سائنسدانوں نے کووڈ 19 کے علاج کے لیے سیکڑوں ادویات کی شناخت کرلی

13 اگست 2020

ای میل

یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا — شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو نئے کورونا وائرس کا ابھی کوئی باضابطہ علاج یا ویکسین دستیاب نہیں مگر امریکی سائنسدانوں نے ایسی سیکڑوں ادویات کی شناخت کی ہیں جو ممکنہ طور پر کووڈ 19 کے علاج میں مدد دے سکتی ہیں۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ادویات کی شناخت کی گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی روک تھام اور علاج کے لیے موثر ادویات شناخت کرنے کی فوری ضرورت ہے، جس کے لیے ہم نے ایک حکمت عملی مرتب کی ہے۔

اس مقصد کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کمپیوٹر الگورتھم کی مدد لی جو ٹرائل اور غلطیوں سے پیشگوئی کرنا سیکھتا اور خود کو بہتر بناتا۔

کووڈ 19 کی وبا کے خاتمے کے لیے حوالے سے ابھی کچھ بھی واضح نہیں جبکہ علاج کے لیے چند ایک دوائیں جیسے ریمیڈیسیور کو کسی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اسی طرح ویکسین کی تیاری میں بھی چند ماہ لگ سکتے ہیں مگر اس کی بھی ابھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

محققین کے مطابق صورتحال کو دیکھتے ہوئے ادویات کی شناخت میں مددگار حکمت عملی انتہائی اہمیت رکھتا ہے تاکہ منظم طریقے سے کووڈ 19 کے علاج کے لیے نئی ادویات کو دریافت کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایف ڈی اے کی منظور کردہ ایسی ادویات جو وائرس کے داخلے میں مدد دینے والے ایک یا زیادہ پروٹین کو ہدف بناتی ہیں، موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اضافی ادویات یا چھوٹے مالیکیولز جو وائرس کے جسم میں داخلے اور نقول بننے کے عمل میں رکاوٹ بن سکیں، کی دریافت کے لیے ہماری حکمت عملی مددگار ثابت ہوسکے گی۔

تحقیق کے لیے 65 انسانی پروٹینز کی فہرست کو استعمال کیا گیا جن کے بارے میں علم ہوچکا ہے کہ وہ نئے کورونا وائرس کے پروٹینز سے رابطے میں رہتے ہیں، جس کے بعد ہر پروٹین کے لیے مشین لرننگ ماڈلز تیار کیے گئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان ماڈلز کو وائرس کی روک تھام کرنے والے نئے چھوٹے مالیکیول اور ایکٹیویٹرز کی شناخت کی تربیت دی گئی۔

اس کے بعد محققین نے ان مشین لرننگ ماڈلز کو ایک کروڑ عام دستیاب چھوٹے مالیکیولز کی اسکریننگ کے لیے استعمال کرکے شناخت کی کہ کونسے کیمیکلز نئے کورونا وائرس کے پروٹینز سے رابطے میں رہنے والے پروٹینز کے لیے بہترین ہیں۔

اس کے بعد مزید پیشرفت کرتے ہوئے ایسے غذائی مرکبات اور ادویات کو شناخت کیا گیا جن کی منظوری ایف ڈی اے پہلے ہی دے چکی ہے۔

اس طریقہ کار سے نہ صرف انہیں سنگل انسانی پروٹین کو ہدف بنانے والے امیدواروں کی شناخت میں مدد ملی بلکہ انہوں نے دریافت کیا کہ کچھ کیمیکلز 2 یا اس سے زائد انسانی پروٹینز کو بھی ہدف بناسکتے ہیں۔

محققین کے مطابق تاریخی طور پر امراض کے علاج زیادہ پیچیدہ ہوگئے ہیں کیونکہ ہمیں بیماریوں کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل ہورہی ہے ، مشین لرننگ طریقہ کار جیسے ہمارا طریقہ کار طریقہ علاج کے لیے ماہرین کو مستقبل میں تحقیق کے لیے اضافی مواقع فراہم کرسکے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ کمپیوٹیشنل حکمت عملی بڑی تعداد میں کیمیکلز کی ابتدائی اسکریننگ میں سہولت فراہم کرسکے گی کیونکہ روایتی طریقہ کار مہنگا اور مثبت نتائج کے لیے کئی سال لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ڈیٹابیس کووڈ 19 اور دیگر امراض کے خلاف فوری اور محفوظ علاج کی حکمت عملیوں کی شناخت کے وسیلے کا کام کرسکے گا جو ان 65 مخصوص پروٹین سے متعلق ہوں۔

اب یہ محققین نے اپنے کام کو مزید آگے بڑھا کر بتدری کلینیکل ٹرائلز کو شروع کریں گے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل ہیلیون میں شائع ہوئے۔