بلدیہ فیکٹری کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2020

ای میل

فیکٹری میں آتشزدگی سے 260 افراد جاں بحق ہوگئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
فیکٹری میں آتشزدگی سے 260 افراد جاں بحق ہوگئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کی تاریخ کے '9/11' یعنی سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس کا فیصلہ عدالت کی جانب سے سنا دیا گیا تاہم اس کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں کیا کچھ لکھا اسے کچھ عرصے قبل سندھ حکومت کی جانب سے منظر عام پر لایا گیا تھا۔

ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان علی خواجہ کی سربراہی میں 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے چار ٹرمز آف ریفرنس کے تحت پہلی جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں واقعے کی دوبارہ تحقیقات کی اور فیکٹری مالکان اور دیگر کے بیانات کے علاوہ واقعے کے سیاسی پہلو کا بھی جائزہ لیا۔

اس جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اعلیٰ عہدیدار حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگوائی۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ سنانے کیلئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیقات کے دوران ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا کہ اگست 2012 میں پارٹی کے معروف عہدیدار حماد صدیقی نے اپنے فرنٹ مین رحمٰن بھولا کے ذریعے علی انٹرپرائزز کے مالک سے 20 کروڑ روپے کا بھتہ مانگا۔

فیکٹری مالکان یہ معاملہ بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کے علم میں لائے جو انہیں اپنے بھائی ماجد بیگ کے ہمراہ عزیز آباد 90 لے گئے اور کے ٹی سی انچارج حماد صدیقی اور فاروق سلیم سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ فیکٹری مالکان ان کے حامی ہیں جبکہ بھتے کی رقم کے مطالبے سے متعلق بھی بات ہوئی۔

رضوان قریشی نے بتایا کہ اس موقع پر ان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور حماد صدیقی اور فاروق سلیم نے پارٹی پالیسی کا حوالہ دے کر مطالبے سے پیچھے ہٹنے سے صاف انکار کردیا۔

چند روز بعد حماد صدیقی نے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو معطل کردیا اور جوائنٹ سیکٹر انچارج رحمٰن بھولا کو سیکٹر انچارج بنا دیا جس کے بعد حماد صدیقی اور فاروق سلیم نے رحمٰن کو حکم دیا کہ وہ فیکٹری مالکان سے بھتے کی رقم وصول کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ رحمٰن بھولا نے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا اور ان کے انکار پر رحمٰن اور اس کے نامعلوم ساتھیوں نے 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری میں کیمیکل پھینکا جس سے آگ لگی۔

اگلے روز سی آئی ڈی پولیس نے بلدیہ ٹاؤن کے گجرات محلے میں اصغر اور ماجد کے گھر پر چھاپہ مارا اور ماجد کو گرفتار کیا، ایم کیو ایم (اے) کی جانب سے فیکٹری مالکان پر دباؤ ڈالا گیا جس کے باعث انہوں نے یہ بیان دیا کہ واقعے میں ماجد بیگ ملوث نہیں ہے۔

ملزم رضوان قریشی نے کہا کہ اس بیان پر سی آئی ڈی نے ماجد بیگ کو رہا کردیا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار کے حکم پر ایم کیو ایم (اے) کے سابق وزیر پولیس اسٹیشن گئے اور فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔

فیکٹری مالکان نے سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی لیکن سابق وزیر نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ان کی ضمانت منسوخ کروادی۔

اس کے بعد سابق وزیر اعظم نے فیکٹری مالکان کی پنجاب ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے میں مدد کی لیکن ایم کیو ایم (اے) کی مداخلت کے بعد، سابق وزیر اعظم معاملے سے پیچھے ہٹ گئے اور پارٹی کے اسی اعلیٰ عہدیدار کے نامعلوم فرنٹ مین نے، جو حکومت کا حصہ تھے، فیکٹری مالکان سے کیس واپس لینے کے لیے 15 کروڑ روپے وصول کیے۔

رضوان قریشی نے کہا تھا کہ انہیں یہ تمام معلومات بلدیہ ٹاؤن کے سابق سیکٹر انچارج سے ملیں۔

اس جے آئی ٹی نے دستیاب شواہد اور ماہرین کے رائے حاصل کرنے کے بعد کچھ سفارشات بھی پیش کی تھیں جو درج ذیل ہیں۔

جے آئی ٹی کی سفارشات

1۔ فیکٹری میں آتشزدگی کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گی جو تخریب کاری تھی اور جو فیکٹری مالکان کی جانب سے ایم کیو ایم (اے) کے رحمٰن بھولا اور حماد صدیقی کو 20 کروڑ روپے بھتہ اور منافع میں حصہ دار نہ بنانے پر لگائی گئی۔

2۔ واقعے سے 'غیر ذمہ دارانہ طریقے' سے نمٹا گیا اور کسی 'فائدے' کے لیے اسے اس طرح ہینڈل کیا گیا جس سے 'متاثرین' کے بجائے 'مجرمان' کو فائدہ پہنچا، واقعے کے مقدمے کا اندراج اور تحقیقات ناصرف بدنیتی پر مبنی تھی بلکہ اندرونی و بیرونی سطح پر اسے شدید دباؤ کا بھی سامنا تھا، ایف آئی آر میں واقعے کو پہلے ایک عام قتل کی طرح پیش کیا گیا پھر حادثے کی شکل دے دی گئی، جبکہ اس میں بھی اصل مجرمان کی بجائے فیکٹری مالکان اور اس کی انتظامیہ کو شامل کیا گیا۔

واقعے کی جس طرح تحقیقات کی گئی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس 'زیر اثر' تھی، اس لیے مقدمے اور پہلی تحقیقات میں کہیں بھتے کا ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ جے آئی ٹی کا ماننا ہے کہ یہی اس دردناک واقعے کی بنیادی وجہ تھی۔

3۔ تحقیقاٹی ٹیم کی طرف سے ریاست سے 2012 کی ایف آئی آر واپس لیتے ہوئے تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی قانون کی متعلقہ شقوں کے تحت رحمٰن بھولا، حماد صدیقی، زبیر عرف چریا، زبیر کے چار نامعلوم ساتھیوں، عمر حسان قادری، ڈاکٹر عبدالستار، علی حسان قادری اور اقبال ادیب خانم کے خلاف نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی۔

4۔ تحقیقاتی ٹیم نے محمد زبیر سے واقعے میں اس کے کردار کے متعلق تحقیقات کی کوشش کی کیونکہ تمام شواہد واقعے میں اس کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں جے آئی ٹی نے سعودی عرب میں موجود محمد زبیر کے والد محمد نذیر کو تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا، تحقیقات میں مزید پیشرفت کا محمد زبیر سے تفتیش پر بہت انحصار ہے جو پہلے ہی ملک سے فرار ہے اور اس کے پاسپورٹ کی منسوخی لے لیے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو تین خطوط بھی لکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: کب کیا ہوا؟

5۔ رپورٹ میں محمد زبیر کو ملک واپس لانے اور گرفتار کرنے کی سفارش کی گئی۔

6۔ تمام مفرور ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے اور ان کے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالے کی سفارش کی گئی۔

7۔ کیس کے تمام گواہان کو متعلق قانون کے تحت تحفظ فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔

8۔ بھتے کی رقم سے حیدر آباد میں خریدی گئی جائیداد قانونی طریقے سے فیکٹری مالکان کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔