اس مزیدار مشروب کے فائدے بھی دنگ کردینے والے ہیں

06 اگست 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

سبز چائے کا استعمال پاکستان میں بہت عام ہے بلکہ اسے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔

ورم کش اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور یہ گرم مشروب اپنانا درحقیقت ایک بہترین فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔

کیا جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کرشماتی مشروب کس حد تک صحت کے لیے فائدہ مند ہے ؟ کینسر سے لے کر جسمانی چربی گھلانے، دماغی افعال میں تیزی اور امراض قلب کے خطرے میں کمی تک کے لیے اس کا استعمال آپ کو حیران کر دے گا۔

صحت بخش مرکبات سے بھرپور

سبز چائے صرف جسم سے پانی کی کمی ہی دور نہیںکرتی بلکہ اس میں متعدد صحت بخش مرکبات موجود ہیں جو جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں۔

سبز چائے پولی فینولز سے بھرپور مشروب ہے جو ایسے قدرتی مرکبات ہیں جو جسمانی ورم میں کمی اور کینسر سے لڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ سبز چائے میں ای جی سی جی نامی catechin کی ایک قسم ہوتی ہے، catechin ایسے قدرتی اینٹی آکسائیڈنٹس ہیں جو خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں اور دیگر طبی فوائد فراہم کرتے ہیں۔

ان کی مدد سے جسم میں گردش کرنے والے مضر مادے کی گردش، خلیات کو تحفظ اور مالیکولز کو نقصان بچاتے ہیں۔

یہ مضر مادے جلد بڑھاپے اور متعدد دیگر امراض کا شکار کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ای جی سی جی سبز چائے کے چند طاقتور ترین مرکبات میں سے ایک ہے اور اسی سے یہ مشروب صحت کے لیے مفید بنتا ہے۔

اس میں معمولی مقدار میں ایسے منرلز بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔

دماغی افعال بہتر بنائے

سبز چائے ذہنی طور پر ہوشیار رکھنے میں ہی مدد نہیں دیتی بلکہ یہ دماغی افعال کو بھی بہتر بنانے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

اس حوالے سے چائے میں موجود کیفین نامی جز کردار کرتا ہے جس کی مقدار کافی جتنی تو نہیں ہوتی، مگر اتنی ضرور ہتی ہے جو دماغی افعال کو متحرک کرنے میں مدد دے سکے، جبکہ بہت زیادہ کیفین نہ ہونے سے کسی مضر اثر کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔

طبی سائنس کے مطابق کیفین سے دماغی افعال کے متعدد پہلوئوں بشمول مزاج، ہوشیاری، ردعمل کے وقت اور یادداشت میں بہتری آسکتی ہے۔

مگر کیفین ہی دماغی صحت کو بہتر بنانے والا واحد جز نہیں بلکہ اس میں امینو ایسڈ ایل تھیانائن بھی ہوتا ہے جو ذہنی تشویش کی روک تھام کا اثر رکھتا ہے جبکہ ڈوپامائن اور دماغی الفا ویوز کی پروڈکشن بھی بڑھاتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ دونوں جز دماغی افعال کو بہتر بنانے کے حوالے سے خاص طور پر طاقتور اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔

چربی گھلانے کا عمل تیز کرے

اگر چربی گھلانے والے سپلیمنٹس کے اجزا کی فہرست کو دیکھیں تو اس میں سبز چائے کا نام بھی موجود ہوگا۔

طبی سائنس کے مطابق سبز چائے چربی گھلانے اور میٹابولک ریٹ کو تیز کرنے میں مدد دیتی ہے۔

ایک تحقیق میں 10 صحت مند افراد کو سبز چائے ایکسٹریکٹ استعمال کرایا گیا اور ان میں کیلوریز جلنے کی سطح 4 فیصد تک بڑھ گئی۔

تاہم کچھ تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا کہ سبا چائے سے میٹابولزم کی رفتار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، تو امکان ہے کہ اس مشروب کے اثرات کا انحصار انفرادی رویوں پر ہوتا ہے۔

کیفین بھی فیٹی ایسڈز کو متحرک کرکے جسمانی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے اور اس کے لیے چربی کے ٹشوز کو توانائی کے لیے استعمال کرتی ہے۔

خاص طور پر پیٹ اور کمر کے ارگرد چربی گھلانے کے لیے یہ مشروب موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

کچھ اقسام کے کینسر کے خطرے میں ممکنہ کمی

کینسر اس وقت شکار بناتا ہے جب خلیاتا کی نشوونما قابو سے باہر ہوجاتی ہے اور اس وقت دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق تکسیدی تناؤ دائمی ورم کا باعث بنتا ہے جو کینسر سمیت مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اینٹی آکسائیڈنٹس اس تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور سبز چائے طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں سبز چائے کے مرکبات کو بریسٹ کینسر، مثانے کے کینسر، آنتوں کے کینسر کے خطرے میں کمی سے جوڑا گیا۔

متعدد مشاہداتی تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ سبز چائے پینے کے عادی افراد میں متعدد اقسام کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم اس حوالے سے زیادہ گہرائی میں جاکر تحقیق کی ضرورت ہے۔

دماغ کو عمر کے اثرات سے محفوظ کرے

سبز چائے مختصر المدت میں نہ صرف دماغی افعال کو بہتر بنانے والا مشروب ہے بلکہ یہ دماغ کو عمر بڑھنے سے مرتب ہونے والے اثرات سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

الزائمر امراض دماغی تنزلی کا باعث بننے والا عام مرض ہے اور بزرگ افراد میں ڈیمینشیا کا باعث بنتا ہے۔

پارکنسن امراض میں ایک اور عام دماغی مرض ہے اور ڈوپامائن بنانے والے نیورونز کی موت کا باعث بنتا ہے۔

جانوروں اور ٹیسٹ ٹیوبس تحقیقی رپورٹس میں ثابت کیا گیا کہ سبزچائے میں موجود catechin مرکبات دماغی نیورونز کے لیے حفاظتی ڈھال کا کامکرتے ہیں اور ممکنہ طور ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

سانس کی بو کا مسئلہ بھی دور کرے

سبز چائے میں موجود catechins منہ کی صحت کے لیے بھی مفید ہیں۔

رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ ان کے نتیجے میں بیکٹریا کی نشوونما کی روک تھام ہوتی ہے جسسے انفیکشنز کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

خاص طور پر وہ بیکٹریا جو سانس میں بو اور دانتوں کی فرسودگی کا باعث بنتا ہے، اس کے لیے یہ مرکبات موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

خاص طور پر اس گرم مشروب میں لیموں کے عرق کو شامل کرکے سانس کی بو کے مسئلے کو دور کیا جاسکتا ہے۔

ذیابطیس ٹائپ 2 سے ممکنہ تحفظ

ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے جو انسولین کی مزاحمت یا انسولین بنانے کے عمل رک جانے کا باعث بنتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ سبز چائے سے انسولین کی حساسیت بہتر جبکہ بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سبز چائے پینے والے افراد میں ذیابطیس ٹائپ 2 کا خطرہ 42 فیصد تک کم ہوتا ہے جبکہ 7 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ اس مشروب سے اس مرض کا خطرہ 18 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بھی کم کرے

خون کی شریانوں سے جڑے امراض بشمول امراض قلب اور فالج دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ سبز چائے ان امراض کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے جیسے کولیسٹرول کی سطح میں بہتری۔

سبز چائے سے خون کی اینٹی آکسائیڈنٹ گنجائش بھی بڑھتی ہے جو نقصان دہ ایل ڈی ایل کے ذرات سے تحفظ فراہم کرتی ہے، جسے امراض قلب کا باعث بننے والا ایک اہم عنصر مانا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سبز چائے پینے کے شوقین افراد میں خون کی شریانوں سے جڑے امراض سے موت کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

لمبی زندگی کے حصول میں مددگار

سبز چائے میں موجود مرکبات کینسر اور امراض قلب سے ممکنہ تحفظ فراہم کرسکتے ہیں جس سے لمبی زندگی کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔

40 ہزار سے زائد جاپان افراد پر 11 سال تک جاری رہنے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ روزانہ 5 یا اس سے زیادہ کہ سبزچائے پیتے ہیں ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے، خواتین میں یہ شرح 23 جبکہ مردوں میں 12 فیصد دیکھی گئی۔

امراض قلب سے خواتین میں موت کا خطرہ 31 فیصد جبکہ مردوں میں 22 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

فالج سے خواتین میں یہ خطرہ 42 فیصد جبکہ مردوں میں 35 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔