جرمنی: خاتون کی 5 بچوں کے مبینہ قتل کے بعد خودکشی کی کوشش

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2020

ای میل

پولیس ترجمان کے مطابق واقعے کا پس منظر معلوم کرنے کے لیے تفتیش کی جارہی ہے—فوٹو:رائٹرز
پولیس ترجمان کے مطابق واقعے کا پس منظر معلوم کرنے کے لیے تفتیش کی جارہی ہے—فوٹو:رائٹرز

جرمنی کے شہر زولینگن میں خاتون نے مبینہ طور پر اپنے 5 بچوں کو قتل کرنے کے بعد ریل کے آگے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی لیکن انہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق پولیس نے زولینگن کے ایک اپارٹمنٹ سے 5 بچوں کی لاشیں برآمد کرلیں اور مبینہ طور پر ان کی ماں کو قاتل قرار دیا۔

پولیس کے ترجمان اسٹیفن وئیند کا کہنا تھا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ زولینگن کے ایک اپارٹمنٹ میں 5 بچے مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: جرمنی: مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ 'بدقسمتی سے یہ اطلاع درست ثابت ہوئی اور اس وقت ہم اندازہ لگا رہے ہیں کہ ان کی 27 سالہ ماں قتل کی ذمہ دار ہیں'۔

ترجمان نے کہا کہ 'ماں نے ڈوزلڈوف میں ریل کے آگے چھلانگ لگائی تھی اور بری طرح زخمی ہوئیں، تاہم انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'بچوں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا'۔

پولیس واقعے کا پس منظر معلوم کرنے کے لیے تفتیش کر رہی ہے۔

قبل ازیں جرمن اخبار 'بِلڈ' کے آن لائن ایڈیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بچوں کی نانی نے پولیس کو فون کرکے اطلاع دی تھی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بچوں کی نانی نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے اپنے 5 بچوں کو قتل کیا اور اب مزید ایک بچے کے ساتھ گھر سے باہر جاچکی ہے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے 5 بچوں کی لاشیں برآمد کرلی تھیں جن کی عمریں بالترتیب ایک، 2، 3، 6 اور 8 سال تھیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیس کو 11 سالہ بچہ ان کی نانی کے گھر سے ملا۔

یہ بھی پڑھیں:جرمنی: یہودیوں کی عبادت گاہ کے باہر فائرنگ، 2 افراد ہلاک

یاد رہے کہ جرمنی کے جنوب مغربی علاقے میں رواں برس 24 جون کو مسلح شخص نے فائرنگ کرکے 6 افراد کو ہلاک اور متعدد شہریوں کو زخمی کردیا تھا۔

پولیس ترجمان نے کہا تھا کہ حملہ آور ایک ہی تھا اور فائرنگ سے متاثرین ہونے والے افراد میں سے چند کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

پولیس نے بتایا تھا کہ حملہ آور ایک ہی تھا اور پولیس نے فائرنگ کے بعد مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کا کوئی ساتھی مفررو نہیں ہے۔

اس سے قبل اکتوبر 2019 میں جرمنی کے شہر ہَلے میں یہودیوں کی عبادت گاہ اور تُرک ریسٹورنٹ کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس کی جانب سے پہلے کہا گیا کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور گاڑی میں فرار ہوگئے، تاہم بعد ازاں پولیس نے بتایا کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔