محمد ندیم نے ایم ڈی پی ایس او کو ڈی جی نیب بن کر کال کی، ملزم کے پاس کیسے بڑے بڑے افسران کے نمبر آگئے؟

اس پر عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مختلف شکایتیں ملیں اور پی ایس او کے ایم ڈی نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔

پراسیکیوٹر کی بات پر عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ عرفان منگی آپ کی تعلیم اور تنخواہ کیا ہے، جس پر انہوں نے عدالت کو جواب دیا کہ میں انجینئر ہوں اور میری تنخواہ 4 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔

اس پر جسٹس عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں، جس پرعرفان منگی نے جواب دیا کہ میرا فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں۔

عرفان منگی کے جواب پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ ایک انجینئر نیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے، نیب کیسے کام کررہا ہے۔

ساتھ ہی عدالت نے درست معاونت نہ کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی اور نیب پراسیکیوٹر عمران لاحق کی سخت سرزنش بھی کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں؟ عرفان منگی کس کی سفارش پر نیب میں گھس آئے، چیئرمین نیب اب جج نہیں، ہم انہیں عدالت بلاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارشل لا میں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، ہمیں اللہ سے زیادہ ایک ڈکٹیٹر (آمر) کا خوف ہوتا ہے، مارشل لا سے بہتر ہے دوبارہ انگریزوں کو حکومت دے دی جائے۔

جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ نیب عوام کے پیسے سے چلتا ہے، سب عوام کے نوکر ہیں۔

ساتھ ہی وہ بولے کہ ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا، ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے، نیب جس معاملے میں چاہتا ہے گھس جاتا ہے، ہم نیب کا میڈیا ٹرائل نہیں کر رہے، ویسے بھی میڈیا والے آج کشمیر واک پر گئے ہوئے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نیب والے عوام کے ملازم ہیں، بار بار مواقع دیے گئے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں، نیب افسران کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، لوگوں کو ڈرانے کے لیے نیب کا نام ہی کافی ہے۔

اس پر پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ہم اپنا کام قانون کے مطابق کرتے ہیں، جس پر جسٹس عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے ہمیں نیب کے لیے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی۔

اپنے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے وہ بولے کہ نیب کے 1999 سے اب تک کوئی رولز اینڈ ریگولیشنز (قواعد و ضوابط) بنائے ہی نہیں گئے، قواعد نہ بنانے پر نیب کے اپنے خلاف ریفرنس بنتا ہے۔

دوران سماعت تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزم نے عرفان منگی سمیت مختلف افسران کو اہم شخصیات بن کر کالز کیں، ملزم کے خلاف نیب کی جانب سے مقدمہ درج کروایا گیا۔

اس پر جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر عرفان منگی کو کال کی تھی تو ان کا بیان کیوں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

ساتھ ہی سربراہ بینچ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں ابھی تک کسی گواہ کا ابتدائی بیان ہی نہیں لیا گیا، انہوں نے پوچھا کہ کیا ملزم کے فون کا فرانزک کروایا گیا، جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ فرانزک کی رپورٹ اب تک نہیں آئی۔

اس پر ملزم کے وکیل ظفر وڑائچ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف بلاوجہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں، کسی متاثر کا بیان ریکارڈ تک نہیں کیا گیا جبکہ پہلے نیب ریفرنس بنایا گیا پھر ایف آئی آر درج کروائی گئی۔

سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ہم سب ریاست کے ملازم ہیں، ہم سب نے مل کر قانون کی عملداری میں حائل قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے، حکام کو قانون کے مطابق رائے دینا لا افسران کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کا وقار بحال کیے بغیر قانون کی عملداری قائم نہیں ہو سکتی۔

بعد ازاں عدالت نے ملزم محمد ندیم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔

خیال رہے کہ ملک کے اہم مسائل میں سے بدعنوانی ایک اہم مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس وقت نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال ہیں اور وہ کئی مرتبہ بلا امتیاز احتساب کے عزم کو دوہرا چکے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں: 'سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کا ادارہ بند کر دینا چاہیے'

تاہم اس کے باوجود اب تک احتساب عدالتوں میں کئی مقدمات زیر التوا ہیں جبکہ اپوزیشن میں موجود جماعتیں موجودہ حکومت پر یہ الزام لگاتی آرہی ہیں کہ نیب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ حکومت ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ دنوں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب کے طرز عمل کو قانون، عدل، انصاف اور معقولیت کی مکمل خلاف ورزی کا واضح اظہار قرار دیا تھا۔

87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس مقبول باقر نے لکھا تھا کہ ’موجودہ کیس آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی پامالی، آزادی سے غیرقانونی محرومی اور انسانی وقار کو مکمل طور پر اہمیت نہ دینے کی بدترین مثال ہے‘۔

جسٹس مقبول باقر نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اس کا امتیازی سلوک بھی اس کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے جس کی وجہ اس کی صداقت اور غیرجانبداری پر لوگوں کے یقین کو دھچکا لگا ہے۔