وی چیٹ اور ٹک ٹاک عارضی طور پر امریکی پابندی کو ٹالنے میں کامیاب

20 ستمبر 2020

ای میل

— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

گزشتہ دنوں میں امریکا کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ امریکی صارفین پر ٹک ٹاک اور وی چیٹ ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے پر 20 ستمبر سے پابندی عائد ہوگی۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ تجارت نے حکم نامہ بھی جاری کیا تھا کہ اتوار سے صارفین ان ایپس کو ڈاؤن لوڈ نہیں کرسکیں گے۔

اس دوران وی چیٹ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی شرح میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 800 فیصد اضافہ ہوا۔

مگر اتوار کی سہ پہر تک دونوں ایپس اس پابندی کو ٹالنے میں کامیاب ہوگئی ہیں، کم از کم عارضی طور پر۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو بتایا تھا کہ وہ اوریکل، وال مارٹ اور ٹک ٹاک کے درمیان ہونے والے معاہدے سے مطمئن ہیں۔

مزید پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

اس کے بعد امریکی محکمہ تجارت نے ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈ پر پابندی کو ایک ہفتے کے لیے التوا میں ڈال دیا۔

دوسری جانب کیلیفورنیا کے ایک جج نے وی چیٹ پر پابندی کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹک ٹاک کا معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کے اصل مطالبے جیسا نہیں یعنی امریکا میں ٹک ٹاک کے تمام آپریشنز کو فروخت کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مگر اس نئے معاہدے کے تحت اوریکل ٹک ٹاک کا قابل اعتماد ٹیکنالوجی پارٹنر بن جائے گی اور امریکا کے تمام صارفین کے ڈیٹا کی میزبانی محفوظ کمپیوٹر سسٹمز میں کرے گی۔

ٹک ٹاک کے مطابق اوریکل اور وال مارٹ ٹک ٹاک گلوبل کے لیے سرمایہ کاری بھی کریں گی اور انہیں اس نئی کمپنی کے 20 فیصد حصے کی ملکیت حاصل ہوگی۔

ابھی اس معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور کچھ تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔

تمام فریقین کا کہنا ہے کہ نئی کمپنی کا ہیڈکوارٹر امریکا میں ہوگا اور 25 ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی، جبکہ معاہدے میں 5 ارب ڈالرز کا عطیہ امریکی تعلیم کے لیے دینے کی شرط بھی موجود ہے، جس نے ٹک ٹاک کی زیرملکیت کمپنی بائیٹ ڈانس کو حیران کیا۔

اور ہاں معاہدے کی منظوری کے لیے چینی حکومت کے دستخط بھی درکار ہوں گے اور ان سب عوامل کو دیکھتے ہوئے ٹک ٹاک پر پابندی کو 27 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

جہاں تک وی چیٹ کی بات ہے تو امریکا میں اس کا مستقبل زیادہ غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔

جج لورل بیلر نے اپنے حکم میں تحریر کیا کہ اگست میں وی چیٹ صارفین کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں ثابت کیا گیا کہ اس پابندی سے پہلی ترمیم کے دعوے کے میرٹ پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ وی چیٹ صرف کمیونٹی کے اندر رابطوں کے ذریعہ ہے اور یہ اس لیے بھی اہم کیونکہ امریکا میں دیگر ایپس پر پابندی ہے جبکہ انگلش سے ناواقف چینی افراد کے پاس اس کے علاوہ کوئی انتخاب نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ امریکی حکومت نے قومی سلامتی کے خطرات کا ذکر کیا ہے مگر ایسے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں جن سے ثابت ہو کہ یہ پابندی ان خدشات کو دور کرنے میں موثر ثابت ہوگی۔

امریکی محکمہ تجارت نے اس عدالتی حکم پر اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔