امریکا بحیرہ جنوبی چین میں 'ملٹرائزیشن' کا روح رواں بن رہا ہے، چینی وزیر خارجہ

10 ستمبر 2020

ای میل

چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں—فائل/فوٹو:اے پی
چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں—فائل/فوٹو:اے پی

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ امریکا اپنے سیاسی مفادات کے لیے بحیرہ جنوبی چین میں سرحدی اور بحری حدود میں براہ راست مداخلت کر رہا ہے۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق وانگ یی کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں ملٹرائزیشن کا روح رواں بن رہا ہے۔

آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ کے سربراہی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں انہوں نے امریکا کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا تعلقات کو سرد جنگ کی جانب دھکیل رہا ہے، چین

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ 'امن و استحکام چین کا بحیرہ جنوبی چین میں اعلیٰ ترین تزویراتی مفاد ہے، یہ چین اور آسیان ممالک کا مشترکہ مفاد بھی ہے'.

انہوں نے کہا کہ چین تعاون بڑھانے کے لیے امریکا کے ساتھ رابطہ اور مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے چین کی 24 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا تھا اور مختلف شخصیات کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

امریکا کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں بحیرہ جنوبی چین میں تعمیرات اور فوجی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔

بحری امور پر امریکا کی جانب سے چین پر عائد کی گئیں یہ پابندیاں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سلامتی اور ٹیکنالوجی کے معاملات پر ایک عرصے سے کشیدگی جاری ہے جبکہ ہانگ کانگ سے لے کر سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے ناروا سلوک اور انسانی حقوق کے معاملات کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے معاملے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی اختیار کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکا کی جانب سے سفیروں پر پابندی، چین کی جوابی کارروائی کی دھمکی

امریکا نے گزشتہ ہفتے چینی سفارت کاروں پر پابندیاں متعارف کروائی تھیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ چینی سفارت کاروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ یونیورسٹیوں میں جانے یا مقامی عہدیداروں سے ملاقات سے قبل اجازت اور منظوری لیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقدامات چین میں امریکی سفارتکاروں پر پابندیوں کے جواب میں اٹھائے گئے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے سفیروں پر عائد پابندیوں کے خلاف مناسب اور ضروری ردعمل دیں گے۔

ہوا چون ینگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ چینی سفارت کاروں پر عائد پابندی بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا جوابی اقدام، امریکا کو چینگڈو میں قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

رپورٹ کے مطابق پومپیو کے اعلان کے بعد امریکا میں چین کے سفارت کاروں کو سفارت خانے یا قونصل خانے کے باہر 50 سے زائد افراد پر مشتمل کسی بھی ثقافتی تقریب میں شرکت کے لیے منظوری لینا ہو گی۔

مزید یہ کہ سفارت خانے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو چینی حکومت کے اکاؤنٹس کے طور پر شناخت کیا جائے گا۔

اس سے قبل رواں سال جولائی میں امریکا نے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں جوابی اقدام کے طور پر چین نے چینگڈو میں امریکی مشن کو بند کردیا تھا۔