پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے متعدد افسران کو کرپشن اور فراڈ پر انکوائریز کا سامنا

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2020

ای میل

متعدد عہدیداران کو چند ماہ قبل شروع ہونے والی انکوائری یا جرم ثابت ہونے پر برطرف کردیا گیا ہے۔ نبیل انور:فائل فوٹو
متعدد عہدیداران کو چند ماہ قبل شروع ہونے والی انکوائری یا جرم ثابت ہونے پر برطرف کردیا گیا ہے۔ نبیل انور:فائل فوٹو

لاہور: پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پی ایل آر اے) کے متعدد عہدیداروں کو جعلی تصدیق نامے، جعلی ٹیکس اور میونسپلٹی فیس واؤچر/رسیدیں بنانے، بھاری رشوت وصول کرنے اور دیگر بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند مہینوں میں ان کے خلاف انکوائری شروع ہونے یا جرم ثابت ہونے کے بعد متعدد عہدیداروں کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔

پنجاب کے اعلی حکام، پی ایل آر اے انتظامیہ اور اس کے انٹیلی جنس ونگ اور دیگر متعلقہ افراد نے صوبے کے مختلف علاقوں میں لینڈ ریکارڈ مراکز میں غلط کاموں پر توجہ دینا شروع کی تھی جس کے بعد بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا تھا۔

عہدیداروں کو ان کے محکمے کے ساتھ ساتھ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اور احتساب (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت بھی تفتیش کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: رپورٹ کرپشن میں اضافے کی عکاسی نہیں کرتی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

سینئر حکام نے ڈان کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'تمام اضلاع میں پٹوار خانوں کو کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سینٹرز کے ساتھ تبدیل کرنے کا بنیادی مقصد کئی دہائیوں سے جاری پٹوار کلچر کو ختم کرنا اور بدعنوانی کا خاتمہ تھا تاہم آہستہ آہستہ اتھارٹی کو معلوم ہوا کہ مراکز میں تعینات افراد اور تعلیم یافتہ اہلکار زیادہ بدعنوان ہوچکے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس وقت ہوا جب سے ریونیو کے ریکارڈ کو جاری کرنے کے لیے بنائے گئے نظام (منتقلی) اور دیگر اراضی کی دستاویزات کو کوئی بیرونی یا تیسرا فریق چیک نہیں کرتا تھا۔

مزید برآں مرکز کے عملے کے خلاف بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے نگرانی اور آڈٹ کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہے۔

پی ایل آر اے کو پٹوار کلچر کو ختم کرنے کے لیے مؤثر، جوابدہ، مساوی اور محفوظ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ اور انفارمیشن سسٹم کے قیام کے لیے 2017 میں قائم کیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت کو پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق کم از کم گزشتہ چار مہینوں سے اتھارٹی اراضی ریکارڈ سینٹرز کے لیے مختلف انتظامی اور آپریشنل امور کے بارے میں بہت سخت دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گزشتہ سال پاکستان میں کرپشن بڑھی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 'جلال پور تحصیل پیر والا میں ارازی ریکارڈ سینٹر کے لینڈ ریکارڈ آفیسر (ایل آر او) ابوبکر، سروس سینٹر انچارج (ایس سی آئی) حافظ رانا محمد احمد، سروس سینٹر افسران (ایس سی او) سمیرا، منتظر مہدی اور شاہد حسین شاہد کے خلاف تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں 80 فیصد سے زائد جعلی فیس چالان جمع کروانے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ساہیوال تحصیل کے ایل آر او سید نیئر عباس اور ایس سی او اسد اقبال کو قیمتی اراضی کا نام شہری سے دیہی علاقے میں تبدیل کرنے پر برطرف کردیا گیا ہے۔

غیر قانونی منتقلی کو واپس کردیا گیا کیونکہ اس سے حکومت کو بہت بڑا مالی نقصان ہوا تھا۔